پہلے ادریس اور اب ایوب

149


تحریر: ماجد افسر

دھیرکوٹ کوٹلی کی فضا یکے بعد دیگرے دو باصلاحیت اور بے مثال نوجوانوں کی جدائی پر سوگوار ہے۔ دونوں ناں صرف اچھے انسان تھے بلکہ عملی طور پر سماجی خدمت کی روشن مثال بھی تھے۔ دونوں نے ایسی معاشی تنگدستی میں آنکھ کھولی جہاں خواب دیکھنا بھی آسان نہ تھا مگر اس کے باوجود سخاوت اور دوسروں کے کام آنے کا جذبہ ان کی رگ رگ میں بسا ہوا تھا۔

مجھے آج بھی اچھی طرح وہ وقت یاد ہے جب مکان کچے اور لوگ سچے ہوا کرتے تھے۔ رنگلہ روڈ دھیرکوٹ پر ایوب کے والد سید اکبر صاحب (المعروف ربڑی پھائیا) کا ایک چھوٹا سا کھوکھا ہوا کرتا تھا۔ ہمارا پورا سکول اور کالج کا زمانہ آتے جاتے اسی دکان کے آس پاس گزرا۔ صرف میں ہی نہیں بلکہ میرے گاؤں سے دھیرکوٹ سکول کالج پڑھنے آنے والے تمام طلباء اور اہل محلہ بھی بازار میں اسی کھوکھے کو اپنا ٹھکانہ سمجھتے تھے۔

لینٹر والی چھت کے اوپر لکڑی اور جستی چادروں سے بنا وہ ننھا سا کھوکھا اور اس کے باہر رکھا لکڑی کا بنچ آج بھی آنکھوں کے سامنے ہے۔ ہم چھوٹے ہوتے تو بڑوں کو بیٹھا دیکھ کر انتظار کرتے کہ وہ اٹھیں تو ہمیں جگہ ملے۔ ایوب کے والد سے ہنسی مذاق کبھی شرارت کبھی ان سے پیار بھری ڈانٹ ڈپٹ کھانا ہائے کیا ہی لاجواب دن تھے۔ یوں ہم وہ آخری نسل ہیں جنہوں نے پانچ پیسے، دس پیسے، چار آنے اور آٹھ آنے کا دور بھی دیکھا۔

غربت سخت تھی مگر دل امیر تھے۔ چار آنے کی مٹھی بھر ٹافیاں سردیوں کی دھوپ میں بیٹھ کر مالٹے امرود اور خاص طور پر مونگ پھلیاں کھانا، وہ ذائقے اور وہ لمحات اب صرف یاد بن کر رہ گئے ہیں۔ پھر دور بدلہ اور صدی بدلی، زلزلہ آیا اور یوں لگا جیسے ایک پوری تاریخ، تہذیب، ثقافت اور کلچر اپنے ساتھ لے گیا۔ ناں وہ کھوکھا رہا ناں وہ بازار اور اب ربڑی پھائی کا وہ واحد سہارا پیارا ایوب بھی نہ رہا۔

وہ ایوب جس نے اپنے محنت کش والد اور پوری فیملی کو غربت کی تنگدستی سے نکالا۔ ہائے کیسا خوبصورت جوان جو ابھی کل ہی برف میں تصویریں بنا کر خوشی منا رہا تھا اور آج منوں مٹی تلے سو گیا ہے۔ ہائے بے اعتباری زندگی کہ وہ الفاظ کہاں سے لائے جائیں جو ایوب کی بیوہ، بچیوں، والدین اور پوری فیملی کے دکھ کا مداوا کر سکیں۔

اور ادریس جہانگیر کتنا ہمدرد اور متحرک نوجوان تھا۔ کافی عرصہ راولپنڈی کے علاقے لیاقت باغ میں ہم ساتھ رہے۔ مجھے یاد ہے کہ ادریس کے پاس ایک پرانے ماڈل کی ایف ایکس ٹیکسی تھی جس پر وہ محنت مزدوری کرتا تھا۔ انسانیت سے محبت کا یہ عالم تھا کہ اس کی ٹیکسی اکثر ضرورت مندوں کے کام آتی۔ کہیں کوئی مریض ہو یا کوئی غریب آدمی سواری مانگے تو ادریس ہر وقت حاضر رہتا تھا۔

خوشی ہو یا غمی ہمیشہ اپنے لوگوں میں سب سے آگے آگے رہتا تھا۔ پھر ادریس یو اے ای چلا گیا۔ وہاں اس نے نہ صرف خود کو اور اپنی فیملی کو غربت سے نکالا بلکہ دبئی میں رہتے ہوئے بھی اپنے لوگوں کیلئے ایسے کام کیا جو شاید کوئی بڑا سیٹھ بھی نہ کر پاتا۔ ہمارے علاقے میں کسی کو بھی ضرورت پڑتی تو دبئی سے ادریس سب سے پہلے سامنے ہوتا۔ ہم نے علاقے کے مسائل کے حل کیلئے امیدِ سحر کے نام سے ایک واٹس ایپ گروپ بنایا۔

جس پر جب بھی کوئی آواز لگائی جاتی تو سب سے پہلے دوبئی سے ادریس کا جواب آتا کہ میں نے دوبئی میں اپنی کمیونٹی سے رابطہ کر لیا ہے اور جلد آپ کو اطلاع دوں گا۔ چند روز قبل ادریس واپس وطن آیا۔ اسلام آباد پہنچتے ہی سینے میں درد محسوس ہوا اور آر آئی سی راولپنڈی میں داخل ہوا جہاں دل کا دورہ پڑنے سے خالق حقیقی سے جا ملا۔

یوں پہلے ادریس اور اب ایوب ہماری کمیونٹی دو قیمتی انسانوں سے محروم ہو گئی۔ ان کے بیوی بچوں، والدین اور ہزاروں سوگوار دلوں کے دکھ کا مداوا الفاظ میں ممکن ہی نہیں ہے۔ اے کاش! ایسے پیارے اور بے لوث انسان دنیا میں آتے اور رہتی دنیا تک ہمارا ساتھ نبھاتے۔ اے کاش

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں