عوامی ایکشن کمیٹی اور حکومتی مظالم

123

تحریر:صداقت مغل کشمیری
امید ہے آپ سب خریت سے ہونگے آج آپ ریاستی شہریوں سے چند گزارشات کرنی چاہوں گا امید ہے آپ تمام دوست میری گزارشات پر ٹھنڈے دماغ سے غور کریں گے.
دوستو ں بھائیوں اورساتھیوں، سے گزارش ہے کہ میں اور میرے تمام ساتھی شروع دن سے عوامی ایکشن کمیٹی کے شانہ بشانہ ہیں. بلکہ عوامی ایکشن کمیٹی کے بننے سے قبل جب راولاکوٹ میں سردار صغیر، سردار قدیر، پلندری میں سردار روف کشمیری، سردار عمان، اور پونچھ کے دیگر حصوں ہجیرہ وغیرہ میں آزادی پسند بجلی اور آٹے میں سبسڈی کے لیے احتجاج دھرنے لگا کر بیٹھے ہوے تھے اس وقت آزادکشمیر کا میں واحد سیاسی ورکر تھا جس نے اپنے ذاتی خرچی پر اپنے ساتھیوں کے ہمراہ نیلم سے بھمبر تک تین تفصیلی دورے کئے اور پچیس پریس کانفرنسیں کی جن کا ریکارڈ میری فیس بک Saddaqat Mughal Kashmiri, اور جموں کشمیر لبریشن فرنٹ نظریاتی کے آفیشل پیج JKLFN Official پر موجود ہیں. ریاست کے سینکڑوں لوگوں سے درجنوں میٹنگز کی تاکہ نیلم سے بھمبر تک لوگوں کے اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے اور پونچھ طرز کے احتجاجی دھرنے منظم کرنے پر آمادہ کیا جا سکے .
اس دوران مجھے اور میرے ساتھ سفر میں شامل میرے ساتھیوں کو یقینا مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا مگر ہم نے ہمت نہیں ہاری .

پھر آہستہ آہستہ دھرنے میرپور ڈویژن تک پھیل گے اور ایک دن سوشل میڈیا سے پتہ چلا کے مظفرآباد میں کوئی اجلاس ہوا ہے. جہاں پر پونچھ میں جاری دھرنوں کی حمایت اور عوامی حقوق کی جدوجہد کے لیے جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے نام سے ایک کمیٹی تشکیل پائی ہے یقینا میرے لیے تو یہ اس لیے بھی خوش آئند بات تھی کے ہم آزادی پسند برسابرس سے عوامی حقوق کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں اس جدوجہد کے نتیجے میں جب سے میں وطن آیا ہوں میرے اور میرے ساتھیوں کے خلاف نیلم سے بھمبر تک درجنوں بوگس مقدمات قائم ہو چکے ہیں اور دو مقدمات اسلام آباد میں بھی میرے ساتھیوں سمیت مجھ پر قائم ہیں. الحمدللہ ہم ان مقدمات سے ڈرنے والے نہیں بلکہ ملک کی آزادی اور عوامی حقوق کے لیے ہم پھانسی کا پھندا بھی چومنے کے لیے تیار ہیں .

جموں کشمیر لبریشن فرنٹ نظریاتی کے منشور میں یہ بات شامل ہے کہ قومی آزادی کی جدوجہد کے ساتھ عوامی حقوق کی بازیابی کے لیے جدوجہد ہمارے ایمان کا حصہ ہے.جب عوامی ایکشن کمیٹی باقاعدہ بنا دی گی تو ہم نے عوامی ایکشن کمیٹی کے لیے جدوجہد شروع کر دی نیلم سے بھمبر تک مجھ سمیت میرے درجنوں ساتھیوں نے عوامی ایکشن کمیٹی کے لیے قید بند کی صوبتیں برداشت کی بلکہ آپ نے سوشل میڈیا پر دیکھ ہو گا کے میرے بیٹے کا آپریشن تھا جب مجھے عوامی ایکشن کمیٹی کی FIR میں بیٹے اور بیوی کے سامنے CMH سے گرفتار کیا گیا .پھر SHO جاوید گوہر نے مظفرآباد City تھانہ میں مجھے پر شدید تشدد کیا مظفرآباد سے تعلق رکھنے والے زہد مغل، اعجاز صدیقی، زاہد راجپوت، شمریز خان، جہلم ویلی کے مرزا اختر اس بات کے گواہ ہے کیونکہ وہ مجھ سے قبل عوامی ایکشن کمیٹی کے مقدمات میں تھانہ میں۔ بند تھےجاوید گوہر جب مجھ پر تشدد کر رہا تھا تو میں بجائے رونے چلانے منتیں کرنے کے جاوید گوہر اور دیگر پولیس والوں سے مخاطب ہو کر انہیں کہ رہا تھا کے ہم آپ کی نسلوں کی آزادی اور حقوق کی جدوجہد کر رہے ہیں تم تشدد کیا جان سے بھی مار دو ہم پیچھے نہیں ہٹیں گےبلکہ مجھے تو وزیر اعظم انور الحق نے اسلام آباد کشمیر ہاوس بلا کر عوامی ایکشن کمیٹی کے خلاف استعمال ہونے کی صورت میں کڑورں کی آفر کی اپنے پانچ وزراء کی موجودگی میں مگر میں نے انہیں کہا کے آپ غلام ہیں ہم تو آپ کی آزادی اور حقوق کی جدوجہد کر رہے ہیں.

الغرض میں آج بھی عوامی ایکشن کمیٹی کی وجہ سے مقدمات بھگت رہا ہوں اور ہم ملک اور اپنی قوم کے لیے ہمیشہ ہر ظلم سہنے کو تیار ہوں مگر آج مجھے افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی تحریک میں ساتھ دینے والے غریب لوگوں کا دفاع کرنے میں ناکام رہی ہے ۔ہمارے ملک پر قابض ملک نے جہاں ہمارے حقوق سلب کئے ہوے ہیں۔ تو ساتھ ہی یہاں غریب لوگوں کے لیے کوئی کارخانہ، فیکٹری، بھی نہیں لگنے دی تاکہ عام آدمی رزق کما سکے .ایسے میں پاکستانی کنٹرول جموں کشمیر کے لوگ ذریعہ معاش کے لیے پاکستان کے مختلف شہروں کا رخ کرتے ہیں اور ہزاروں میں نوجوان بیرون ممالک بلخصوص گلف کا رخ کرتے ہیں جس کے لیے انہیں اپنی زمینوں کو بھی گروی رکھنا پڑتا ہے، لوگوں سے لاکھوں روپیہ قرض لینا پڑتا ہے. اب جبکہ عوامی ایکشن کمیٹی کی تحریک کی وجہ سے ہمارے لوگوں کو پاکستانی شہروں میں انتقام کا نشانہ بنایا جاتا ہے. روزگار لیے لیے بیرون ملک جانے والوں کو تسلسل سے جہازوں سے آف لوڈ کیا جاتا ہے .جس وجہ سے ان لیے لاکھوں روپیہ جو بیرون ملک ویزہ اورٹکٹ لیے پہلے ہی ادا کر دیے ہوتے ہیں. وہ ضائع ہو جاتے ہیں. بلکہ جب کسی ریاستی شہری کو جہاز سے آف لوڈ کر کے گرفتار کیا جاتا ہے تو قرضدار والدین اس کو چھڑوانے کے لیے مزید قرض اٹھاتے ہیں.

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کے عوامی ایکشن کمیٹی ریاستی شہریوں کے ساتھ روا رکھے گئے پاکستان کے اس ظالمانہ سلوک پر کیوں خاموش ہےاور جب بھی کوئی عام ریاستی شہری پاکستان یا ریاست میں عوامی حقوق کی جدوجہد کی وجہ سے ریاستی جبر کا نشانہ بنتا ہے عوامی ایکشن کمیٹی کو سانپ کیوں سونگ جاتا ہے ؟ایک مثال یہاں اپنی دوں گا مارچ میں مجھے میرپور سے گرفتار کر کے دو ماہ نیلم کے تھانہ میں قید رکھا گیا مگر عوامی ایکشن کمیٹی کے کسی بھی کور ممبر نے ایک مذمتی بیان تک نہیں دیا. ہاں خواجہ غلام مجتبی بانڈے نے میری گرفتاری کے خلاف احتجاج کیا مگر وہ میرا عزیز ہے اس نے اپنی ذاتی حثییت میں نہ کہ کور ممبر کی حیثیت میں .جبکہ اس دوران عوامی ایکشن کمیٹی کے ایک کور ممبر راجہ غلام مجتبی گرفتار ہوا اور ایک اور کور ممبر سردار شبیر کا بیٹا راولپنڈی سے غالبن گرفتار ہوا تو عوامی ایکش کمیٹی نے حکومت کو ان کی رہائی کے لیے وارنگ تک دے ڈالی جبکہ دوسری صرف دو ماہ سے بیگناہ قید صداقت مغل کشمیری کے لیے ایک بیان تک جاری نا ہوا .میں نے اپنی مثال اس لیے دی کے میں عوامی ایکشن کمیٹی کے تمام دس اضلاع کے مختلف پروگراموں میں شرکت کرتا رہا اگر میرے لیے آواز نہیں اٹھائی تو عام لوگوں جو اس تحریک کا حصہ رہے ان کو کس نے پوچھنا اسی وجہ سے قابض پولیس اس کی ایجنسیاں اور دیگر مختلف ادارے ہمارے لوگوں کو انتقام کا نشانہ بنا رہے ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہے ان کے لیے کسی نے بھی آواز نہیں اٹھانے.

پاکستان میں انتقامی کارروائیوں کے حوالے سے بھی اپنا ایک ذاتی مشاہدہ شیئرکروں گا .دو دن قبل 2025 کے آخری دن 31 دسمبر کو میں اپنے کچھ ساتھیوں کے ہمراہ اسلام آباد بارہ کہو سے بلیو ایریا جا رہا تھا کے بارہ کہو سے تھوڑا آگے جیلانی اسٹاپ پر اسلام آباد پولیس کی ایک ٹیم ایک اے ایس آئی اور تقریبا چار سپاہی گاڑیوں کو روک رہے تھے. میری گاڑی بھی جب انہوں نے روکی اور ہماری شناخت، گاڑی کے کاغذات انہوں نے طلب کئے جب ہم نے دے دیے تو اے ایس آئی نے مجھے سے میرا تعارف پوچھا جو میں نے اسے بتایا تو اس نے سوال کیا کے آزادی کشمیر میں چلنے والی عوامی تحریک کا بھی آپ حصہ ہیں تو میں نے کہا جی بلکل یہ ہماری مشترکہ تحریک ہے تو اے ایس آئی نے مجھے کہا آپ کو تھانہ چلنا ہو گا
میں نے اس سے سوال کیا کے وجہ تو اس نے کہا وجہ تھانہ میں بتائیں گے میں نے جب اپنے انداز میں اسے اپنا دوبارہ تعارف کروایا تو اس نے میرے ایک ساتھی کو الگ کر کے کہا ان کو بولیں یہ گاڑی میں بیٹھیں اور جہاں آپ لوگ جا رہے ہیں جائیں اور سوال یہ پیدا ہوتا ہے کے میری جگہ اگر کوئی عام آدمی ہوتا تو یقینا اسے تھانہ لے جایا جاتا اور ممکن ہے اور کے خلاف کوئی مقدمات بھی بنا دیا جاتا .میرا سوال یہ ہے کے کیا عوامی ایکشن کمیٹی تحریک میں جدوجہد کرنے والوں کے پروٹیکٹ کے لیے کوئی پلان ہے کیا عوامی ایکشن کمیٹی کے پاس یا پھر عام کارکنوں کا خدا حافظ ہے ؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں