اسلام آباد وائلڈ لائف بورڈ میں میگا کرپشن اسکینڈل، اداروں کے لئے ٹیسٹ کیس

122

اسلام آباد پریس کلب میں منعقدہ ایک اہم اور تہلکہ خیز پریس کانفرنس میں اسلام آباد وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ کے سابق ڈائریکٹر ڈاکٹر طارق محمود بنگش نے بورڈ کی سابق چیئرپرسن رعنا سعید اور بورڈ ممبر وقار زکریا کے خلاف مالی بدعنوانی، اختیارات کے ناجائز استعمال، غیر قانونی خریداری، غیر ملکی فنڈز کے غلط استعمال اور جانوروں کی غیر قانونی منتقلی سمیت نہایت سنگین الزامات عائد کر دیے۔

ڈاکٹر طارق بنگش نے انکشاف کیا کہ ان الزامات پر وفاقی تحقیقاتی ادارہ (FIA) باقاعدہ تحقیقات کر رہا ہے اور اس سلسلے میں FIR نمبر 87/2025 درج کی جا چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ رعنا سعید نے پہلے مرحلے میں FIA کو تحقیقات سے روکنے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے سٹے حاصل کرنے کی کوشش کی، جس کے باعث تحقیقات تقریباً چھ ماہ تک تعطل کا شکار رہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ جب تحقیقات دوبارہ شروع ہوئیں اور FIR درج ہو گئی تو FIR خارج کرانے کے لیے معروف وکیل سلمان صفدر کی خدمات حاصل کی گئیں، تاہم معزز عدالت نے یہ درخواست بھی مسترد کر دی اور نامزد افراد کو FIA سے تعاون کرنے کا حکم دیا۔

ڈاکٹر طارق بنگش کا کہنا تھا کہ اگر رعنا سعید اور دیگر نامزد افراد کے ہاتھ واقعی صاف ہیں تو انہیں عدالتی سٹے، قانونی موشگافیوں اور مختلف ہتھکنڈوں کے پیچھے چھپنے کے بجائے FIA کے سامنے پیش ہو کر شواہد دینا چاہئیں اور خود کو بے گناہ ثابت کرنا چاہیے۔

پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ درج FIR میں رعنا سعید پر غیر قانونی خریداری، بدعنوانی، اختیارات کا ناجائز استعمال، عید اعزازیہ اور دیگر مراعات کی غیر قانونی ادائیگی، بورڈ ممبران کی جانب سے غیر ملکی فنڈز کی ذاتی اکاؤنٹس میں منتقلی اور غیر ملکی کرنسی اکاؤنٹس کے ناجائز استعمال جیسے سنگین الزامات شامل ہیں۔

سابق ڈائریکٹر نے انکشاف کیا کہ مرغزار چڑیا گھر کو ایک منظم سازش کے تحت بند کیا گیا اور وہاں موجود قیمتی پرندے، ہرن اور دیگر جانور ذاتی مفادات کے تحت من پسند افراد میں تقسیم کیے گئے۔ اس معاملے میں اس وقت کے چیئرمین ڈاکٹر انیس، رعنا سعید، وقار زکریا اور کنٹریکٹ ملازمین سخاوت علی اور ظہیر احمد کے کردار کو مشکوک قرار دیا گیا۔

ڈاکٹر طارق بنگش کے مطابق سخاوت علی کو انہی خدمات کے صلے میں پہلے ریگولر ڈپٹی ڈائریکٹر اور بعد ازاں ڈائریکٹر کا چارج دیا گیا، جبکہ ظہیر احمد کو بھی مستقل کر کے نوازا گیا، تاکہ تمام بے ضابطگیوں پر پردہ ڈالا جا سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مرغزار چڑیا گھر کی بندش کو سوشل میڈیا پر “سکسیس اسٹوری” بنا کر رعنا سعید اور وقار زکریا نے اپنی ذاتی NGOs اور اداروں کے نام پر بھاری ڈونیشنز حاصل کیں اور انہیں من پسند افراد میں تقسیم کیا۔

مارگلہ ریسکیو سینٹر کے حوالے سے ڈاکٹر طارق بنگش نے الزام عائد کیا کہ یہ مرکز دراصل جانوروں کے کلینک مافیا کا حصہ تھا، جس کے ذریعے صحت مند جانوروں کو بیمار اور زخمی ظاہر کر کے عالمی سطح پر کروڑوں ڈالر کی ڈونیشنز اکٹھی کی گئیں۔ کاؤن ہاتھی اور براؤن بیئر کی بیرونِ ملک منتقلی اور Four Paws نامی NGO کا استعمال بھی اسی سلسلے کی کڑیاں قرار دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ FIA نے نہ صرف لاہور میں جانوروں کے کلینک مافیا کے خلاف کارروائیاں کیں بلکہ اسلام آباد وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ کے بعض افراد کے ذاتی اکاؤنٹس میں بھاری رقوم کے لین دین کے ٹھوس شواہد بھی اکٹھے کیے، جس کے بعد FIR درج کی گئی۔

پریس کانفرنس میں تجاوزات کے نام پر ہونے والی مبینہ انتقامی کارروائیوں پر بھی سخت تنقید کی گئی۔ ڈاکٹر طارق بنگش کے مطابق مارگلہ ہلز نیشنل پارک میں 150 سے زائد تجاوزات موجود ہونے کے باوجود صرف La Montana اور Monal کو ذاتی پسند و ناپسند اور سوشل میڈیا پوائنٹ اسکورنگ کی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں قومی اثاثے تباہ، درجنوں کاروبار بند اور سینکڑوں خاندان بے روزگار ہو گئے۔

آخر میں ڈاکٹر طارق محمود بنگش نے اعلان کیا کہ وہ آئندہ پریس کانفرنس میں مزید شواہد اور حقائق منظرِ عام پر لائیں گے اور یہ بھی بتائیں گے کہ اسلام آباد وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ کو اس کے اصل مینڈیٹ کے مطابق شفاف، منصفانہ اور قانون کے دائرے میں کیسے لایا جا سکت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں