اور اب جامعہ سراج العلوم

83

تحریر:محمد شہباز
سال 2019میں جماعت اسلامی مقبوضہ جموں و کشمیر کو غیر قانونی قرار دیا جاتا ہے اور ساتھ ہی اس کے سینکڑوں تعلیمی ادارے جو کہ فلاح عام ٹرسٹ کے نام مشہور ہیں،تحویل میں لیے جاتے ہیں۔ ان تعلیمی اداروں میں ایک لاکھ سے زائد طلباو طالبات زیور علم سے آراستہ ہوتے ہیں البتہ جب کسی قوم کو اس کی بنیادی اساس سے محروم کرنا مقصود ہو تو سب سے پہلے اس پر تعلیمی جارحیت مسلط کرکے علم کے نور سے بیگانہ کیا جاتا ہے۔مودی اور اس کے حواری اسی پالیسی پر شد ومد سے عمل پیرا ہیں،18اپریل کو فلاح عام ٹرسٹ ادارے کے زیر انتظام چلنے والے مزید 58 اسکولوں کو اپنی تحویل میں لے لیا گیا ہے۔قابض انتظامیہ نے ان 58 اسکولوں کو قبضے میں لینے کے حوالے سے ایک حکمنامہ بھی جاری کیا۔مقبوضہ جموں وکشمیر کے محکمہ سکول ایجوکیشن کے ایک افسر نے بتایا کہ یہ 58سکول جماعت اسلامی یا اس سے وابستہ فلاح عام ٹرسٹ سے بالواسطہ یا بالواسطہ طور پر منسلک پائے گئے۔ تحویل میں لیے گئے تمام سکولوں میں سرکاری عملہ تعینات بھی کر دیا گیا ہے۔ جماعت کے ان اداروں میں پچیس ہزار سے زائد اساتذہ اور دوسرا عملہ درس و تدریس کے فرائض انجام دیتا تھا۔ ایک لاکھ بچوں کا مسقتبل پہلے ہی تاریک بنایا گیا اور ہزاروں لوگوں کا روز گار بھی ان سے چھین لیا گیا۔اسی پر بس نہیں کیا گیا۔اب جنوبی کشمیر کے امام صاحب شوپیاں میں معروف دینی درسگاہ جامعہ سراج العلوم کو غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون UAPAکے تحت غیر قانونی قرار دے دیکر اسے سیل کردیا گیا ہے۔اس ادراے میں اسوقت اٹھ سو بچے اور بچیاں زیر تعلیم تھے۔جو مختلف مضامین میں یکم سے لیکر بارہویں جماعت تک اپنی صلاحیتوں کا لوہا منواتے تھے۔

یہ مذکورہ ادارہ آج تک کئی ڈاکٹر،انجینئر،پروفیسر اور دوسرے شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے باصلاحیت افراد پیدا کرچکا ہے جو اپنا نام کماچکے ہیں ۔دارالعلوم جامعہ سراج العلوم کو غیر قانونی قرار دینے کیلئے اس پر جماعت اسلامی یا فلاح عام ٹرسٹ کیساتھ وابستہ قرار دیا گیا ہے۔تاکہ کشمیری بچوں کو تعلیم کے نور سے منور کرنے والے ادارے پر پابندی اور اسے غیر قانونی قرار دینے کے اقدام یا جواز کو درست ٹھہرایا جاسکے۔جیسا کہ بھارت اور مقبوضہ جموں وکشمیر میں اس کے حواری اکثر ایسا کرتے آئے ہیں،جس میں شیخ عبداللہ خاندان پیش پیش ہے کیونکہ ماضی میں بھی جماعت اسلامی پابندیوں کی زد میں رہی ہے.جماعت اسلامی مقبوضہ جموں وکشمیر پر باضابطہ طور پر پہلی بڑی پابندی 1975 میں ایمرجنسی کے دوران شیخ عبداللہ کے دور میں لگائی گئی تھی۔عبداللہ خاندان کو جماعت کیساتھ اللہ واسطے کا بیر ہے،کیونکہ شیخ عبداللہ خاندان جو کہ بھارتی رنگ میں رنگ چکا ہے، اپنی لادینی فکر کو مقبوضہ جموں وکشمیر میں رائج کرنے میں جماعت اسلامی کو بڑی رکاوٹ سمجھتا ہے۔اس کے بعد 1990 میں بھی پابندی عائد کی گئی اور حالیہ دور میں 28 فروری 2019 کو بھارتی وزارت داخلہ نے اس پر دوبارہ پابندی عائد کی۔ فروری 2019 میں عائد کی گئی 5 سالہ پابندی میں مزید توسیع کرتے ہوئے اسے فروری 2024 میں آئندہ پانچ برسوں کیلئے بڑھا دیا گیا ہے،جو ہنوز جاری ہے۔ امیر جماعت اسلامی ڈاکٹر عبدالحمید فیاض اور ترجمان ایڈووکیٹ زاہد علی لون سمیت اسکے متعدد رہنما گزشتہ کئی برسوں سے بھارتی جیلوں میں قید وبند کی صورت میں وہ قرض بھی چکا رہے ہیں،جو ان پر واجب بھی نہیں تھا۔مقبوضہ جموں وکشمیر میں جماعت اسلامی سیاسی، سماجی،فلاحی اور تعلیمی اداروں کو پروان چڑھانے میں پیش پیش رہی ہے.

جس نے نسلوں تک بچوں اور نوجوانوں کو معیاری تعلیم، دینی تربیت اور اخلاقی اقدارسے روشناس کرایا ہے۔ یہ جماعت نہ صرف سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لیتی رہی ہے بلکہ معاشرتی خدمات اور تعلیمی شعبے میں نمایاں کردار بھی ادا کرتی رہی ہے۔جماعت اسلامی کے تعلیمی ادارے نہ صرف علم و تربیت کے مراکز ہیں بلکہ سماجی یکجہتی، اخلاقی تربیت اور کمیونٹی سروس کیلئے بھی معروف ہیں۔ان اداروں میں اسکول کی سطح سے لے کر دینی مدارس تک، طلباءکو اجتماعی سرگرمیوں، تحقیق اور سماجی خدمت کی تربیت دی جاتی ہے۔1990 کی دہائی میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں عسکری جدوجہد کے آغاز کیساتھ ہی جماعت اسلامی دوبارہ پابندیوں کا شکار ہوئی۔ جماعت کے دفاتر بند کیے گئے، رہنماوں کو حراست میں لیا گیا اور جماعت کے زیر انتظام اسکولوں کی سرگرمیاں محدود کردی گئیں۔یہ اقدامات واضح طور پر ایک تعلیمی جارحیت کے مترادف ہیں، جس کا مقصد مقبوضہ جموں وکشمیر کی نئی نسل کو علم اور تربیت کے بنیادی وسائل سے محروم کرنا ہے۔تعلیمی اداروں پر قابض ہو کر نیشنل کانفرنس کی حکومت نے علم کی روشنی کو محدود کیا اور جماعت اسلامی کے سماجی اور تعلیمی اثرات کو بے حد نقصان پہنچایا۔یقینی طور پر تعلیم وتربیت کے مواقع محدود ہونے سے کشمیری نوجوانوں کے مستقبل پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔اس کیساتھ ساتھ معاشرتی شعور، اخلاقی تربیت اور کمیونٹی سروس کی روایت بھی کمزور پڑیں۔کیونکہ تعلیمی اداروں کا وجود مقامی کمیونٹی کے اہم مراکز میں ہوتا ہے، اور ان کی بندش سے سماجی رابطے اور کمیونٹی سروس بھی محدود ہوتی ہیں اور پھر برسوں اس نقصان کا ازالہ نہیں ہوتا۔فلاح عام ٹرسٹ اور جماعت اسلامی جموں وکشمیر کے زیر انتظام تعلیمی ادارے، جو کئی دہائیوں سے معاشرتی ترقی کا محور تھے، اب محدود وسائل کےساتھ کام کرنے پر مجبور ہیں۔

جامعہ سراج العلوم ہو یا مقبوضہ جموں وکشمیر میں دوسرے دینی اور فلاحی ادارے ہوں، کئی دہائیوں سے کشمیری نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم فراہم کرتے رہے۔کیونکہ فلاح عام ٹرسٹ کے تحت چلنے والے اسکول کم آمدنی والے خاندانوں کے بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کرتے تھے، جن میں طلباءکی تعداد لاکھوں میں تھی۔اسی طرح اساتذہ اور عملہ طلباء کی علمی اور اخلاقی تربیت میں کلیدی کردار ادا کرتے تھے، اور ان کے ذریعے معاشرے میں مثبت اثر پیدا ہوتا تھا۔جو بھارت اور اس کے حواریوں کو کھٹکتا ہے۔کیونکہ بھارت نواز بخوبی اس بات سے باخبر ہیں کہ تعلیم اور فلاحی کاموں کے میدان میں جماعت کا مقابلہ ان کے بس کا کام نہیں ہے لہذا پابندیوں کے نام پر جماعت اسلامی یا کسی اور جماعت ،ادارہ و افراد کا گلا گھونٹنا نسبتا آسان ہے اور وہ بھی ان حالات میں جب اللہ کی زمین پر اللہ کی کبریائی کا ڈنکا بجانے والوں کیلئے زمین پہلے سے تنگ کی جاچکی ہو۔ حالات کا جبر پوری قوت سے نافذ ہے اور پھر انہی حالات میں خود کو کشمیری معاشرے کیلئے کار آمد اور مفید بنانا یہ کار دار والا معاملہ ہے۔جس عظیم شخص سید مودودی نے اس جماعت کی بنیاد اور اٹھان رکھی ہو،اس جماعت کیساتھ وابستہ لوگ کب ان پابندیوں کو پہلے خاطر میں لائے یا اب لائیں گے،کیونکہ ریاست کا آئین ہر کشمیری کو اپنے مذہب پر عمل پیرا ہونے کی کھلی چھوٹ دیتا ہے اور یہ کوئی غیر قانونی یا خلاف آئین کام یا اقدام بھی نہیں ہے۔انسانی حقوق کا عالمی چارٹر بھی قطعی طور اس کی ممانعت نہیں کرتا۔

یہ بات واضح رہے کہ جماعت اسلامی کا قیام برصغیر میں ایک مذہبی اور سماجی تحریک کے طور پر ہوا، جس کا مقصد تعلیم، فلاح و بہبود اور اسلامی اصولوں پر مبنی معاشرتی ترقی ہے۔مقبوضہ جموں وکشمیر میں جماعت اسلامی کی تاریخ پابندیوں، اس پر مسلط تعلیمی جارحیت اور سماجی خدمات کی داستان سے بھری پڑی ہے۔1975،1990 اور 2019کی پابندیاں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں سیاسی اور تعلیمی آزادی کو محدود کرنے کیلئے جماعت اسلامی کو بارہا نشانہ بنایا گیا۔ اس کے باوجودجماعت اسلامی کے تعلیمی ادارے آج بھی کشمیری بچوں کیلئے علم و تربیت کے مشعل راہ ہیں، اور ان کی خدمات قابلِ قدر اور غیر معمولی ہیں۔جامعہ سراج العلوم کو غیر قانونی قرار دینے کا بھارتی اقدام پورے مقبوضہ جموں وکشمیر میں تمام شعبہ ہائے زندگی کیساتھ وابستہ افراد میں نفرت اور غم وغصے کا باعث بن چکا ہے۔اپنے تو اپنے بھارت نواز سیاست کے دلداہ بھی اس اقدام پر پھٹ پڑے اور انہوں نے اس اقدام کو تانا شاہی سے تعبیر کیا ہے،جبکہ سوشل میڈیا پر ایک طوفان برپا ہے اور کشمیری نوجوان یہ سوال اٹھانے سے کسی طور پر نہیں ہچکچاتے ہیں کہ یہی بھارتی اقدام کشمیری نوجوانوں کو بھارت کے خلاف مسلح جدوجہد یا بندوق اٹھانے پر مائل بہ آمادہ کرتے ہیں ،اللہ تعالی ہر شر میں سے خیر کا پہلو نکالتا ہے۔ یقینا آنے والے وقت میں جامعہ سراج العلوم پھر ایکبار اسی آب و تاب کیساتھ جگمائے گا ،جس کیلئے یہ ادارہ معرض وجودمیں آیا اور پھر علم کی پیاس بجانے میں کوئی ثانی نہیں رکھتا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں