پونچھ میں پیپلز پارٹی کی “سیاسی بقاء کی جنگ” شروع، بنگوئیں اجلاس میں قیادت اور حکومت پر کھلی بغاوت، فنڈز و کارکردگی پر شدید عدم اعتماد

152

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)پونچھ ڈویژن کی پاکستان پیپلز پارٹی کا ایک اہم اور بند کمرہ اجلاس بنگوئیں سردار پیلس میں منعقد ہوا، جس کی مشترکہ صدارت سابق صدر و وزیراعظم سردار یعقوب خان اور سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان نے کی۔ باخبر ذرائع کے مطابق اس اجلاس کی اندرونی کہانی پارٹی قیادت کے لیے خطرے کی گھنٹی ثابت ہو رہی ہے، پیپلز پارٹی کے سرکردہ رہنماؤں نے وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور کی حکومتی کارکردگی اور صدر پیپلز پارٹی چوہدری یاسین کی سیاسی کارکردگی پر کھل کر عدم اطمینان اور شدید ناراضگی کا اظہار کیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس کے دوران سب سے زیادہ تنقید وزیراعظم پر ترقیاتی فنڈز کی عدم دستیابی، انتخابی حلقوں میں سکیموں کے فقدان اور سیاسی تقرریوں و تعیناتیوں میں تاخیر پر کی گئی.

جسے رہنماؤں نے براہ راست اپنی سیاسی ساکھ اور آئندہ انتخابات میں کامیابی کے لیے بڑا خطرہ قرار دیا۔ اندرونی بریفنگ میں یہ بات بھی تسلیم کی گئی کہ موجودہ حالات میں پیپلز پارٹی پونچھ ڈویژن میں محض ایک یا دو حلقوں کے علاوہ کہیں بھی مضبوط پوزیشن میں نہیں، جس پر اجلاس میں غیر معمولی تشویش پائی گئی اور اس صورتحال کو فوری طور پر تبدیل کرنے کے لیے وزیراعظم پر مزید سیاسی دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی طے کی گئی۔ذرائع کے مطابق مطابق پیپلز پارٹی رہنماؤں نے قرار دیا کہ پارٹی صدر چوہدری یاسین اسلام باد اور کوٹلی اپنے حلقوں تک محدود ہیں اور وہ پارٹی کو آزادکشمیر بھر میں اور مہاجرین مقیم پاکستان میں متحرک کرنے میں مکمل ناکام ہیں۔ ذرائع کے مطابق رہنماؤں نے واضح کیا کہ اگر وزیراعظم کی طرف سے فوری طور پر پونچھ ڈویژن کے ممبران اسمبلی اور ٹکٹ ہولڈرز کو فنڈز کا اجراء، ترقیاتی سکیموں کی منظوری اور پارٹی کارکنوں کو مطمئن کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر سیاسی بھرتیاں نہ کی گئیں تو آئندہ انتخابات میں پارٹی کو شدید نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔

سردار پیلس بنگوئیں میں عید ملن کے موقع پر ہونے والی اس ملاقات میں سیاسی بے چینی سامنے آئی، سردار تنویر الیاس خان کی رہائش گاہ پر ہونے والے اس ملاقات میں سردار یعقوب خان، سردار ضیاء القمر، سردار عابد حسین عابد، سردار امجد یوسف، سردار احمد صغیر، سردار سعود صادق، سردار عدنان سیاب خالد اور سردار افتخار رشید چغتائی سمیت دیگر شامل تھے، ملاقات میں آزاد کشمیر کی مجموعی سیاسی صورتحال اور آئندہ انتخابات کے لیے حکمت عملی پر مشاورت کی گئی، تاہم ذرائع کا دعویٰ ہے کہ بظاہر رسمی دکھائی دینے والی اس بیٹھک کے پس پردہ اصل مقصد پارٹی کے اندر بڑھتی بے چینی کو کنٹرول کرنا اور حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنا تھا، جس سے واضح ہوتا ہے کہ پیپلز پارٹی کو پونچھ ڈویژن میں اپنی سیاسی بقا کے لیے سخت چیلنجز کا سامنا ہے اور آنے والے دنوں میں حکومتی سطح پر اہم فیصلے متوقع ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں