واشنگٹن (سیدہ ندرت فاطمہ )یورپی ملک پولینڈ میں پاکستانی نژاد امریکی خواتین نے عرب اور یورپی خؤاتین کے ہمراہ لانگ مارچ میں شرکت کی ، شرکاء کا کہنا ہے ہم کہ شدت پسندی کا نشانہ بننے والی فلسطینی عرب بہنوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ہم نے یہودیوں کی نسل کشی کی کہانی سناتی ہولوکاسٹ کی ہولناکیوں کو ایک ساتھ دیکھا۔
ہمارے ساتھ مسلم، امریکی اور فلسطینی خواتین نفرت کا مقابلہ کرنے کے لیے متحد ہیں۔اس موقع پر امریکہ میں مسلم خواتین کی غیر سرکاری فلاحی تنظٰم کی چئیرمین انیلا علی نے کہا کہ یہ ہمارا پختہ یقین ہے کہ #فلسطینی عوام ایک بہتر معیار زندگی کے مستحق ہیں، جس سے وہ اپنے بچوں کو تعلیم حاصل کرنے اور ترقی کی منازل طے کرنے کے قابل بنائیں، بالکل اسی طرح جیسے اسرائیل کے بچے، امریکہ میں اور بہت سی دوسری مسلم اقوام کے بچے ہیں بدقسمتی سے، حماس کے تباہ کن سیاسی ایجنڈے میں پیادوں کے طور پر ان سے جوڑ توڑ اور استحصال کیا ہے.
جس کی وجہ سے مصائب اور جمود کا سامنا ہے۔ وہ ایسے گروہ کے ہاتھوں یرغمال نہیں رہ سکتے جو ترقی اور خوشحالی پر نفرت اور تشدد کو ترجیح دیتا ہے۔ فلسطینیوں کو حقیقی معنوں میں پھلنے پھولنے اور باقی دنیا کے برابر ہونے کے لیے حماس کے تسلط سے آزاد ہونا ہوگا۔ آئیے ہم فلسطینی عوام کے روشن مستقبل کی وکالت میں متحد ہو جائیں.
واضح رہے مئی کے آغاز پر مشرق وسطی کی نامور غیر سرکاری فلاحی تنظیم شراکاء کی جانب سے 40 مسلمان اراکین پر مشتمل وفد پولینڈ اور جرمنی کے دورے پر پہنچا تھا اراکین میں پاکستان،بنگلہ دیش، سری لنکا، تیونس، مراکش، بحرین کی خواتین و مردوں کی بڑی تعداد موجود ہے، شراکاء جو کہ عرب ملک بحرین میں مقیم ایک غیر سرکاری تنظیم ہے جو حالیہ عرصے میں بین المذاہب تعلقات کو مضبوط بنانے سمیت ، ترجیحی بنیادوں پر مسلمانوں ، عیسائیوں، اور یہودیوں کے تاریخی تعلقات اور اس سے جڑے واقعات کو اجاگر کرنے پر کام کر رہی ہے۔