اسلام آباد :ہدیہ الہادی کے زیر اہتمام ملکی موجودہ صورتحال پر منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں کے عنوان سے سیمینار کا انعقاد

64

اسلام آباد(سید عامر گردیز ی،سٹیٹ ویوز) اسلام آباد کے نجی ہوٹل میں “منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں” کے عنوان سے سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ فکر انگیز سیمینار کی سرپرستی پیر سید ہارون علی گیلانی امیر ہدیہ الہادی پاکستان نے کی۔ سیمینار کی میزبانی کے فرائض صدر ہدیہ الہادی اسلام آباد راجہ آصف یعقوب نے ادا کئے۔اس سیمینار کا بنیادی مقصد ملک میں موجودہ غیر یقینی اور مایوس کن صورتحال سے نکل کر ملک و ملت کو ایک ایسا راستہ دکھایا جائے جہاں عوام کے بنیادی مسائل سمیت بنیادی حقوق کا حل ہو۔اس حوالے سے مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ملک ہیجانی کیفیت کا شکار ہے۔آئین کے مطابق ملک میں جمہوریت ہے لیکن حقیقی معنوں میں جمہوریت کیساتھ مذاق ہو رہا ہے۔عوام ووٹ اپنے پسندیدہ امیداوار کو دیتی ہے لیکن اسکی جب گنتی کا وقت آتا ہے تو وہ ووٹ مخالف امیداوار کے حق میں چلا جاتا ہے۔

تو ایسے میں جب عوامی رائے کا احترام نہیں کیا جارہا تو ملک کیسے ترقی کرے گا؟اس وقت کی سب سے اہم ضرورت یہ ہیکہ ہمیں بحیثیت قوم سیاسی ،مذہبی ،برادری ،قبیلہ اور علاقائی تقسیم سے نکل کر ایک قوم بن کر ملک کو آگے لے جانا پڑے گا۔مقررین کا مزید کہنا تھا کہ تمام اداروں کو آئینی حدود کے اندر رہ کر کام کرنا چاہیے۔جن ملکوں میں ادارے آئین و قانون کی پاسداری کرتے ہیں وہ ملک امریکہ ،چین ،جرمنی وجاپان بن جاتے ہیں۔

ہم نے اپنے اپنے مفادات کے لیے درجنوں ترامیم آئین میں کی ہیں ۔جس سے ملک کی سالمیت مضبوط ہونے کے بجائے کمزور ہوئی ہے۔اس حوالے سے مقررین نے اٹھارویں ترمیم کا حوالہ دیا جس کے باعث کئی ملکی ادارے جو اچھا خاصا منافع میں چل رہے تھے انکا وجود ہی ختم ہو گیا ہےاگر ہم جمہوری ملک ہونے کے دعویدار ہیں تو کیوں کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود ہمارے ملک میں الیکشن ریفارمز نہ کی جا سکیں ۔

اسکی بنیادی وجہ مقررین کے نزدیک یہ تھی کہ ملک کی اشرافیہ ہر وہ کام کرتی ہے جس سے انکی حکمرانی مضبوط سے مضبوط تر ہورہی ہے ۔موجودہ الیکشن سسٹم کے تحت وہی شخص ممبر اسمبلی بن سکتا ہے جس کے پاس اربوں روپے ہوں ۔عام اور قابل شہری کبھی بھی الیکشن لڑ کر اسمبلی میں پہنچ نہیں سکتا تو پھر ان اقتدار کے ایوانوں میں عام آدمی کی بات کیسے ہو گی؟

مقررین کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہمارے ہاں اب سیاسی جماعتیں اور انکے قائدین کسی دیوتا سے کم نہیں ہیں ۔ان کی اپنی اپنی پارٹی ہے ،اپنے کارکنان۔ان کارکنان کے نزدیک ان کے لیڈران دیوتا ہیں وہ کسی طرح کی کرپشن اور اور ملکی مفادات کیخلاف کام کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔حالانکہ ہمارے ملک میں آئے روز ایسے ایسے سکینڈلز سامنے آتے ہیں جن کوسن کر اور پڑھ کر روح کانپ جاتی ہے۔

موجودہ حالات میں ملک کو ایک نئی سیاسی جماعت کی ضرورت ہے جو ہر طرح کی تقسیم کے خلاف ہو ۔وہ آگے بڑھے اور عوام کو تقسیم کیے بغیر سب کو ساتھ لیکر ایک واضح ایجنڈاسامنے لائے. جس کا بنیادی مقصد ملک میں اس نظام کا نفاذ کیا جائے جس کی بنیاد پر اس ملک کو قائداعظم نے بنایا تھا۔جب ملک بنا تو اس وقت دو ہی قومیں تھیں ایک ہندو اور دوسری مسلمان لیکن پاکستان بننے کے بعد اس ملک میں ہر قبیلے نے اپنے قبیلے کو ایک قوم قرار دیا ۔

جس کے باعث تقسیم گاؤں اور محلے کی سطح سے شروع ہوئی اور اس تقسیم میں انگریزوں اور ہمارے وہ لوگ جو انکے پٹھو تھے انکا بہت اہم کردار رہا ہے۔ہمیں ایک قوم بننے کی طرف جانے ہی نہیں دیاگیا۔ہمیں مذہبی فرقوں اور سیاسی جماعتوں کے علاوہ دیگر گروہوں میں تقسیم کر دیا گیا۔

مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ اب حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ ہمیں ماضی کو کوسنے کے بجاۓ مستبقل کا سوچنا چاہیے اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل کر بیٹھنا چاہیے تاکہ ملک کو موجودہ سیاسی ،اخلاقی اور معاشی بحران سے نکال کر آگے لے جایا جاۓ۔ سیمینار میں مولانا محمد خان شیرانی سربراہ جے یو آئی ش، سابق چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل لیاقت بلوچ مرکزی نائب امیر جماعتِ اسلامی، ڈاکٹر سید مہدی رضا شاہ سبزواری سجادہ نشین قلندر لعل شہباز، خواجہ معین الدین محبوب کوریجہ سجادہ نشین کوٹ مٹھن شریف، پیر سید سعادت علی شاہ،سجادہ نشین چورہ شریف، عبداللہ حمید گُل سربراہ تحریکِ جوانان پاکستان، عبدالطیف ایم این اےچترال ،ملک ادریس ایم این اے کوہستان ،فتح المُلک علی ناصر مہتر چترال ایم پی اےلوئر چترال ، مولانا سید سرور شاہ معاونِ خصوصی وزیر اعلیِٰ گلگت بلتستان ، ریاست علی آزاد، مفتی معرفت شاہ، رضیت بِاللہ خان، عبدالوحید شاہ، حسین علی رانا، محمود احمد تبسم، راجہ نصیر عباس ، سید رفیق شاہ، مولانا شکیل جدون، سید مدثر گیلانی و دیگر معزز مہمانوں نے شرکت کی اور اظہارِ خیال کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں