اسلام آباد (شہزادخان/سٹیٹ ویوز)حکومتِ پاکستان کی جانب سے مارچ میں متوقع 5G اسپیکٹرم آکشن کی تیاریوں کے دوران آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو مکمل طور پر نظرانداز کرنا محض غفلت نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا اور بدنیتی پر مبنی فیصلہ ہے، جو ان خطوں کے عوام کے ساتھ کھلی ناانصافی اور ڈیجیٹل استحصال کے مترادف ہے۔ وفاقی حکومت نے جدید ٹیکنالوجی کے اس قومی منصوبے سے دونوں خطوں کو باہر رکھ کر ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان اس کے نزدیک دوسرے درجے کے شہری ہیں۔
جب پورا پاکستان 5G انقلاب کے خواب دیکھ رہا ہے، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو جان بوجھ کر فرسودہ، ناکام اور تباہ حال کمیونیکیشن نظام کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اس مجرمانہ فیصلے کے نتیجے میں آزاد کشمیر کم از کم آئندہ دس سال مزید ڈیجیٹل ترقی سے محروم ہو جائے گا، جس کی براہِ راست ذمہ داری وفاقی حکومت اور موجودہ حکمران ٹولے پر عائد ہوتی ہے۔
انتہائی شرمناک پہلو یہ ہے کہ ایک طرف وزیر امور کشمیر اور دیگر وفاقی وزرا عوامی ایکشن کمیٹی سے ملاقاتوں میں ڈھٹائی کے ساتھ یہ دعوے کرتے رہے کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں انٹرنیٹ کی رفتار بہتر بنائی جائے گی، جبکہ دوسری طرف 5G اسپیکٹرم آکشن سے ان علاقوں کو خارج کر کے ان تمام وعدوں کو خاک میں ملا دیا گیا۔ یہ رویہ عوام کے ساتھ صریح دھوکہ، سیاسی منافقت اور دوغلی پالیسی کا ناقابلِ تردید ثبوت ہے۔
حکومت آزاد کشمیر کی جانب سے بارہا تحریری اور زبانی یاد دہانیوں کے باوجود پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) اور وفاقی وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی نے مجرمانہ خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ اس سے بھی زیادہ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ حکومت آزاد کشمیر اس پورے معاملے میں مکمل طور پر بے اختیار، بے بس اور تماشائی بنی ہوئی ہے، جو اپنے عوام کے بنیادی ڈیجیٹل حقوق کے تحفظ میں بدترین ناکامی کا مظاہرہ کر چکی ہے۔
ادھر عوامی ایکشن کمیٹی مسلسل اس حقیقت کی نشاندہی کرتی آ رہی ہے کہ گزشتہ سال 29 ستمبر کی احتجاجی کال کے بعد آزاد کشمیر بھر میں دانستہ طور پر انٹرنیٹ کی رفتار انتہائی حد تک سست کر دی گئی، جس کے تباہ کن اثرات آج تک برقرار ہیں۔ تعلیمی نظام مفلوج، آن لائن کاروبار تباہ، فری لانسنگ کا شعبہ برباد اور نوجوانوں کے روزگار کے مواقع بری طرح متاثر ہو چکے ہیں، مگر ذمہ دار ادارے بے حسی، غرور اور لاتعلقی کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔
سیاسی، سماجی اور عوامی حلقوں نے واضح اور سخت الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ اگر آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو فوری طور پر 5G اسپیکٹرم آکشن میں شامل نہ کیا گیا اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے عملی اور ہنگامی اقدامات نہ کیے گئے تو عوامی غصہ خطرناک حد تک بڑھ سکتا ہے۔ ان خطوں کو دانستہ طور پر ڈیجیٹل پسماندگی میں دھکیلنے کی اس ظالمانہ پالیسی کو کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا اور اس کے سنگین نتائج کی تمام تر ذمہ داری وفاقی حکومت پر عائد ہوگی.