کے ایس ایل نے غیرقانونی اور متنازعہ قرار دینے پر سپورٹس اور اطلاعات کے خلاف قانونی چارہ جوئی کے لئے مشاورت شروع کر دی

138

اسلام آباد(سٹیٹ ویوز) ذرائع کے مطابق کشمیر سپریم لیگ(کے۔ایس ایل) کی انتظامیہ نے سپورٹس اور پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ آزاد حکومت ریاست جموں وکشمیر کے اقدام کے خلاف قانونی چارہ جوئی کیلئے لیگل ٹیم سے مشاورت شروع کر دی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ماضی میں کے ایس ایل کی انتظامیہ نے سپورٹس ڈیپارٹمنٹ سے این او سی مانگا تو ڈیپارٹمنٹ نے پہلے پی سی بی سے این او سی لانے کیلئے کہا۔بعد ازاں جب ڈیپارٹمنٹ کی تمام شرائط پوری کر لی گئیں تو ٹرائل کے لئے درخواست پر این او سی جاری کرنے یا اعتراض لگا کر واپس کرنے کی بجائے نامعلوم ترجمان کی طرف سے نہ صرف پریس ریلیز جاری کی بلکہ پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کی آئی ڈی سے اشتہار شائع کیا اور ایک ویڈیو رپورٹ بھی بنائی جس میں کے ایس ایل کو غیر قانونی اور متنازعہ قرار دیا گیا۔

یاد رہے کہ آزاد کشمیر پی سی بی کا ایک ریجن ہے ۔کے ایس ایل کے پاس نہ صرف پی سی بی کا این او سی ہے بلکہ یہ ملک میں ایس ای سی پی اور آزادکشمیر میں کمپنیز ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ ہے جس کے سپریم برینڈ ایمبیسڈر ملک کے نامور کرکٹر شاہد آفریدی ہیں اور معین خان اس کے انتظامی امور کی نگرانی کرتے ہیں نیز کے ایس ایل تاحال آزادکشمیر بھر میں ٹرائلز کی متمنی ہے۔

ذرائع بتا رہے ہیں کہ سپورٹس اور پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے غیر ذمہ دارانہ اقدام اور پارٹی بنکر ڈیل کرنے سے نہ صرف کے ایس ایل کی ساکھ کو نقصان پہنچا بلکہ مبینہ سازش کے تحت جاری پریس ریلیز اور اشتہار کیوجہ سے سپانسرز کے اعتماد کو بھی ٹھیس پہنچی۔

ذرائع کہتے ہیں کہ کے ایس ایل کی انتظامیہ کی وکلاء کی ٹیم سے مشاورت جاری ہے۔سپورٹس اور پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹس کو لیگل نوٹس جاری کیا جائے گا جس میں ڈیپارٹمنٹس سے استدعا ہو گی کہ وہ ثابت کریں کہ کے ایس ایل غیر قانونی اور متنازعہ ہے تو اس صورت میں کے ایس ایل کی انتظامیہ اداروں اور پوری قوم سے معافی مانگے گی بصورت دیگر ازالہ کریں۔اگر ڈیپارٹمنٹس نے معقول جواب نہ دیا تو اربوں روپے ہرجانے کا دعویٰ کیا جائیگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں