جہاد کشمیر کے عہد ساز جرنیل کمانڈر سبزار احمد بٹ اور ان کے ساتھی کا ساتواں یوم شہادت

87

اسلام کے مایہ ناز سرفروشوں ، اسلامیان کشمیر کے دلوں کی دھڑکن ، حزب المجاہدین کے شیردل و نامور کمانڈر سبزار احمد بٹ اور ان کے ساتھی فیضان احمد کا آج ساتواں یوم شہادت ہے۔ دونوں سرفروش آج ہی کے روز 2017 میں سائمو ترال میں قابض بھارتی ا فواج کے خلاف ایک خونریز معرکے میں شجاعت و بہادری کی ناقابلِ فراموش داستاں رقم کرتے ہوئے مرتبہ شہادت سے سرفراز ہوئے تھے .

اِس معرکہ آرائی میں مجاہدین کو محاصرے سے نکلنے میں مدد دینے کیلئے عام نوجوانوں نے قابض بھارتی فوجیوں پر کئی گھنٹوں تک پتھراو کیا تھا ، تو بھارتی فوجیوں کی جوابی فائرنگ میں ایک سترہ سالہ نوجوان شہید ہوا تھا۔ کمانڈر سبزار بٹ افسانوی شہرت کے حامل شہید برہان وانی کے قریبی رفقا میں سے تھے جنہوں نے جنوبی کشمیر کے ترال اور اس سے ملحقہ علاقوں میں عسکری تحریک کی آبیاری کیلئے شب و روز محنت کی اور تحریک آزادی کشمیر کو اوج کمال تک پہنچایا۔

شہید سبزار اپنی پرکشش شخصیت اور مجاہدانہ انداز کی وجہ سے کشمیری عوام میں بے پناہ مقبول تھے اور ان کی دعوتِ جہاد پر لبیک کہتے ہوئے بڑی تعداد میں کشمیری نوجوان قابض دشمن بھارت کیخلاف جدوجہد کا حصہ بنے۔ بزدل ظالم ا فواج اِن سے خائف و ہراساں تھی۔ آج ان عظیم شہدا کو پرنم آنکھوں کیساتھ خراجِ عقیدت پیش کیا جارہا ہے۔ اِن سرفروشان اسلام کی انمول قربانیاں اہل کشمیر کیلئے مشعلِ راہ ہیں۔ آج یہ عہد کرنے کا دن ہے کہ ان عظیم شہدا کے نقش قدم پر چلتے ہوئے آخری دم تک جدوجہد آزادی جاری رکھی جائے گی۔

واضح رہے کہ سبزار احمد بٹ شہید برہان وانی کے بعد مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری مسلح تحریک آزادی کے روح رواں سمجھے جاتے تھے۔ وہ کافی عرصہ تک بھارتی ا فواج کیلئے چھلاوہ بنے ہوئے تھے۔ وہ کئی مرتبہ قابض بھارتی فوجیوں کے محاصرے سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوئے تھے۔ بالاخر 27مئی2017 میں ایک خونریز میں اپنے ساتھی سمیت جام شہادت نوش کرگئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں