آزاد کشمیر کے ضلع باغ سے تعلق رکھنے والے باصلاحیت نوجوان کرکٹر نجم نصیر کیانی نے عالمی سطح پر ایک اور بڑی کامیابی حاصل کر لی ہے۔ نجم نصیر کیانی کو امریکہ میں منعقد ہونے والی گلوبل کرکٹ لیگ (Global Cricket League USA) کے لیے منتخب کر لیا گیا ہے، جو کہ آزاد کشمیر اور بالخصوص ضلع باغ کے لیے فخر کی بات ہے۔
نجم نصیر کیانی کا تعلق ضلع باغ، آزاد جموں و کشمیر کے گاؤں ہمموہرا سے ہے۔ وہ بائیں ہاتھ کے جارحانہ بلے باز اور لیفٹ آرم آرتھوڈوکس اسپن بولر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ کرکٹ کے میدان میں ان کی محنت لگن اور مستقل مزاجی نے انہیں ملکی و بین الاقوامی سطح پر پہچان دلائی۔نجم نصیر کیانی نے اپنے کرکٹ کیریئر کا آغاز آزاد جموں و کشمیر ریجن کی انڈر 16 اور انڈر 19 ٹیموں سے کیا۔
بعد ازاں وہ ریجنل فرسٹ کلاس ٹیم کا حصہ بھی رہے۔ ان کی صلاحیتوں کا اعتراف اس وقت مزید ہوا جب انہیں پاکستان انڈر 19 نیشنل کرکٹ اکیڈمی کیمپ میں شرکت کا موقع ملا۔وہ لاہور قلندرز پلیئر ڈیولپمنٹ پروگرام (PDP) کا بھی حصہ رہے، جہاں انہوں نے اعلیٰ کوچز اور قومی و بین الاقوامی کھلاڑیوں سے سیکھنے کا موقع حاصل کیا۔
اس کے علاوہ انہوں نے کشمیر پریمیئر لیگ (KPL) میں جموں جانباز کی نمائندگی کی، جہاں انہیں شاہد خان آفریدی جیسے لیجنڈری کرکٹر کی سرپرستی حاصل رہی۔ اس دوران انہوں نے فہیم اشرف، شہزادہ فرحان، کامران اکمل، سرفراز احمد اور محمد عامر جیسے نامور کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلنے کا اعزاز بھی حاصل کیا۔نجم نصیر کیانی نے سکھر پیٹریاٹس (SPL) کی نمائندگی کی۔ گریڈ ٹو کرکٹ میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا اور اب عالمی سطح پر گلوبل کرکٹ لیگ یو ایس اے میں شمولیت اختیار کر کے ایک نیا سنگِ میل عبور کر لیا ہے۔
گلوبل کرکٹ لیگ یو ایس اے ایک پروفیشنل ٹی ٹوئنٹی لیگ ہے جسے USA Cricket اور انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (ICC) کی منظوری حاصل ہے۔ یہ لیگ 23 جنوری سے 1 فروری 2026 تک براورڈ کاؤنٹی کرکٹ اسٹیڈیم، فلوریڈا میں کھیلی جائے گی، جبکہ ٹیموں کی آمد اور تیاریوں کا آغاز 16 جنوری سے ہو جائے گا۔ لیگ میں امریکہ کے بڑے شہروں کی نمائندگی کرنے والی چھ فرنچائزز شامل ہیں اور اسے دنیا بھر میں براہِ راست نشر کیا جائے گا۔
نجم نصیر کیانی کی اس کامیابی پر اہلِ علاقہ، کرکٹ شائقین اور کھیلوں سے وابستہ حلقوں نے خوشی کا اظہار کیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ وہ عالمی سطح پر اپنی کارکردگی سے نہ صرف آزاد کشمیر بلکہ پاکستان کا نام روشن کریں گے۔یہ کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ آزاد کشمیر کے دور دراز علاقوں میں بھی ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں، بس مواقع ملنے کی ضرورت ہے۔