تحریر: شیر علی شاہد
26 جولائی کو مجھ پر یہ حکم اعلیٰ وارد ہوا کہ میرے فراغت کے دنوں میں مجھے کچھ مثبت مشق میں خود کو صرف کرنا چاہیے۔ حکم کی تکمیل اکثر فرض ہوا کرتی ھے اور حکم اعلیٰ میں ہی غازی ملت کا ذکر کیا گیا۔ 31 جولائی سردار ابراہیم خان کی وفات کا دن ہے اور اس دن جہاں کہیں بھی کشمیری آباد ہیں وہاں بانی کی برسی منائی جاتی ہے اگر برسی نہیں تو کچھ بائیں بازو کے دوست تنقید کا شغل اختیار کرتے ھیں تاہم اس دن کی وساطت ،مون سون کی شورش اور میری فراغت نے مجھے مجبور کیا کہ آخر غاری صاحب کے بچپن اور تعلیمی کے دنوں پر کچھ تحریر کرنا چاھیے۔
عموماً تحقیق کے وقت اکثر ایک زاویہ کے تحت مصنف یا تو موصوف کے حق میں بولتا ہے یا مخالف۔ تاہم میں نے بھی غازی ملت کی تعلیمی زندگی کو جانچنے کیلئے انھی کی کتاب “متاع زندگی” کا سہارا لیا۔ اکثر مصنف کی تحریر کردہ کتابوں میں وہ اپنی تعریف ہی کرتے نظر آتے ہیں لیکن سیاسیات اور نفسیات کے ناقص علم کی وجہ سے شاید میں اس بات پر قائل ھوں کہ غازی صاحب کو ریاکاری بلکل بھی پسند نہیں تھی۔غازی ملت نے بیسویں صدی کے اوائل میں راولاکوٹ کے قرب میں ایک زمیندار کے گھر آنکھ کھولی۔ 8 بہن بھائیوں میں ساتویں نمبر پر ھونے کی وجہ سے آج کل کے برعکس ان کو بچپن میں کوئی انفرادی اہمیت نہیں دی گئی۔
ابراہیم خان بچپن سے ہی پڑھنے کے شوقین تھے۔ حالانکہ ان کے قرب و جوار میں عام رسم تھی کہ پرائمری کے بعد فوج میں ملازمت کو چنا جائے۔ زیادہ تر لوگ سخت جان ،مستقل مزاج اور منظم تھے صرف اس لئے کہ ھر گھر سے اکثر مرد فوج کی ملازمت کرتے تھے ۔ آپ خود فوج سے ایک حد تک لگاؤ رکھتے تھے مگر قسمت کی لکیروں نے شاید کچھ اور ھی لکھا تھا ۔ خود غازی ملت کو ہی اس بات کا ادراک نہیں تھا کہ تقدیر ان سے کیا کام لے گی؟ اس دور میں غازی صاحب نے حالات کا جو نقشہ ہمارے سامنے رکھا ھے وہ آج کے دور سے کافی معملات میں مختلف بھی ہے اور یک سو بھی اس کا اندازہ تحریر کے اختتام تک سارفین کو ھو جائےگا۔
غازی صاحب تعلیم کے حوالے سے کافی قابل تھے اور کھیلوں میں بھی انکا لگاؤ تھا پونچھ میں ہاکی اور فٹبال جبکہ انگلستان میں ٹینس کھیلتے تھے یہی وجہ ھے کہ موصوف جب حصول علم کے لئے پونچھ گئے تو محلے دار اس کو ایک کرشمہ سمجھتے تھے ۔ آپ کا تعلیم کا جتنا بھی وقت گزرا وہ اکثر آزمائش اور مشکلات میں گزرا اس دور میں تعلیم حاصل کرنا ایک کٹھن کام تھا ۔ آپ کے مطابق پرائمری میں آپ کو 4 میل پیدل جانا پڑتا اور اکثر آپکے جوتے بھی پھٹے ہوتے جس کی بنا پر آپکو ننگے پاؤں بھی سفر کرنا پڑا ۔
یہ سب اس وقت وہ قوم کے لئے بلکل نہیں کر رہے تھے بلکے ان میں پڑھائی کا شوق اس قدر تھا کہ یہ سب عام پریکٹس تھی۔ہائی سکول کے ادرار میں انھیں بورڈنگ کے مصائب سے لے کر اساتذہ کی مار تک کھانی پڑی مگر اس کی وجہ پڑھائی نہیں بلکہ ان کا باغیانہ کردار تھا۔ پونچھ شہر میں موجود نظام حکومت دیکھ کر انھیں پہلی بار اپنے لوگوں کی خستہ حالی اور کسم پرسی کا احساس ہوا۔ اس دور میں سود کا نظام رائج تھا پنجاب سے اکثر لوگ آتے اور لوگوں کی خصوصاً زمینداروں کو بیاج “سود” پر رقوم دیتے تھے ان کو “کھتری” کہا گیا ھے اور سکھ حکومت کے معمولی سپاہی سے لے کر تحصیلدار تک تمام افراد اس میں شامل تھے اور سب مل کر اکثر مسلمان رعایا کا خون چوستے تھے,
ان کے بس میں ہوتا تو مسلمانوں کی چمڑیاں وہ چٹائی کی جگہ استعمال کرتے۔ اس دور میں “بے گار” کی ایک ظالمانہ رسم بھی قائم تھی جس میں اکثر گجر قبیلے کو لوگوں کو حکومتی کارندے لے جاتے اور بلا اجرت ان سے بھر پور کام کراتے ان کے خاندان والے صرف لا علمی میں دعا کرتے کہ کاش ہمارا بھائی، بیٹا زندہ واپس آ جائے۔ کوئی پوچھنے والا بولنے والا نہ تھا کیوں کہ لوگ ان پڑھ تھے اور پڑھائی حکومت کے لئے بغاوت کا راستہ تھی۔ جو لوگ بھی ملک سے باہر جاتے وہ حالات کا موازنہ کر کے اکثر انقلابی خیالات کے ساتھ واپس آتے، کچھ ایسے ہی عناصر نے مظلوم کے صبر کو انقلاب بنایا۔
یہ تمام عناصر آج بھی موجود ہیں اور ان کو ختم کرنے کے اوزار بھی لیکن آج کل کے ظلم میں اور اس وقت کے ظلم میں فرق تھا اس وقت جدوجہد کرنا مشکل تھا ۔ ذرائع ابلاغ و آمد و رفت نہ تھے مگر پھر بھی لوگوں نے ہمت دکھائی اور آج پھر وہی حالات کسی اور شکل میں قائم ہیں۔ بے گار اور کھتری لعنتوں نے خان صاحب کے دل میں وہ بیج بو دیا ھو بعد میں آزادی کا چمن بنا۔ طالب علمی کا ایک اور ڈراونا پہلو اس دور کا سفر تھا موصوف جب لاہور بی اے کرنے گئے تو راولاکوٹ سے کہوٹہ تک پیدل سفر کنا پڑتا تھا پنجاڑ لوٹ مار کا گڑھ تھا ۔
اس کے بعد کہوٹہ سے پنڈی تک سکھوں کی لاریاں بیٹھ کے سفر کے کام آتی اگر مسافر خوش قسمت ھے تو۔ اس کے بعد موصوف کے مطابق بہت کم ایسا ہوا ھے کہ موصوف پنڈی سے لاہور تک سیٹ پر بیٹھ کے گئے ہوں۔ ریل گاڑیوں میں سواروں کی تعداد جبنگ آزادی کی ہجرت کی تصویر ہوا کرتی تھی۔ موصوف کے ایک دوست”حبیب صاحب ” بھی ان کے ساتھ رہے۔ تعلیم کے اوائل سے کالج تک دونوں کا یارانہ قائم رہا۔
لاہور میں گرمی کی شدت اور غازی صاحب کی پہلی رات ایک مسجد کے گرم فرش پر مچھروں کی آغوش میں چٹائی میں لپٹے ہوئے گزری اس رات نہ غازی صاحب سوئے نہ ہی ان کے یار شب زاد۔غازی صاحب کے لئے لاھور کی گرمی کسی جہنم سے کم نہ تھی پہلی بار کسی شہر گرم میں قدم رکھ کر زندگی نے انہیں نئے اسباق و انجام سکھائے۔ سکھوں کی حویلی سے مسلمانوں کی بلڈنگ تک انکو کافی دقت اٹھانی پڑی۔ کالج میں غازی صاحب ایک ایکسٹروورٹ سے انٹروورٹ میں تبدیل ہوگئے شاید بلوغت کی ایک بڑی نشانی تھی کہ خاموشی ان کی سرشت میں واضح ہو گئی خیر اس دور میں انقلابی تحریکوں نے بھرپور زور پکڑا ھوا تھا ۔
اور ابراھیم خان صاحب بھی بھگت سنگھ اور کانگرسی لیٹرز ماہتما گاندھی کی تحریریں اور تقاریر متواتر سنا کرتے تھے۔ مباحثے روز کا معمول تھا مگر کبھی کالج کی زندگی میں سٹیج پر نہیں گئے تقدیر کے نام سے گھبراتے تھے ۔ انگریزی فراوانی سے بولتے اور اردو تقاریر باقائدگی سی سنتے۔ ان کا معمول کھیل سے ہٹ چکا تھا وہ مکمل طور پر کھیل کو خیر آباد کہہ چکے تھے۔اور اس قدر تکالیف سہنے کے بعد انھوں نے پڑھائی پر ھی زور دیے رکھا ۔
اقتصادیات آپکا مضمون تھا مگر آپ نے زیادہ تر تعلیم کے حصول کے لئے عملی اقدامات کیے نہ کہ کتابوں میں گرے رہے۔ ایک بار قائد اعظم کو اپنے بغل میں نماز جمعہ ادا کرتے دیکھا ۔ اس وقت قائد اعظم بھی وہی رومی ٹوپی پہنے ہوئے تھے جو غازی صاحب اور حبیب صاحب کی محبوب ٹوپی تھی قائد سیاسیات میں اس قدر مشغول نہیں تھے تاہم ان کی تعظیم کا ہر کوئی قائل تھا اور انکی وکالت اور ہندو لیڈروں سے مخالفت واضع تھی ۔ اس دوران ھی غازی صاحب نے وکالت پڑھنے اور شعبہ کے طور پر اختیار کرنے کا سوچا اور آپ کی زندگی کا ایک سب سے بڑامتحان سامنے آ گیا ۔
اس دور میں ولایت جانا بہت بڑی بات تھی، اس دور میں لوگ یا تو عالمی جنگوں میں شریک ہونے ولایت جاتے تھے یا روزگار کے حصول کے لئے۔اس امر میں آپ کا سب سے زیادہ ساتھ آپ کے بھائی اسماعیل خان نے دیا ۔ موصوف کے مطابق ان کے بھائی کے احسانات پر الگ کتاب تحریر کی جا سکتی ھے۔ والد کی موت کے بعد اسماعیل خان نے ہی گھر اور زمین کو سنبھالا اور ولایت جانے میں اگر ان کا ہاتھ نہ ہوتا تو شاید آپ کبھی انگلستان نہ جا سکتے ۔ اسماعیل خان نے پونچھ سیالکوٹ لاھور اور راولپنڈی کا کوئی سرکاری دفتر نہیں چھوڑا جہاں سے مدد طلب نہ کی ھو مگر ہر جگہ سے ناکامی ھوئی۔ آخر میں ایک آزاد خیال ہندو افسر پونچھ آئے ایک پورا وفد ان کے سامنے اپنا مسئلہ لے کر حاضر ہوا ان کی آمادگی اور رہنمائی سے ہی اس دور کے کٹھ پتلی وزیر معاوضہ دینے پر آمادہ ہوئے ۔
یہ پڑھنے میں تو آسان ہے مگر اس دور میں کئی مہینوں صرف سرکاری دفتروں کے چکر کاٹتے ہیں گزر گئے اوڑی کے مقام پر 3۔ 4 گز برف سے گزرنے کے بعد معلوم ہوتا کہ سردیوں میں دفتر تو سیالکوٹ جا چکا ھے آخرکار معاوضہ موصول ہونے کی صورت میں غازی ملت انگلستان روانہ ھوئے ان کا یہ سفر بھی اپنے آپ میں ایک داستان ھے ۔ 4 دن تک وہ قے کی زیادتی کی وجہ سے بستر سے لگے رہے اور جس اٹلی کی کمپنی کے جہاز میں تھے اس کو حال میں ڈوبنے پر پوری دنیا نے ترک کیا تھا۔ خیر انجان ملک میں انسان ویسے ہی ھوم سکنس جا شکار ھو جاتا ہے اوپر سے اگر کوئی جاننے والا نہ ہو تو مزید خوف و تنہائی آ گھیرتی ھے ۔
غازی ملت نے اپنے زنگی کے تمام حصول کی وجہ تجربات کو دی ھے۔ ولایت کے معاملے میں کافی پریشان رہی اور اس مرحلے پر زور دیا کہ ہمارے لوگ کسی کی کامیابی کو دیکھ نہیں سکتے کسی کو سہی راستے پر دیکھیں تو اس کو طعن نہ کریں سوال ہی نہیں پیدا ہوتا موصوف کو بتایا گیا کہ 20 ھزار روپے کے بغیر انگلستان جانا نا ممکن ھے اور اصل میں موصوف کا 4 سال کا کل خرچہ صرف دس ہزار آیا۔ لاہور کے ایک بیرسٹر صاحب نے انکو غلط گائیڈ کیا اور پیسے جمع کرنے میں لگا دیا تھا جو کہ شاید وہ ساری زندگی نہ کر پاتے مگر ان کی بات نہ ماننے والی باغیانہ خصوصیات حاوی آئیں اور 20 ہزار والا فریب پکڑا گیا۔
آج کل کے دور میں بھی ایسا ھوتا ہے۔ لوگ ایک دوسرے کو کامیاب دیکھ کر اس کی ٹانگیں کھینچتے ہیں۔ اور اگر اس امر میں ناکام ہوں تو بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جیسا کہ غازی صاحب پر الزام لگایا گیا کہ ایک شخص دن کو ان سے ملنے گیا اور روداد بیان کرتے لکھتا ھے کہ میں نے غازی صاحب کو شراب کے نشے میں مخمور دیکھا۔ اس کے جواب میں غازی صاحب لکھتے ہیں کہ کوئی بھی لیڈر اپنی زندگی مکمل پرائیویٹ نہیں رکھ سکتا اور شراب کوئی کم عقل بھی دن کو پی کر مخمور نہیں ہوتا۔ بدنام کرنے کے لئے اپنے لوگوں نے اس حد تک کوششیں کیں۔
آج بھی مشاہدہ کریں تو نتیجہ ہے کہ ہم لوگ بہت کم بدلے ایسے عوامل آج تک لوگوں نے استعمال کرنے نہیں چھوڑے اور حالات دیکھ کہ لگتا ہے کہ ابھی بہت دور جانا ھے۔ غازی صاحب کا انگلستان میں وقت بہت ہی کارآمد تھا ۔ تجربہ اور سفر انسان کو بہت کچھ سکھا جاتا ھے ۔ لنکن ان اور لندن یونیورسٹی سے وکالت اور بیرسٹری کی ۔ اس دوران سب سے اہم سبق جو خود بھی سیکھا اور اپنے لوگوں کو سکھانے کو کوشش کی وہ یہ کہ ہر انسان قیمتی ہے اور اس کی رائے بھی اپنی ورتھ “حیثیت” رکھتی ھے انسانوں کو لوگوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے اور کسی کو سمجھنے کے لئے اس کو تائید کرنا لازمی نہیں۔
غازی صاحب انتہائی حساس طبیعت کے مالک تھے اور انھوں نے انگریزوں اور مقامیوں کشمیریوں میں یہی فرق دیکھا کہ لوگوں میں برداشت اور قبولیت کا مادہ نہیں ھے اور یہ بات آج تک موجود ھے ۔ یہ نقص آج تک لوگوں میں محلول کر ریا ھے اس کی وجہ واللہ عالم کم علمی ہے یا تکبر۔ برطانیہ میں لیبر پارٹی کے سٹوڈنٹس نے انھیں اس کی بھرپور مثال پیش کی اپنی صورت میں جب بھی مباحثے ھوا کرتے تو ہندوستانی اور برطانوی طالب علموں میں یہی فرق نمایاں تھا
۔ موصوف کی کاوش اور تکالیف جو کہ صرف علم کے حصول کے لئے تھیں لاہور کی سیاسی فضا سے بدل گئیں انھیں تب ھی اس بات کا احساس ہو گیا تھا کہ ریاست کے لوگ اصل میں مظلوم ہیں کیوں کہ وہ غیر منظم ہیں۔ اس کے علاؤہ اقتصادی اور تعلیمی کمیوں کے باعث صدیوں پرانی ریاست زیادہ تر محکوم رہی ھے۔ کبھی تبت کے لوگ آ چھڑے کبھی سکھ اور کبھی راجستان کے راجے۔ ان کے نزدیک اور ہر ذی شعور کہ نزدیک بے منظم اور بد حالی کی زندگی انسان کے لئے ایک ڈس گریس ہے۔ بغاوت تب تک بغاوت رہتی ہے جب تک کوئی اسے انقلاب نہ بنا دے۔ اور سردار ابراھیم خان نے یہ ممکن کر دکھایا ۔ان کی بدولت ہی میں اور آپ آج یہ پڑھ پا رہے ہیں، خام آزادی ھی ھے مگر اس کو بیس کیمپ کی حیثیت حاصل ھے ۔
ہمیں اپنا اصل مقصد نہیں بھولنا چاہیے اور کسی صورت بھی کشمیر مستقبل قریب میں آزاد نہیں ھو سکتا لیکن بد دل ہونے کی ضرورت نہیں جیسا کہ مرحوم سردار خالد ابراھیم نے فرمایا تھا کہ کوشش کرتے رہنا ہے بے شک اس جدوجہد کو صدیاں لگ جائیں۔ اقوام کی تاریخ ایک دو دہایوں میں نہیں بلکہ سینکڑوں سالوں میں بدلتی ھے۔ خدا ان کی قبر مبارک پر رحمتیں نازل کرے۔