تحریر:راجہ صدام حسین
آزاد ریاست جموں و کشمیر کے ضلع جہلم ویلی کی تحصیل چکار کے نواحی گاؤں بیل میں پیش آنے والا دل دہلا دینے والا واقعہ اب محض ایک سانحہ نہیں رہا بلکہ یہ ہمارے اجتماعی ضمیر، ریاستی نظام اور انصاف کے ڈھانچے کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکا ہے۔ ایک کم سن معصوم بچی کی پراسرار موت کو عجلت میں خودکشی قرار دینا اور بغیر پوسٹ مارٹم تدفین کرنا ایسے سوالات کو جنم دیتا ہے جن کے جواب دینا اب ناگزیر ہو چکا ہے۔یہ معاملہ محض ایک حادثہ نہیں بلکہ سنگین قانونی، اخلاقی اور سماجی پہلوؤں کا مجموعہ ہے۔اس واقعے میں قتل کا عنصر موجود ہے تو اسے خودکشی کا رنگ دینا نہ صرف جرم ہے بلکہ انصاف کے قتل کے مترادف بھی ہے۔ اس سے بڑھ کر تشویشناک پہلو یہ ہے کہ پولیس، انتظامیہ اور مقامی ممبر اسمبلی اور اس کے حواریوں کی مبینہ خاموشی اور ممکنہ ملی بھگت اس پورے واقعے کو مزید مشکوک بنا رہی ہے۔
ماضی گواہ ہے کہ ایسے کئی واقعات میں سچ کو دبانے کی روایت موجود رہی ہے۔ کبھی سماجی دباؤ، کبھی سیاسی اثر و رسوخ اور کبھی ادارہ جاتی کمزوریوں کے باعث حقائق کو مسخ کیا جاتا رہا۔ اگر یہی روش آج بھی جاری ہے تو یہ نہ صرف قانون کی توہین ہے بلکہ مستقبل کے لیے ایک خطرناک مثال بھی ہے، جہاں ہر کمزور اور بے آواز فرد انصاف سے محروم ہو سکتا ہے۔
موجودہ صورت حال اس سے بھی زیادہ تشویشناک ہے۔ مشکوک حالات میں فوری تدفین، پوسٹ مارٹم کا نہ ہونا، عینی شاہدین کے بیانات کو نظرانداز کرنا اور پولیس کی غیر مؤثر کارروائی اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ کہیں نہ کہیں سنگین کوتاہی یا دانستہ پردہ پوشی ہو رہی ہے۔ مقامی افراد کی خاموشی بھی ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ آیا یہ خوف کا نتیجہ ہے یا کسی دباؤ کا؟ اگر معاشرہ خود سچ بولنے سے گریز کرے تو انصاف کی بنیادیں کھوکھلی ہو جاتی ہیں۔
مقامی سیاسی قیادت خصوصاً ممبر اسمبلی کا کردار بھی اس معاملے میں شدید تنقید کا متقاضی ہے۔ عوامی نمائندے اگر اپنے حلقے میں ایسے حساس واقعے پر خاموش رہیں یا محض رسمی بیانات تک محدود رہیں تو یہ ان کی ذمہ داریوں سے صریح انحراف ہے۔ قیادت کا فرض ہے کہ وہ سچ کے ساتھ کھڑی ہو، متاثرہ مقتول کو انصاف دلانے کے لیے مؤثر آواز بلند کرے اور کسی بھی دباؤ یا مصلحت کو خاطر میں نہ لائے۔پولیس اور انتظامیہ پر اس معاملے میں سب سے بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ ایک مشکوک موت کی صورت میں ضابطہ فوجداری کی دفعہ 174 کے تحت انکوائری اور میڈیکو لیگل کارروائی لازم ہے۔ پوسٹ مارٹم نہ کروانا یا اسے نظرانداز کرنا بنیادی تفتیشی تقاضوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اگر شواہد کو چھپایا گیا ہو تو تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 201 لاگو ہوتی ہے، جبکہ کسی بھی ممکنہ قتل کی صورت میں دفعہ 302 کے تحت مقدمہ درج ہونا چاہیے۔
مزید برآں، اگر کسی سرکاری اہلکار نے جان بوجھ کر اپنی ذمہ داری ادا نہیں کی تو اس پر دفعہ 166 اور 217 کے تحت کارروائی ہو سکتی ہے۔ اسی طرح جرم میں سہولت کاری یا معاونت کی صورت میں دفعہ 34 اور 109 بھی لاگو ہو سکتی ہیں۔تکنیکی اعتبار سے بھی یہ کیس کئی اہم سوالات اٹھاتا ہے۔ کیا جائے وقوعہ کا فرانزک معائنہ کیا گیا؟ کیا ڈی این اے شواہد محفوظ کیے گئے یا ضائع ہونے دیے گئے؟ کیا گواہوں کے بیانات مجسٹریٹ کے سامنے قلمبند کیے گئے؟ اگر یہ تمام مراحل نظرانداز کیے گئے ہیں تو یہ محض غفلت نہیں بلکہ ایک سنگین ادارہ جاتی ناکامی ہے جو پورے نظام پر سوال اٹھاتی ہے۔یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ بعض اوقات سماجی دباؤ، بدنامی کے خوف یا اندرونی تنازعات کے باعث ورثاء خود بھی جلدی تدفین کو ترجیح دیتے ہیں، مگر قانون اس حوالے سے واضح ہے کہ مشکوک موت کی صورت میں ریاست کی ذمہ داری فرد یا خاندان کی خواہش سے بالاتر ہوتی ہے۔
ریاست کا اولین فرض سچ کو سامنے لانا اور انصاف کو یقینی بنانا ہے۔مستقبل کا تقاضا ہے کہ اس واقعے کو ایک مثال بنایا جائے—ایسی مثال جہاں سچ کو دفن نہیں بلکہ بے نقاب کیا جائے۔ اگر آج بھی اس کیس کو نظرانداز کیا گیا تو کل ہر کمزور فرد اسی اندھیرے کا شکار ہو سکتا ہے۔ انصاف صرف ہونا ہی نہیں چاہیے بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہیے۔اب وقت آ چکا ہے کہ اس واقعے کی شفاف، غیر جانبدار اور اعلیٰ سطحی انکوائری کرائی جائے۔ عدالتی نگرانی میں تحقیقات، قبر کشائی اور دوبارہ پوسٹ مارٹم، فرانزک تجزیہ، عینی شاہدین کے بیانات کا اندراج اور پولیس و انتظامیہ کے کردار کا کڑا احتساب ہی وہ راستہ ہے جو سچ تک پہنچا سکتا ہے۔ اگر کوئی بھی فرد، خواہ وہ ورثاء میں سے ہو یا سرکاری اہلکار، قصوروار پایا جائے تو اسے قانون کے کٹہرے میں لانا ناگزیر ہے۔
یہ صرف ایک بچی کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کے انصاف کا مقدمہ ہے۔ حکومت، پولیس اور انتظامیہ کے لیے یہ لمحہ فکریہ ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کا ادراک کریں۔ بصورت دیگر عوام کا اعتماد، جو پہلے ہی متزلزل ہے، مزید کمزور ہو جائے گا۔ ایک معصوم جان کی قیمت پر خاموشی یا مصلحت نہ صرف قابل مذمت ہے بلکہ ناقابل معافی بھی۔وقت آ گیا ہے کہ سچ کو دفنانے کی روایت کو ہمیشہ کے لیے دفن کر دیا جائے، ورنہ یہ خاموش قبریں کل ہمارے نظام انصاف کا نوحہ بن جائیں گی۔