سپریم کورٹ نے فوج کی طرف سے چارج کو درست قرار دیتے ہوئے ٹرائل سول عدالت کا استحقاق قرار دے دیا

60

اسلام آباد: سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلین کےٹرائل کےخلاف درخواستوں پر سماعت کے دوران عدالت نے کہا بتایا جائے کہ آرمی ایکٹ کب عمل میں آتا ہے، کن جرائم پر آفیشل سیکرٹ ایکٹ لگتا ہے اور سویلینزنے آرمی ایکٹ یا آفیشل سیکریٹ ایکٹ کیخلاف ورزی کب کی؟

پہلے روز کی سماعت کیا ہوا؟
گزشتہ روز ان درخواستوں کی سماعت کے دوران نامزد چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بینچ پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ جب تک سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل پر فیصلہ نہیں آتا تب تک تمام بینچ غیر قانونی ہیں اور میں اس بینچ کو بینچ تصور نہیں کرتا۔جسٹس قاضی فائز اور جسٹس سردار طارق مسعود کے اعتراض کے بعد 9 رکنی لارجر بینچ ٹوٹ گیا تھا جس کے بعد چیف جسٹس نے 7 ججوں پر مشتمل نیا بینچ تشکیل دیا۔چیف جسٹس پاکستان عمرعطا بندیال کی سربراہی میں بننے والے 7 رکنی بینچ میں جسٹس اعجازالاحسن، جسٹس منصورعلی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحیٰ آفریدی، جسٹس مظاہرنقوی اورجسٹس عائشہ شامل ہیں۔

آج کی سماعت
سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران سول سوسائٹی کے وکیل فیصل صدیقی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ میری درخواست دیگر درخواستوں سے الگ ہے، میں نے درخواست میں آرمی ایکٹ کو چیلنج نہیں کیا، میرا یہ مؤقف نہیں کہ سویلینز کا آرمی ٹرائل نہیں ہوسکتا، سویلینز کے آرمی عدالت میں ٹرائل ہوتے رہے ہیں، میں نے تحریری معروضات بھی جمع کرادی ہیں۔

اس پر جسٹس منصور علی شاہ نے وکیل فیصل صدیقی سے استفسار کیا کہ آپ نے آرمی ایکٹ کو چیلنج کیوں نہیں کیا؟

فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ میرا یہ مؤقف نہیں ہے کہ آرمی ایکٹ کی کوئی شق غیرقانونی ہے، میرا مؤقف ہے کہ من پسند لوگوں کا آرمی ٹرائل کرنا غلط ہے، آرمی ایکٹ کے تحت مخصوص سویلینز کا ٹرائل خلاف آئین ہے۔

وکیل فیصل صدیقی کی دلیل پر جسٹس عائشہ ملک نے استفسار کیا کہ دوسرے کیسزمیں آرمی ایکٹ سے متعلق کیا پرنسپل سیٹ کیا گیا ہے؟کن وجوہات کی بناپرسویلینزکا ٹرائل آرمی ایکٹ کےتحت کیاجاتا رہا ہے؟

جسٹس منصور کا کہنا تھا کہ آرمی ایکٹ یاآفیشل سیکرٹ ایکٹ کےتحت توٹرائل تب ہوتا ہےجب بات قومی سلامتی کی ہو، سویلینز نے آرمی ایکٹ یا آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کب کی؟جب آپ آرمی ایکٹ چیلنج نہیں کررہے تو قانون کی بات کریں۔

دوران سماعت جسٹس اعجازالاحسن نے وکیل فیصل صدیقی سے سوال کیا کہ کن جرائم پر آفیشل سیکرٹ ایکٹ لگتا ہے؟آرمی ایکٹ کب عمل میں آتا ہے یہ بتادیں جس پر فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ انسداد دہشتگردی عدالت میں ملزمان کی فوجی عدالتوں کوحوالگی کی درخواست نہیں دی جاسکتی۔

وکیل کی دلیل پرجسٹس اعجازالاحسن کا کہنا تھا کہ قانوناً اگرفوج سویلین کی حوالگی کا کہتی ہے توریفرنس وفاقی حکومت کوبھیجاجاتاہے فوج چارج کرسکتی ہے لیکن ٹرائل تو سول عدالت میں چلے گا،کمانڈنگ افسرانتظامی جج سے کس بنیاد پرسویلین کی حوالگی کا مطالبہ کرے گا؟ کوئی دستاویزتودکھادیں جس کی بنیاد پرسویلینزکی حوالگی کا مطالبہ ہوتا ہے، وفاقی حکومت کی منظوری پرحوالگی کا حتمی فیصلہ کیا جاتا ہے۔

جسٹس مظاہر نے استفسار کیا کہ آپ یہ نہیں بتاسکے کہ کن درج مقدمات میں آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی دفعات شامل کی گئیں، یہ بھی بتائیں کہ کمانڈنگ افسرکیسے سویلینزکی حوالگی کا مطالبہ کرسکتا ہے۔

سول ٹرائل چل رہا ہے توفوج کیسے فیصلہ کرلیتی ہےاس شخص کوہمارے حوالے کردو؟ : عدالت
جسٹس منصور اور جسٹس منیب نے استفسار کیا کہ یہ بتائیں کیسے فوج کی جانب سے یہ الزام لگایاگیاکہ ان افراد نےجرم کیا ہے؟ باربارآپ سے سوال کررہے ہیں اورآپ جواب نہیں دے رہے، سول ٹرائل چل رہا ہے توفوج کیسے فیصلہ کرلیتی ہےاس شخص کوہمارے حوالے کردو؟ فوج کااندرونی طریقہ کارکیا ہے جس میں طے ہوتا ہوکہ سویلین کوہمارے حوالے کردو؟ کیا آرمی اتھارٹیزیہ فیصلہ بھی کرسکتی ہیں کہ سویلین کوہمارے حوالے کردو؟ اگرکسی کا سول کورٹ میں مقدمہ چل رہا ہےتوکیا فوج اس کی حوالگی کا کہہ سکتی ہے؟ آپ کےمطابق آفیشل سیکرٹ ایکٹ والاجرم ضروری نہیں کہ آرمی ایکٹ کے تحت ہواہو،جسٹس منصور کسی کی گرفتاری کیلئے آنے سے پہلے فوج اپنے گھرپرکیا تیاری کرتی ہے یہ بتادیں۔

عدالت کے استفسار پر وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ یہی تو میری دلیل ہے کہ فوج سویلینزکی حوالگی کا مطالبہ نہیں کرسکتی۔

جسٹس یحیٰ آفریدی کا وکیل سے سوال ضابطہ فوجداری میں دفعات آرمی ایکٹ میں کہاں ہیں؟ جس پر وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ مسئلہ فورم طے کرنے کا ہے کہ کہاں ٹرائل ہوگا۔

فیصل صدیقی کی دلیل پر جسٹس یحیٰ آفریدی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں آفیشل سیکرٹ ایکٹ کا سیکشن 13 نہ پڑھائیں، ؟ آپ نے کہا آرمی ایکٹ کو رہنے دیں طریقہ کار کو دیکھیں،پھرتوہمیں انفرادی طورپرایک ایک شخص کی گرفتاری کو دیکھنا پڑے گا،

جسٹس مظاہرنقوی اور جسٹس عائشہ ملک کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے کب سویلینزکی فوجی عدالتوں میں ٹرائل کی منظوری دی، ٹرائل کا فورم کیسے طے ہوتا ہے یہی سوال ہے۔

اٹارنی جنرل سےپوچھیں گےٹھوس بنیاد بناکرسویلینزکی حوالگی کی درخواست کیوں نہیں دی: چیف جسٹس
چیف جسٹس عطا بندیال نے وکیل فیصل صدیقی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت جرائم کا تعین فوج نے ہی کرنا ہے،چیف جسٹس فوج انسداد دہشتگردی عدالت میں سویلینزکی حوالگی کی درخواست دےسکتی ہے، فوج کی سویلینزکی حوالگی کی درخواست میں صرف ٹھوس بنیاد نہیں دی گئی،اٹارنی جنرل سےپوچھیں گےٹھوس بنیاد بناکرسویلینزکی حوالگی کی درخواست کیوں نہیں دی۔

وکیل فیصل صدیقی کی جانب سے خاموشی پر چیف جسٹس عطا بندیال نے کہا کہ آپ ایسا کریں کہ بریک لے لیں،جسٹس منصور نے کہا کہ کافی وغیرہ پئیں،سوالات کے جوابات نہ دینے پرآپ کو جرمانہ دینا پڑے گا۔

بعد ازاں سپریم کورٹ میں سماعت میں 15 منٹ کا وقفہ کردیا گیا۔

سول اور ملٹری تحویل میں موجود افراد کی تعداد بتانےکا حکم

گزشتہ روز کی سماعت میں سپریم کورٹ نے 9 مئی واقعات کے بعد سول اور ملٹری تحویل میں موجود افراد کی تعداد بتانےکا حکم دیا۔

گزشتہ روز سماعت کے تحریری حکم نامے میں کہا گیا ہےکہ اٹارنی جنرل بتائیں، 9 مئی کے واقعات میں کتنی خواتین اور بچے گرفتار ہیں؟ وکلا اور صحافی سول یا فوجی حراست میں ہیں۔

تحریری حکم نامے میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور سینئر جج جسٹس سردار طارق مسعود کے خود کو بینچ سے الگ کیے جانے اور7 رکنی بینچ کی تشکیل کی وجوہات کا ذکر نہیں کیا گیا۔

فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کیخلاف درخواستیں

سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ، سینئر وکیل اعتزاز احسن، کرامت علی اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے درخواستیں دائر کر رکھی ہیں، درخواست گزاروں نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کو غیر آئینی قرار دینے کی استدعا کر رکھی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں