انسانی سمگلنگ کااہم سرغنہ ملک شہزادقانون کی گرفت سے آزاد،متعلقہ ادارےبے بس

34

راولپنڈی/اسلام آباد(شہزاد خان/سٹیٹ‌ویوز)جڑواں شہروں کی پولیس، ایف آئی اے اور دوسرے قانون نافذ کرنے والے ادارے بدنام زمانہ “انسانی سمگلر” ملک شہزاد سکنہ روپڑ کلاں، چک بیلی خان کو گرفتار کرنے میں بُری طرح ناکام ،قانون کی گرفت سے آزاد ملک شہزاد جسم فروشی کے دھندے کا بے تاج بادشاہ بن گیا.

تفصیلات کے مطابق ملک شہزاد،جس نے جعلی نام شہزادہ خان کے نام سے مشکوک یونانی پاسپورٹ بھی بنوا رکھا، پاکستان سے جوان سال پاکستانی و افغانی خوبصورت لڑکیوں کو مبینہ طور پر جعلی ویزوں پر ہوائی و خشکی کے راستے ترکی بجھواتا ہے .

ترکی سے شہزادہ خان ان لڑکیوں کو غیر قانونی طریقے سے یونان پہنچاتا ہے جہاں پر یا تو یہ لڑکیاں ڈرگ مافیا کے ہاتھوں فروخت کر دیتا ہے یا پھر ان سے جسم فروشی کروائی جاتی ہے

اور جو لڑکیاں شہزادہ خان کو پندرہ سے بیس ہزار یوروز ادا کرتیں انھیں شہزادہ خان اپنے گروہ کے زریعے لانچ کے زریعے غیر قانونی طور پر اٹلی اور فرانس میں داخل کرواتا ہے

حال ہی میں شہزادہ خان نے یونان میں پھنسی لاتعداد لڑکیوں، جن میں پاکستانی، افغانی، شام، جرمن اور دوسرے ممالک کی لڑکیاں شامل ہیں کو اٹلی فرانس پہنچانے لیے سے ایک لاکھ سے زائد یوروز وصول کیے اور پاکستان بھاگ آیا

شہزادہ خان نے اپنے بیٹے عارف کے ہمراہ مورخہ 18 اپریل کو روپڑ کلاں میں سیالکوٹ اور اسلام آباد سے آئے ہوئے متائثرہ immigrants کے رشتہ داروں پر رقم واپسی کے تنازعہ پر کلاشنکوف سے فائرنگ کر کے پرویز اور رضوان الحق کو زخمی کر دیا جبکہ دونوں باپ بیٹا جرم کرنے کے بعد موقع سے فرار ہیں.زخمیوں کی درخواست پر ملزمان خلاف تھانہ چونترہ میں اقدام قتل کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے.

اس حوالے سے ایس ایچ او تھانہ چونترہ انسپکٹر ملک نعیم سے موقف لیا گیا تو انہوں نے واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے ملزمان کی جلد گرفتاری کی یقین دہانی کرائی ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ پولیس ملزموں کو گرفتار کرنے کے لیے ایف آئی اے کی مدد بھی لینے پر غور کرے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں