گلگت بلتستان میں ڈائریکٹر معدنیات کے عہدے پر تعینات رہنے والے سینئر افسر محمد زبیر کے حالیہ تبادلے کے بعد سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔
ذرائع کے مطابق محمد زبیر اس سے قبل بھی محکمہ معدنیات میں خدمات انجام دے چکے ہیں، جس کے بعد ان کا تبادلہ محکمہ مالیات میں کیا گیا تھا۔ بعد ازاں ان کے حوالے سے مختلف نوعیت کی رپورٹس اور انکوائری کی باتیں بھی سامنے آئیں، تاہم اس سلسلے میں کوئی حتمی اور واضح سرکاری مؤقف عوام کے سامنے نہیں آ سکا۔ اب ایک بار پھر انہیں محکمہ معدنیات میں ڈائریکٹر کے طور پر تعینات کیا گیا ہے، جسے بعض حلقے ان کے تجربے اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں پر اعتماد کا اظہار قرار دے رہے ہیں۔
اس پیش رفت پر عوامی و سوشل میڈیا حلقوں میں ملا جلا ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ کچھ لوگ ان کی واپسی کو ایک مثبت قدم قرار دیتے ہوئے ان کی سابقہ کارکردگی، نظم و ضبط اور ادارہ جاتی بہتری کے لیے کیے گئے اقدامات کو سراہ رہے ہیں، جبکہ دیگر حلقے اس فیصلے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے شفافیت اور وضاحت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے انتظامی فیصلے سرکاری نظام کا حصہ ہوتے ہیں، تاہم ان پر مختلف آراء کا سامنے آنا بھی ایک فطری عمل ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی افسر کی کارکردگی کا حتمی اندازہ وقت اور عملی نتائج سے ہی لگایا جا سکتا ہے، تاہم ماضی کی کارکردگی کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
مبصرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ متعلقہ ادارے واضح معلومات فراہم کریں تاکہ عوام میں پائے جانے والے ابہام کو دور کیا جا سکے، جبکہ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ آنے والے وقت میں محمد زبیر کی کارکردگی ہی اس فیصلے کے درست یا غلط ہونے کا تعین کرے گی.