05فروری تجدید عہد

136

تحریر : محمد شہباز
آج پانچ فروری یوم یکجہتی کشمیر ہے،یہ دن اہل کشمیر کی جدوجہد آزادی میں ایک سنگ میل ہے،اس دن نہ صرف آزاد جموں و کشمیر اور پاکستان بلکہ دنیابھر میں مقیم کشمیری ،پاکستانی اور مہذب اقوام جہاں اہل کشمیر کی مظلومیت کیساتھ بھر پور اظہار یکجہتی کرتے ہیں،وہیں بھارتی بربریت،سفاکیت اور اہل کشمیر پر ڈھائے جانے والے مظالم پر نہ صرف بھارت کی مذمت بلکہ شدید نفرت اور غم وغصے کا اظہار بھی کیا جاتا ہے۔آج کے دن کا آغاز مساجد میں مقبوضہ جموں وکشمیر کی آزادی کیلئے دعائوں، آزاد جموں و کشمیر کو پاکستان کیساتھ ملانے والے پلوں اور شاہراہوں پر انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنا کر مظلوم مگر مزاحمت کے سرخیل اہل کشمیر کیساتھ یکجہتی کا لازوال اور بے مثال اظہار کیا جاتا ہے۔وہیں آزاد جموں وکشمیر اور پاکستان میں آج عام تعطیل کے علاوہ مختلف سمینارز،تقاریب ،جلسے ،جلوس اور ریلیوں کا انعقاد کرکے اس عزم کی تجدید کی جاتی ہے کہ جدوجہد آزادی میں مصروف عمل کشمیری عوام تنہا نہیں ہیں۔ آج کے دن کیلئے پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد کو ایک ہفتہ قبل ہی بینروں اور پلے کارڈز سے سجایا جاتا ہے.

جن پر اہل کشمیر کو ان کی آزادی تک پاکستان کی سیاسی ،سفارتی اور اخلاقی حمایت کا یقین دلانے کیساتھ ساتھ مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدر آمد کے حق میں تحریریں درج ہوتی ہیں،جبکہ حکومت پاکستان کی جانب سے اپنے کشمیری بہن بھائیوں کو اس امر کی یقین دہانی کرائی جاتی ہے کہ اہل پاکستان کل بھی ان کی حمایت و مدد کیلئے کمر بستہ تھے ،آج بھی ہیں اور آزادی کی صبح تک اس میں کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہیں کیا جائے گا۔پاکستان میں کراچی سے لیکر خیبر اور گلگت بلتستان تک تمام سیاسی ،مذہبی،سماجی اور سول سوسائٹی گروپوں کی جانب سے جلسے جلوسوں میں اپنے کشمیری بھائیوں کو بھارت کے غاصبانہ اور ناجائز قبضے کے خاتمے کی جدوجہد پر خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے۔آج کے دن کی داغ بیل 1990 میں جناب قاضی حسین احمد نے آزاد جموں وکشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد میں ایک بڑے عوامی جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے ڈالی تھی ۔اس کے بعد یہ دن پورے پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر میں سرکاری اہمیت اختیار کرگیا،جناب قاضی حسین احمد اہل کشمیر کے حقیقی پشتیبان،ہمدرد،غمخوار اور مدد گار تھے۔

یہ انہی کی دیں ہے کہ پورے پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر میں 5 فروری ایک ایسی خصوصی اہمیت اختیار کرگیا جو تحریک آزادی کشمیر کیلئے لازم و ملزوم ہے،یوں جناب قاضی حسین احمد بھی تحریک آزادی کشمیر اور تاریخ میں ہمیشہ کیلئے امر ہوگئے۔ اہل کشمیر گو کہ گزشتہ 79 برسوں سے مقبوضہ جموں وکشمیر پر بھارت کے غیر قانونی،غیر آئینی،غیر اخلاقی،غاصبانہ اور ناجائز قبضے کے خاتمے کیلئے جدوجہد کررہے ہیں،لیکن 1989 میں مقبوضہ جموں و کشمیر پر ناجائز بھارتی قبضے کے خاتمے کیلئے اہل کشمیر نے اپنے حق خود ارادیت کے حصول کیلئے جو عظیم اور لازوال جدوجہد شروع کی ہے ،اس جدو جہد میں تب سے لیکر آج تک ایک لاکھ کے قریب کشمیری اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرچکے ہیں،بھارتی دہشت گردی کے نتیجے میں23000ہزار سے زائد خواتین بیوہ اور ایک لاکھ اٹھ ہزار سات بچے یتیمی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں،بھارتی سفاکوں نے 12000 سے زائد کشمیری خواتین کی اجتماعی ابرویزی بھی کی۔ ہزاروں نوجوانوں کو دوران حراست فرضی جھڑپوں میں شہید کیا گیا۔

مقبوضہ جموں و کشمیر کے طول عرض میں ہزاروں گمنام قبریں دریافت ہوچکی ہیں ،جن میں ہزاروں کشمیریوں کو اجتماعی طور پر دفن کیا گیا،اربوں روپے کی جائیداد و املاک تباہ جبکہ بھارتی دہشت گردی کے نتیجے میں کھیت و کھیلان تباہی اور ویرانی کے مناظر پیش کررہے ہیں۔آج بھی معصوم کشمیری نوجوانوں کو فرضی جھڑپوں میں شہید کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ان تمام ظالمانہ اور سفاکانہ کاروائیوں کا مقصد اہل کشمیر کو جدوجہد آزادی سے دستبردار کرانا ہے۔مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی 16سے زائد قرار دادیں 79برس قبل منظور کی جاچکی ہیں جو آج بھی عملدر آمد کی منتظر ہیں۔بھارتی حکمران خود مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ میں لیکر گئے اور پھر پوری دنیا کو گواہ ٹھہرا کر اہل کشمیر کیساتھ استصواب رائے کا وعدہ کیا۔مگر نہ اہل کشمیر کو آج کے دن تک اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کیلئے استصواب رائے کا انعقاد کیا گیا بلکہ کشمیری عوام نے جب پرامن جدو جہد کے بعد بھارت کے غاصبانہ قبضے کے خاتمے کیلئے مسلح جدوجہد شروع کی تو بھارت نے اہل کشمیر کو اس جدوجہد سے دستبردار کرانے کی غرض سے ایسے مظالم ڈھائے کہ جن کی تاریخ میں بہت کم مثالیں ملتی ہیں۔

وہ کون سا ہتھکنڈا،ظلم و جبر اور بربریت نہیں جس کا بھارتی حکمرانوں نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں مظاہر ہ نہ کیا ہو،مگر حالات کے تمام تر جبر کے باوجود اہل کشمیر نہ تو عظیم اور لازوال قربانیوں سے مزین جدوجہد آزادی سے دستبردار ہوئے اور نہ ہی قربانیاں دینے میں کوئی دقیقہ فرو گزاشت کیا اور کررہے ہیں۔اہل کشمیر نے ایسے گبرو جوان اس تحریک پر قربان کیے کہ جن پر تاریخ بھی ناز کررہی ہے اور اہل کشمیر بھی ایسے سپوتوں پر تاصبح قیامت فخر کرتی رہے گی۔اس تحریک کو کبھی غلام محمد بلہ جیسے نوجوانوں نے اپنے گرم گرم لہو سے سینچا،تو کبھی اعجاز احمد ڈار نے اپنے خون سے اس تحریک کی آبیاری کی،محمد مقبول الہی اورمحمد اشرف ڈار جیسے سرخیل بھی اہل کشمیر نے پیدا کیے،تو شمس الحق سے لیکرغلام رسول ڈار، علی محمد ڈار،میراحمد حسن،انعام اللہ خان سے غازی نصیب الدین’عبد الماجد ڈار’ناصر الاسلام ‘مظفر احمد ‘عبد القادر’روف الاسلام اور عبد الستار افغانی تک اس تحریک کی قیادت کے فرائض سر انجام دے چکے ہیں۔برہان وانی جیسے شہرہ آفاق نوجوان بھی بھارت کو تگنی کا ناچ نچا چکے ہیں۔

نیوٹن ثانی بھی اہل کشمیر تحریک آزادی کی نذر کرچکے ہیں،ڈاکٹر سبزار،منصور الاسلام ،محمد ریاض نائیکو،جنید صحرائی اور ڈاکٹر سیف اللہ بھی اپنی نذر پوری کرچکے ہیں۔جبکہ محمد مقبول بٹ اس جدوجہد کے اولین سرخیل ٹھہرے ہیں۔اہل کشمیر کیساتھ یکجہتی کا اظہار جہاں ان کے حوصلوں کو مزید تقویت بخشنے کا باعث ہے، وہیں عالمی برادری کو بھارت کا دست قاتل روکنے کیلئے عملی اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ کشمیری عوام کو بھارتی دہشت گردی اور قتل و غارتگری سے بچایا جاسکے۔ 05فروری کو پوری دنیا میں بھی جہاں احتجاج،مظاہرے اور جلسے جلوس نکالے جاتے ہیں وہیں دنیا بھر میں بھارتی سفارتخانوں کو یاداشتیں بھی پیش کی جاتی ہیں۔اس کے علاوہ اقوام متحدہ کا ضمیر جگانے کیلئے اسے اپنی قرار دادوں پر عملدرآمد کرانے پر زور دیا جاتا ہے،جن میں کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کو تسلیم کیا جاچکا ہے۔05 فروری کا دن اب ایک علامت بن چکا ہے۔اس دن جہاں اہل کشمیر کو یہ یقین دہانی کرائی جاتی ہے کہ پوری دنیا کے آزادی پسند اور مہذب لوگ شانہ بشانہ ان کیساتھ ہیں وہیں بھارتی حکمرانوں باالخصوص فسطائی مودی کو لگام ڈالنا وقت کی ضرورت ہے،جس نے اہل کشمیر کا جینا دو بھر کرنے کے علاوہ پورے خطے کا امن دائو پر لگادیا ہے۔

پھر05اگست 2019 میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370اور35اے کا خاتمہ کرکے اسے بھارت کے زیر انتظام دو علاقوں میں ضم کردیا ،05اگست 2019 سے بھارت نے 90 لاکھ کشمیریوں پر فوجی محاصرہ مسلط کرکے عملا اہل کشمیر کو دیوار کیساتھ لگادیا ہے،ہزاروں نوجوانوں کو گرفتار کرکے بھارت کی دور دراز جیلوں میں مقید کیا گیا،پوری آزادی پسند قیادت بھی بھارتی جیلوں میں پابند سلاسل کی گی ہے۔حتی کہ درجنوں خواتین بھی بھارت کی دوردراز جیلوں میں بند ہیں۔جناب محمد اشرف صحرائی جیل کی چار دیواری کے اندر ہی اپنے خالق حقیقی سے جاملے،بطل حریت سید علی گیلانی ایک دہائی تک سرینگر میں اپنی رہائش گاہ پر نظر بند رکھے گئے اور دوران نظر بندی ہی وہ اللہ کو پیارے ہوگئے۔ان کی قبر پر آج بھی مسلح بھارتی فوجیوں کا پہرہ ہے ۔غلام محمد بٹ اور الطاف احمد شاہ بھی بھارتی جیلوں کے اندر ہی اپنی نذر پوری کرچکے ہیں۔مگر بھارت کا دست قاتل نہ تو رکنے کا نام لے رہا ہے اور نہ ہی اہل کشمیر کو اپنے خیالات کا اظہار کرنے دیا جارہا ہے،مقبوضہ جموں و کشمیر میں آزادی اظہار رائے کا گلہ گھونٹا جارہا ہے.

آزادی صحافت مفقود ہے کیونکہ ہر گزرتے دن کیساتھ کشمیری صحافیوں کو پولیس تھانوں میں طلب کرکے انہیں اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی سے روکا جاتا ہے۔کشمیری نوجوانوں کو شہید کرنے کے بعد ان کی میتیں بھی لواحقین کے حوالے کرنے کے بجائے انہیں دور دراز علاقوں میں بھارتی فوجیوں کے زیر استعمال قبرستانوں میں دفن کی جاتی ہیں ،غرض کہ اہل کشمیر کو ہر بنیادی انسانی حق سے محروم رکھا گیا ہے۔کشمیری عوام کی جائیداد و املاک اور رہائشی مکانوں پر قبضہ اور مسلمان کشمیری ملازمین کو نوکریوں سے برطرف کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اس کے علاوہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں لاکھوں بھارتیوں کو یہاں کا ڈو میسائل فراہم کیا جاچکا ہے۔ ان تمام سفاکانہ کاروائیوں کا مقصد مقبوضہ جموں و کشمیر میں مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنا ہے ۔ایسے میں 5فروری یوم یکجہتی کشمیر کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے کہ اہل کشمیر کو یہ پیغام دیا جائے کہ وہ بھارت کے غاصبانہ اور ناجائز قبضے کے خاتمے کیلئے جدوجہد میں اکیلے اور تنہا نہیں بلکہ پوری دنیا باالعموم اور اہل پاکستان و اہل آزاد جموں و کشمیر باالخصوص ان کیساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں،اور اس سلسلے میں کوئی دباو قبول نہیں کیا جارہا ہے۔یہاں تک کہ غاصب بھارت کیلئے مقبوضہ جموں وکشمیر کی سرزمین سے راہ فرار کے سوا کوئی دوسرا آپشن باقی نہ رہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں