ہمدرد یونیورسٹی اسلام آباد کیمپس میں “یادیں، باتیں” کے عنوان سے شہید حکیم محمد سعید کی زندگی، وژن اور خدمات کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے تقریب کا انعقاد

96

اسلام آباد:ہمدرد یونیورسٹی اسلام آباد کیمپس نے “یادیں، باتیں” کے عنوان سے ایک یادگاری تقریب کا انعقاد کیا تاکہ شہید حکیم محمد سعید، بانی ہمدرد فاؤنڈیشن پاکستان کی زندگی، وژن اور خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا جا سکے۔ تقریب میں خون کے عطیات، ذیابیطس کی روک تھام، غذائیت اور بچوں کی صحت سمیت اہم عوامی صحت کے مسائل کو اجاگر کیا گیا، اور ہمدرد کی طویل المدتی کمیونٹی خدمات کے عزم کی تصدیق کی گئی۔ تقریب میں معروف شخصیات، صحت کے ماہرین، اکیڈمیشین، طلباء اور قومی و بین الاقوامی اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔

سینیٹر مشاہد حسین سید، تقریب کے مہمانِ خصوصی، نے شہید حکیم محمد سعید کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان کی حقیقی پہچان اور ایک نادر کردار کے حامل رہنما تھے جو علم، کردار اور خدمت کو یکجا کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ حکیم سعید نے سابقہ سوویت یونین میں پہلی اردو کتاب تصنیف کی اور ان کی مشہور سفرنامہ سفرنامہ روس کو روس میں نمایاں مقام حاصل ہے۔ سینیٹر مشاہد نے کہا کہ شہید حکیم محمد سعید نوجوانوں کو مسلم اُمہ کا مستقبل سمجھتے تھے اور صحت کے شعبے میں متوازن اور جامع نقطہ نظر کی ترویج کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمدرد آج بھی پاکستان کے چند اداروں میں شامل ہے جو اپنی خدمات اور اثرات کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

میڈم سعدیہ راشد، چانسلر ہمدرد یونیورسٹی اور صدر ہمدرد فاؤنڈیشن پاکستان، نے کہا کہ ہمدرد کا قیام شہید حکیم محمد سعید کے وژن اور خدمات کی بنیاد پر ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ہمدرد یونیورسٹی صرف تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ تعلیم، صحت، تحقیق اور قومی خدمت کا ایک جامع مشن ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکیم محمد سعید شہید کے وژن پر ہمدرد کا ادارہ قائم ہوا، اور ہمدرد صرف جامع نہیں، طب کا اعلیٰ ترین ادارہ بھی ہے۔ میڈم سعدیہ راشد نے مزید کہا کہ طب کے شعبے میں حکیم محمد سعید شہید کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں، اور حکیم سعید کی کوششوں کو سراہنا اور آگے بڑھانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکیم سعید کی کاوشوں سے پاکستانی بچے طب کے میدان میں نام روشن کر رہے ہیں اور ہمدرد یونیورسٹی حکیم محمد سعید کے مشن کی عملی تصویر ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) معین الدین حیدر، سابق گورنر سندھ، نے کہا کہ شہید حکیم محمد سعید ایک غیر متنازع قومی ہیرو تھے۔ انہوں نے کہا کہ حکیم سعید نے قومی ادویات کو عالمی سطح پر متعارف کروانے میں اہم کردار ادا کیا اور ذاتی طور پر عالمی ادارہ صحت (WHO) سے رجوع کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمدرد ان کے شہادت کے بعد بھی کامیابی کے ساتھ آگے بڑھا اور آج پاکستان کے ساتھ بنگلہ دیش اور بھارت میں بھی فعال ہے۔حکیم عبدالحنان، صدر پاکستان ایسوسی ایشن آف ایسٹرن میڈیسن (PAEM)، نے شہید حکیم محمد سعید کو صحت اور تعلیم کے شعبے کے لیے روشنی کی مانند قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ شہید حکیم محمد سعید کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ خدمت، علم اور اخلاقیات انسانیت کے لیے سب سے بڑی میراث ہیں۔ انہوں نے مزید کہا:”شہید حکیم سعید کی خدمات ہمیں یہ سکھاتی ہیں کہ علم اور خدمت انسان کو زندہ رکھتے ہیں، اور ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی زندگی میں علم، کردار اور خدمت کو ترجیح دے۔”

حکیم عبدالحنان نے کہا کہ شہید حکیم محمد سعید نہ صرف اپنے ادارے کے لیے بلکہ پوری قوم کے لیے مشعلِ راہ تھے۔ ان کا وژن آج بھی نوجوانوں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہے، اور ہمیں چاہیے کہ ہم ان کے اصولوں کو یاد رکھیں اور اپنی زندگی میں انہیں عملی طور پر نافذ کریں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے عظیم شخصیات کی خدمات کو یاد رکھنا اور آگے بڑھانا ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔مسٹر شہزاد عالم، WHO کے نمائندے، نے ہمدرد کی صحت کے شعبے میں خدمات کو سراہا اور پاکستان میں عالمی ادارہ صحت کے پروگراموں، بشمول عالمی یوم صحت کی ترویج میں میڈم سعدیہ راشد کے تعاون کو سراہا۔

ڈائریکٹر جنرل ہمدرد یونیورسٹی اسلام آباد کیمپس، جناب امتیاز حیدر، نے اپنے خطاب میں کہا کہ شہید حکیم محمد سعید کا ماننا تھا کہ قومیں محض الفاظ سے نہیں بلکہ کردار اور خدمت سے بنتی ہیں۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ ہمدرد یونیورسٹی تعلیم کو اخلاقیات، تحقیق اور سماجی ذمہ داری کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ تمام معزز مہمانوں اور شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایسی تقریبات محض یادگاری نہیں ہوتیں بلکہ علم، اخلاقی اقدار اور انسانیت کی خدمت کے لیے اجتماعی عزم کی تجدید کا ذریعہ بنتی ہیں۔

تقریب اتحاد، غور و فکر اور عزم کے مضبوط پیغام کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی، جس میں شہید حکیم محمد سعید کی دیرپا خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا اور پاکستان کے مستقبل کے لیے نہایت اہم صحت کے مسائل سے متعلق آگاہی کو فروغ دیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں