46

شمالی کشمیر بارہمولہ ،بھارتی CRPF کو 53کنال اراضی منتقل

تحریر: محمد شہباز
مودی حکومت نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ میں بھارتی پیراملٹری سینٹرل ریزرو پولیس فورسCRPF کو 53کنال اراضی منتقل کردی ہے۔ محکمہ محصولات نے ضلع بارہمولہ کے کچہامہ علاقے میں53کنال اور تین مرلہ پر مشتمل اراضی بھارتی CRPF کو منتقل کر نے کی منظوری دی ہے۔ مقبوضہ جموں وکشمیر پرمسلط بھارتی لیفٹینٹ گورنر منوج سہنا کی سربراہی میں نام نہاد انتظامی کونسل نے گزشتہ ماہ 07جون کو ایک اجلاس میں اراضی منتقل کرنے کی منظوری دی تھی۔یہ زمین تین کروڑ 44 لاکھ روپے کی ادائیگی کے عوض جنرل فنانشل رولز 2017کے رول 310کی دفعات کے تحت بھارتی پیرا ملٹری فورسز CRPFکو منتقل کر دی گئی ہے۔ ریگولیشن اینڈ مینجمنٹ ایکٹ2010 کے مطابق بھارتی CRPF اراضی منتقلی کے ا حکامات کے تحت 30دنوں کے اندر اندر زمین کا قبضہ لے لے گی اور زمین کو تین برسوں کے اندر استعمال میں لایا جائے گا۔ یہ 53کنال اراضی بھارتی سینٹرل ریزرو پولیس فورسCRPF کا نیا بٹالیں ہیڈکوارٹرقائم کرنے کیلئے مختص کی گئی ہے ۔اس کے علاوہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے گرمائی دارالحکومت سرینگر کے کھمبر علاقے میں مزید 700کنال اراضی ایک بھارتی صنعت کار بلدیو سنگھ رانا کو بھی منتقل کرنے کی منظوری دی جاچکی ہے۔

یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ05 اگست 2019 میں آرٹیکل 370 اور 35 اے کی منسوخی کے بعد مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہزاروں کنال اراضی پر یہاں تعینات بھارتی فوجیوں نے باضابطہ قبضہ کیاہے۔ آرٹیکل 370 اور 35 اے کی منسوخی سے پہلے مقبوضہ جموں وکشمیر میں کوئی غیر کشمیری زمین یا جائیداد خرید نہیں سکتا تھا۔مودی کی زیرقیادت بھارتی حکومت اپنی قابض ا فواج اور بھارتی صنعت کاروں کو مزید زمینیں منتقل کرکے مقبوضہ جموں و کشمیر میں اپنے آباد کار نوآبادیاتی منصوبے پر مکمل طورپرعملدرآمد کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔جومقبوضہ جموں و کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے اورہندوتوایجنڈا مسلط کرنے کی مودی حکومت کی حکمت عملی کا حصہ اور اصل ہدف ہے۔مقبوضہ جموں و کشمیر میں مودی حکومت کی جانب سے بھارتی CRPF کے علاوہ بھارتی صنعت کاروں کو بڑے پیمانے پر اراضی منتقل کرنے کا سلسلہ، منصوبہ اور پھر اس منصوبے کو روبہ عمل لاناآج کا نہیں بلکہ برسوں پرانا ہے،بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ اس منصوبے کے پیچھے بی جے پی اور آ ر ایس ایس کے عزائم ہی کار فرما ہیں تو بے جا نہ ہوگا۔

بی جے پی / آر ایس ایس کی کوکھ سے جنم لے چکی ہے اور RSS کا بنیادی مقصد مقبوضہ جموں و کشمیر میں قبل از اسلام ہندو تہذیب کا احیاء ہے۔چونکہ مودی خودکو RSS کا پرچارک کہنے میں فخر محسوس کرتے ہیں اور پھر 2019 میں مودی اور BJP کو 303 سیٹوں کی صورت میں بھاری مینڈیٹ دلایا گیا اور مودی نے پہلا وار 05 اگست2019 میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت پر کیا۔یہاں آگے بڑھنے سے قبل ماضی کے جھرکوں سے چند ایک واقعات کا تذکرہ کرنا ضروری ہے۔2008 میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی گورنر ریٹائرڈ لیفٹنٹ جنرل ایس کے سنہا نے امر ناتھ شرائن بورڈ کو بال تل کے مقام پر 800 کنال اراضی منتقل کی تھی۔اس خبر کا شائع ہونا تھا کہ پورا مقبوضہ جموں وکشمیر آتش فشان کی شکل اختیار کرچکا تھا۔ماحولیات کے کارکنوں نے اس اقدام کو جہاں مقبوضہ جموں و کشمیر کے نازک ماحول کی تباہی کا سامان بتایا لیکن عام لوگوں، دانشوروں اور سیاسی کارکنوں کو یہ خدشہ لاحق ہو گیا کہ یہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں غیر کشمیری ہندوئوں کو بسا کر یہاں کے مسلم اکثریتی کردار کو ختم کرنے کی سازش کا حصہ ہے۔دلچسپ امر یہ ہے کہ ان خدشات کو خود اس وقت کے حکومتی وزرانے بھی تقویت پہنچائی جنہوں نے عام لوگوں کے سامنے اس فیصلے کو غلط ٹھرایا۔

اہل کشمیر نے لاکھوں کی تعداد میں جب مظاہروں کا سلسلہ شروع کیا تو کانگریس اور PDP کے مشترکہ وزیر اعلی غلام نبی آزاد کو پی ڈی پی کی جانب سے حمایت واپس لیے جانے کے نتیجے میں وزارت اعلی کی کرسی سے مستعفی ہونا پڑا۔10اور11 اگست کے درمیان اہل کشمیر نے لاکھوں کی تعداد میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما شیخ عبدالعزیز کی سربراہی میں سرینگر سے کنٹرول کی جانب مارچ شروع کیا تو ژھل اوڑی کے مقام پر جلوس پر براہ راست فائرنگ کی گئی،جس کے نتیجے میں شیخ عبدالعزیز سمیت کئی افراد شہید ہوگئے۔جس پرعالمی نشریاتی ادارے BBC نے لکھا تھا کہ کشمیری عوام کی تحریک کو ایک نیا شہید مل گیا ۔یاد رہے کہ جموں کے ہندوئوں نے مقبوضہ وادی کشمیرکا اقتصادی اور تجاری بائیکاٹ کیا تھااور اسی بائیکاٹ کے پیش نظر کشمیری عوام نے کنٹرول لائن کی طرف مارچ کاانعقاد کیا تھا،نام نہاد بھارتی گورنر کو ہندو شرائن بورڈ کو 800کنال اراضی منتقلی کا فیصلہ واپس لینا پڑا۔

جس سے کشمیری عوام کی اجتماعی دانش کی بڑی کامیابی گردانا گیا تھا۔بھارتی ارباب اقتدار نے شرائن بورڈ اراضی منتقلی واپسی کا فیصلہ ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں کیا ،یہاں تک 2014 آن پہنچا۔مودی کو بھارت میں برسر اقتدار لایا گیا۔مودی کے تمام گناہ معاف کردیئے گئے۔حالانکہ وہ گجرات کے قصائی کے نام سے شہرت پاچکا تھا۔بھارتی میڈیا مودی کے گن گانے لگا اور پھر 2019 میں مودی کو بھاری اکثریت دالا کر مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت منسوخ کرواکر نہ صرف صدیوں پرانی ریاست کے حصے بخرے کیے گئے بلکہ نت نئے قوانین کا نفاذ عمل میں لاکر بیالیس لاکھ غیر کشمیریوں یعنی ہندوئوں کو مقبوضہ جموں و کشمیر کا ڈومیسائل سرٹیفکیٹ فراہم کیا گیا۔مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتیوں کیلئے نوکریوں میں باضابطہ کوٹہ مختص کیا گیا،میڈیکل کالجوں،ٹیکنکل اداروں اوریہاں کی یوینورسٹیوں میں بھارتی ہندو طلباء کو داخلہ دیا گیا۔

جس سے مودی کے خطرناک عزائم کھل کرسامنے آنے لگے۔بات یہیں پر ختم یا رکی نہیں ہے بلکہ 05اگست2019 کے بعد درجنوں کشمیری ملازمین کو ان کی نوکریوں سے برخاست کیا جاچکا ہے۔سینکڑوں کشمیریوں کی جائیداد و املاک اور رہائشی مکانات پر قبضہ کیا گیا اور جائیداد وا ملاک کی ضبطی کا سلسلہ بڑھتا ہی جارہا ہے۔امر ناتھ یاترا کے نام پر جموں سے لیکر مقبوضہ وادی کشمیر کو عملا یرغمال بنایا جاچکا ہے۔بھارت سے لاکھوں یاتریوں کو جنوبی کشمیر کے پہلگام میں امر ناتھ گپھا یا غار بھارتی فوجیوں کی سخت حفاظت میں لے جایا جاتا ہے۔ہندو امر ناتھ یاتر ا کا دورانیہ 53 دنوں تک پہلے ہی محیط کیا جاچکا ہے اور پھر اس کی اڑ میں مزید لاکھوں بھارتی فوجی تعینات کیے جاتے ہیں۔ان تمام اقدامات اور کاروائیوں کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ مقبوضہ جموں وکشمیر جو مسلم اکثریتی ریاست ہے،کو اقلیت میں بدلا جائے۔یہاں بھارتی فوجیوں کیلئے زمین کی اراضی کے علاوہ سینک کالونیوں اور 1990 میں مقبوضہ وادی کشمیر سے جموں اور بھارت کے دوسرے علاقوں کی طرف خو د ساختہ ترک سکونت اختیار کرنے والے کشمیری پنڈتوں کیلئے مکانات کی تعمیرمقبوضہ جموں و کشمیر کو دوسرا فلسطین بنانا ہے،جہاں صہیونی اسرائیل نے فلسطینیوں کو ان کی زمینوں سے طاقت کی بنیاد پر بے دخل کرکے وہاں پے در پے یہودی بستیاں تعمیر کیں اور اب تو اہل فلسطین کی نسل کشی کے علاوہ اسرائیل آئے روز ارض فلسطین پر یہودی بستیاں تعمیر کررہا ہے۔بھارت کا منصوبہ بھی اسرائیلی پالیسیوں کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں نافذ کرانا ہے۔گو کہ بھارت اور مودی 05اگست2019 میں اپنی جانب سے قصہ تمام کرچکے ہیں لیکن اہل کشمیر مودی کے عزائم کے سامنے سیسہ پلائی دیوار کی مانند کھڑے ہیں۔ورنہ حلقہ بندیوں کے نام پر BJP اپنے لیے یہ راستہ بھی ہموار کرچکی ہے کہ ہندو وزیر اعلی کو کشمیری عوام پر مسلط کیا جائے۔لیکن بھلا ہو کشمیری عوام کا جس نے حالیہ بھارتی پارلیمانی انتخابات میں BJP کو ایک ہلکی سی جھلک سے بخوبی روشناس کرایا ہے۔

یہ بات بھی کسی شک و شبہ سے بالاتر ہے کہ کشمیری عوام بھارت کی بدترین غلامی اور ناجائز و غاصبانہ قبضے سے اپنے مادر وطن کی آزادی کی جدوجہد جاری رکھنے کیلئے پرعزم ہیں۔حالانکہ سفاک اور درندہ صفت بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں مقبوضہ جموں وکشمیر میں قتل و غارت، گرفتاریاں اورتشدد ایک معمول ہیں۔فسطائی مودی حکومت کشمیری عوام کے جذبہ آزادی کو شکست نہیں دے سکتی۔اس میں بھی کوئی دورائے نہیں کہ اہل کشمیر کے پاس بھارتی تسلط کے خلاف لڑنے کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے ۔کیونکہ جدوجہد جاری رکھنے سے ہی اہل کشمیر کی قربانیوں کو کامیابی سے ہمکنار کرایا جاسکتا ہے۔کشمیری عوام بھارتی تسلط سے آزادی تک اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے رہیں گے۔آج بھی کشمیری عوام کے بہادر اور عزم و ہمت کے پیکر بیٹے اپنا گرم گرم لہو بہانے سے گریز نہیں کرتے۔ج
س کا عملی مظاہرہ 06 جوالائی کو جنوبی کشمیر میں ضلع کولگام کے مدرگام ا ورچنی گام فرصل یاری پورہ میں چھ سرفروشوں نے بھارتی وردی پوش دہشت گردوں کے خلاف کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والے معرکوں میں جام شہادت نوش کرکے بھارت اور اس کے حواریوں کو یہ پیغام دیا ہے کہ اہل کشمیر جس عظیم اور لازوال جدوجہد میں مصروف عمل ہیں ،وہ جدوجہد لاوارث نہیں ہے۔بلکہ سرزمین کشمیر کے فرزند اس جدوجہد کو کامیابی سے ہمکنار کرانے کیلئے خون کا آخری قطرہ تک بہانے سے گریز نہیں کریں گے۔ان سرفروشوں اور جانبازوں کو بھارت کی فوجی طاقت نہ پہلے مرعوب کرسکی ،نہ آج کررہی ہے اور نہ ہی آئندہ اس کا کوئی امکاں ہے۔

عوام مودی کو مقبوضہ جموں و کشمیرمیں ہندوتوا منصوبے مسلط نہیں کرنے دیں گے۔ جیسے کہ مودی اور اس کے حواری آئے روز نت نئے قوانین کے ذریعے مقبوضہ جموں وکشمیر کا مسلم اکثریتی کردار اقلیت میں تبدیل کرنے کے منصوبے بنارہے ہیں ،لیکن کشمیری عوام کی تاریخ ساز مزاحمت ان مذموم بھارتی منصوبوں کو ہر گزرتے دن کیساتھ ناکامی سے دوچار کرنے میں اہم کردار ادا کررہی ہے۔بلاشبہ مقبوضہ جموں و کشمیرپر بھارت کا وحشیانہ فوجی قبضہ عالمی برادری کیلئے ایک چیلنج ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں