10 مئی کو ریاست گیرپہیہ جام و شٹر ڈاون ہڑتال ،انوار سرکار بوکھلاہٹ کی شکار،احتجاج روکنے کیلئے کریک ڈائون،50سے زائد افراد گرفتار

42

اسلام آباد، مظفرآباد، میرپور(نمائندگان، نیوز ایجنسیاں) وزیر اعظم چوہدری انوار الحق کی حکومت عوامی حقوق کی احتجاجی تحریک شروع ہونے سے قبل ہی بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئی،پنجاب اور خیبر پختونخواہ سے پولیس کے ہزاروں افراد آزادکشمیر میں پہنچ کر ذمہ داریاں سنبھال چکے،

آزادکشمیر حکومت نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے 11 مئی کے ریاست گیر احتجاج کے پیش نظرآزادکشمیر کے تمام اضلاع میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے مظفرآباد، کوٹلی، ڈڈیال سمیت مختلف شہروں میں گرفتاریاں شروع کر دیں،صدر انجمن تاجران مظفرآباد کے گھر بھی پولیس کا چھاپہ، جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے پیداواری لاگت پر بجلی مہیا کرنے، گلگت کے برابر آٹے پر سبسڈی دینے، اشرافیہ کی مراعات کے خاتمے کیلئے11 مئی کی بجائے 10 مئی کو ریاست بھر میں پہیہ جام و شٹر ڈاون ہڑتال کا اعلان کر دیا،

میرپور، مظفرآباد اور پونچھ ڈویثرن مکمل طور پر بند کرنے کا اعلان کر دیا گیا۔ تاجران، بلدیاتی نمائندگان، وکلاء، سول سوسائیٹی نے عوامی ایکشن کمیٹی کی کال پر ریاست گیر احتجاج کی مکمل حمایت کر دی۔ڈڈیال میرپور میں پولیس نے شہریوں کے گھروں میں داخل ہو کر رات کے وقت 50سے زائد افراد گرفتار کر لیے،

ڈدیال میں سینکڑوں شہریوں نے جمع ہو کر اسسٹنٹ کمشنر دفتر پر حملہ کر دیا، سینکڑوں مظاہرین نے اسسٹنٹ کمشنر کی گاڑی توڑ دی، سرکاری عملے پر تشدد کرتے ہوئے دفاتر سے باہر نکال دیا۔ڈڈیال میں گرفتاریوں کے خلاف میرپور، کوٹلی، حویلی و دیگر شہروں میں بھی عوام سڑکوں پر نکل آئے،

تفصیلات کے مطابق گیارہ مئی کو عوامی حقوق کیلئے ریاست بھر میں احتجاج کی کال کو دیکھتے ہوئے آزادکشمیر پولیس نے تحریک کے پہلے مرکز ڈڈیال میں ایکشن کمیٹی ممبران اور متحرک کارکنان کے گھروں پر چھاپے مارے اور گرفتاریاں کیں، جس کے جواب میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے ریاست بھر میں 10 مئی کو احتجاج کی کال دی ہے،

آزادجموں کشمیر بار کونسل نے ڈڈیال میں وکلاء سمیت پر امن مظاہرین کی رہائی کیلئے حکومت کو شام پانچ بجے تک کی مہلت دے دی، آزادجموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے 11 مئی کی احتجاجی کال کو 10 مئی کو کرنے کا اعلان کر دیا ہے، پیداواری لاگت پر بجلی، گلگت کے برابر آٹے پر سبسڈی اور اشرافیہ کی مراعات ختم کرنے کیلئے یہ احتجاجی کال دی گئی ہے۔

ممبر عوامی ایکشن کمیٹی و صدر انجمن تاجر مظفرآباد شوکت نواز میر نے آج رات سے ریاست بھر میں پہیہ جام و شٹر ڈاون ہڑتال کا اعلان کردیا، شوکت نواز میر نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ آزاد کشمیر حکومت نے11مئی کو پر امن احتجاج کی کال سے قبل ہی شہریوں کی غیر قانونی گرفتاریاں اور تشدد کیا ہے، جس کے خلاف عوام باہر نکلیں، ڈڈیال میں غیر قانونی گرفتار کیے گئے شہریوں کو فوری رہا کیا جائے، پر امن احتجاج ہمارا حق ہے، عوامی حقوق کیلئے جدوجہد سے کوئی نہیں روک سکتا۔

یا درہے کہ آزادکشمیر میں عوامی ایکشن کمیٹیوں کا وجود8مئی 2023ء کو راولاکوٹ میں آٹے کے بحران کے نتیجے میں احتجاج شروع ہونے کے بعد عمل میں آیا جسے ابتداً پونچھ عوامی ایکشن کمیٹی کا نام دیا گیا۔ راولاکوٹ سے شروع ہونے والی یہ تحریک اس وقت پورے آزادجموں وکشمیر میں پھیل گئی جب محکمہ برقیات کی جانب سے ماہ اگست کے بجلی بلات تقسیم کیے گئے۔

حکومت نے بجلی بلات میں پروٹیکٹڈ اور ان پروٹیکٹڈ کی دو نئی اصطلاحات متعارف کروا کر لوگوں پر حقیقتاً بجلی کا بم گرا دیا اور 200یونٹ سے زیادہ بجلی استعمال کرنے والوں کو جب بجلی کا دگنا بل وصول ہوا تو ان کی چیخیں نکل گئیں۔ حکومت کے اس اقدام کے خلاف مظفرآباد میں طلباء نے احتجاج شروع کیا جس میں تاجروں نے بھی اپنا وزن ڈال دیا اور 31اگست 2024کو مظفرآباد بھر میں شٹرڈاؤن اور پہیہ جام کی کال دے دی گئی۔

پونچھ میں ایکشن کمیٹی نے آٹے کے ساتھ ساتھ بجلی کو بھی موضوع بحث بنا لیا اور ساتھ ہی میرپور کو بھی اپنے ساتھ شامل کر لیا جہاں دونوں ڈویژنز میں وکلاء کمیونٹی کی بھرپور سپورٹ کے ساتھ 5ستمبر کو شٹرڈاؤن اور پہیہ جام کی کالیں دے دی گئیں۔دارلحکومت مظفرآباد میں تاجروں اور طلباء نے مل کر زندگی کے دیگر شعبوں کے متحرک لوگوں سے رابطے شروع کیے اور اس طرح مختلف سیاسی جماعتوں، تمام کاؤنسلرز، بار ایسوسی ایشنز اور سول سوسائٹی کے دیگر طبقات نے 31اگست کی ہڑتال کو مؤثر بنانے کے لیے کوششیں تیز کر دیں۔

31اگست کو مظفرآباد میں قدیمی عزیزچوک میں جلسہ عام منعقد ہوا جس میں حکومت سے بجلی کے ناجائز بلات واپس لینے کی بات کی گئی اور ساتھ ہی مظفرآباد میں نیلم جہلم ہائیڈروالیکٹر ک پراجیکٹ سے جڑے معاملات پر بھی کھل کر اظہار خیال ہوا۔ 5ستمبر کو پونچھ اور میرپور ڈویژنز میں بھی بھرپور شٹرڈاؤن اور پہیہ جام ہوا جس کے بعد تینوں ڈویژنز کی عوامی ایکشن کمیٹیوں نے مظفرآباد میں 17 ستمبر کو مشترکہ اجلاس منعقد کیا جس میں پورے آزادکشمیر سے200سے زیادہ افراد نے شرکت کی۔

اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ آزادکشمیر کے ہر ضلع میں عوامی ایکشن کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی جہاں سے فی ضلع تین افراد کو مرکزی کور کمیٹی میں نامزد کیا جائے گا جنہیں تمام فیصلے کرنے کا اختیار ہو گا۔ اس تمام عوامی اکٹھ کر جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا نام دے دیا گیا۔20ستمبر کے بعد پورے آزادکشمیر میں عوامی ایکشن کمیٹی نے دھرنے دینے کا اعلان کر دیا۔ 28ستمبر کو عوامی ایکشن کمیٹی نے بجلی کے بلات کو کسی جگہ غباروں سے باندھ کر ہوا میں اڑایا، کسی جگہ نذر آتش کیا اور کسی جگہ پانی میں کشتیاں بنا کر بہا دیا۔

اس تمام عمل کی انجام دہی کو سول نافرمانی سے تعبیر کیا گیا اور اس کام کے مرتکب افراد کے خلاف حکومت نے دہشت گردی کی ایف آئی آرز درج کر دیں۔رپورٹ کے مطابق 30ستمبر کو پورے آزاد کشمیر میں جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ذمہ داران کے خلاف کریک ڈاؤن شروع ہوا اور گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں۔

مظفرآباد میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپیں شروع ہوئیں اور درجنوں افراد گرفتار کر لیے گئے۔ پونچھ اور میرپور سے بھی مظاہرین کو گرفتار کیا گیا۔ 4اکتوبر کو تمام گرفتار شدگان کو رہا کیا گیا اور 5اکتوبر کو پورے آزادکشمیر میں ہزاروں لوگوں نے سڑکوں پر نکل کر شدید احتجاج کیا۔ اس حوالے سے سب سے بڑا جلسہ آزادکشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں ہوا جہاں حکومت کو بجلی کے نرخ کم کرنے اور آٹے کا بحران ختم کرنے کے لیے دس دن کی ڈیڈ لائن دی گئی۔

اس دوران حکومت آزادکشمیر نے پاکستان میں بجلی کے بڑھتے ہوئے نرخ آزادکشمیر میں نافذ کرنے سے انکار کر دیا اور ٹیرف کو جون 2023ء کے بعد منجمد کر دیا گیا۔ حالات کے رخ کو بھانپتے ہوئے حکومت نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی طرف مذاکرات کا ہاتھ بڑھایا اور اس مقصد کے لیے 9وزراء پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی گئی جو عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ بیٹھ کر تفصیلی مذاکرات کرے گی۔

وزراء کے ساتھ مذاکرات کے لیے جموں وکشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی طرف سے 9افراد منتخب کیے گئے جنہوں نے 3نومبر، 8اور 9 نومبر، 29نومبر، 30نومبر، 7دسمبر، 10دسمبر اور 19دسمبرکو حکومتی ٹیم کے ساتھ مذاکرات کیے۔مذاکرات کے دوران جموں وکشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے حکومتی ٹیم کے سامنے درج ذیل دس مطالبات پیش کیے۔

آٹے پر گلگت بلتستان کے مساوی سبسڈی دی جائے۔
۲۔ بجلی کا ٹیرف آزادکشمیر میں منگلا ہائیڈروپاور پراجیکٹ سے پیدا ہونے والی بجلی کی پیداواری لاگت کے مطابق مقرر کیا جائے۔
۳۔حکمران طبقے اور افسر شاہی کی غیر ضروری مراعات کا مکمل خاتمہ کیا جائے۔
۴۔طلباء یونینز پر لگی پابندی ختم کی جائے اور انتخابات کا انعقاد کروایا جائے۔
۵۔کشمیر بنک کو شیڈولڈ کیا جائے۔
۶۔بلدیاتی نمائندگان کو فنڈز اور اختیارات دئیے جائیں۔
۷۔آزادکشمیر میں سیلولر کمپنیوں اور انٹرنیٹ سروسز کو معیاری کیا جائے۔
۸۔آزادکشمیر میں پراپرٹی ٹرانسفر ٹیکس کو کم کیا جائے۔
۹۔آزادکشمیر میں احتساب بیورو کو فعال کیا جائے اور ایکٹ میں درستی کی جائے۔
۰۱۔سبز درختان کی کٹائی پر عملاً پابندی لگائی جائے اور مقامی ووڈ انڈسٹری کو فعال بنانے کے لیے قانون سازی کی جائے۔

20نومبر اور 19دسمبر کو وزیراعظم آزادکشمیر چودھری انوار الحق کے ساتھ بھی ایکشن کمیٹی کے مذاکرات ہوئے جس میں آٹے اور بجلی سے متعلق معاملات پر نہایت مفصل بحث ہوئی۔ 20دسمبر کو کشمیر ہاؤس میں حکومتی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ فیصل ممتاز راٹھور اور میاں عبدالوحید نے جموں وکشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ذمہ داران شوکت نواز میر اور عمر نذیر کشمیری و دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے اس بات کا اظہار کیا کہ حکومت نے ایکشن کمیٹی کے دس مطالبات میں سے 9مطالبات تسلیم کر لیے ہیں جبکہ بجلی کی پیداواری لاگت کے تعین کا معاملہ حکومت پاکستان کے ساتھ زیر بحث ہے جسے جلد حل کر لیا جائے گا۔

اس دوران پاکستان میں عبوری حکومت نے وزیردفاع لیفٹنٹ جنرل انور احمد حیدر کی سربراہی میں ورکنگ گروپس تشکیل دئیے تاکہ بجلی سے متعلق معاملات کو یکسو کیا جاسکے تاہم یہ معاملات تاحال تشنہ تکمیل ہیں۔ 20دسمبر کے تحریری معاہدہ اور پریس کانفرنس کے باوجود جب معاملات جوں کے توں رہے تو جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے 5فروری کو ملک بھر میں شٹرڈاؤن، پہیہ جام اور مظاہروں کی کال دے دی۔

4فروری کو ایکشن کمیٹی اور حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے درمیان دوبارہ مذاکرات ہوئے جس میں حکومت نے سروسز کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفیکیشن ایکشن کمیٹی کے سپرد کیا جس میں ایکشن کمیٹی کے 9مطالبات کو سرکاری طور پر تسلیم کرتے ہوئے 30مارچ تک بجلی سے متعلق معاملات جلد یکسو کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی۔

رپورٹ کے مطابق 30مارچ گزرنے کے بعدمطالبات پورے نہ ہونے پر جموں وکشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے راولاکوٹ اور مابعد دھیرکوٹ میں ایک اجلاس طلب کیا جس میں متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ 11مئی کو میرپور اور پونچھ ڈویژن، ضلع ہٹیاں اور ضلع نیلم سے عوام کا جم غفیر قانون ساز اسمبلی مظفرآباد کی طرف مارچ کرے گا او روہاں مطالبات تسلیم کیے جانے تک دھرنا دیا جائے گا۔آج عوامی ایکشن کمیٹی نے دس مئی کو ریاست گیر پہیہ جام و شٹر داون ہڑتال کی کال دے دی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں