ممبئی: آنجہانی گلوکارہ لتا منگیشکر کو ایک مرتبہ زہر دے کر قتل کرنے کی کوشش کی گئی تھی جس کے بعد وہ 3 ماہ تک شدید علیل رہیں۔
بھارتی میڈیا نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ بُلبلِ ہند لتا منگیشکر کی موت کے بعد کئی راز کھلے جس میں ایک راز یہ بھی تھا کہ ان کی زندگی میں انہیں ایک مرتبہ زہر بھی دیا جا چکا تھا۔
مصنفہ نسرین مُنی کبیر کی کتاب ’لتا منگیشکر اِن ہَر اون وائس‘ میں آنجہانی گلوکارہ نے انکشاف کیا کہ 1962 میں وہ بےحد بیمار پڑ گئیں تھیں اور 3 ماہ تک گائیکی بھی نہیں کر سکی تھیں۔
گلوکارہ نے کتاب میں لکھا کہ ایک صبح جب وہ سوکر اُٹھیں تو ان کے پیٹ میں شدید درد تھا اور انہیں ہری ہری قے ہوئی جس کے بعد ڈاکٹر کو گھر بلایا گیا تو معلوم ہوا کہ انہیں ’سلو پوائزن‘ کھانے میں زہر ملا کر دیا گیا ہے۔
گلوکارہ نے بتایا کہ ان کی بہن اُوشا منگیشکر کو شک ہوا کہ کوئی گھر کا ملازم یا باورچی اس کام میں ملوث ہو سکتا ہے اس لئے انہوں نے میرا کھانا بنانے کی ذمہ داری خود پر لے کر ملازموں کو مجھ سے دور رہنے کو کہا۔