60

برین ڈرین – اعلیٰ تعلیم یافتہ شہریوں کی بیرون ملک ہجرت

تحریر : ڈاکٹر سرمد شمریز
پاکستان میں جاری معاشی بدحالی ، سیاسی عدم استحکام اور بد امنی کے باعث ملک کے اعلیٰ تعلیمی یافتہ اور کوالیفائیڈ شہری اپنے بہتر مستقبل کے لیے ملک چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ پاکستان اور آزاد کشمیر کے اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ہنرمند شہریوں کی ایک بہت بڑی تعداد گزشتہ کچھ سالوں میں بیرون ملک منتقل ہو چکی ہے جبکہ لاکھوں مزید افراد اس ملک سے اڑان بھرنے کو تیار ہیں ۔ پاکستان کے ایک اقتصادی سروے کے مطابق سال 2023 میں پاکستان سے ہنرمند افراد کی بیرون ملک ہجرت میں گزشتہ سال کی نسبت 119 فیصد اضافہ ہوا ہے ۔ گزشتہ دو سالوں کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان سے 16 لاکھ 94 ہزار نو سو چونسٹھ رجسٹرڈ افراد ملازمتوں کے حصول کے لیے بیرون ملک منتقل ہو گئے ہیں ۔

بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کے مطابق سال 2022 میں 8 لاکھ 32 ہزار تین سو انتالیس افراد بہتر مستقبل کی تلاش میں پاکستان چھوڑ کر باہر چلے گئے جبکہ سال 2023 میں 8 لاکھ 62 ہزار چھ سو پچیس افراد پاکستان سے ہجرت کر کے دوسرے ممالک میں منتقل ہوئے ۔ سال 2024 میں اس وقت تک 7 لاکھ 89 ہزار سے زائد افراد نے پاکستان کو خیرباد کہہ دیا ہے جبکہ غیر قانونی طور پر پاکستان چھوڑ کر باہر منتقل ہونے والے افراد کی تعداد اس کے علاوہ ہے ۔ پاکستان سے ہجرت کر کے بیرون ملک منتقل ہونے والوں میں مزدوروں کے علاوہ ڈاکٹرز، انجینئرز، آئی ٹی ماہرین، اساتذہ، ماہرین زراعت، فارماسسٹ، اکاؤنٹنٹ اور نرسز کی بھی ایک بڑی تعداد شامل ہے ۔

گیلپ کے ایک سروے کے مطابق پاکستان کے 94 فیصد افراد ملک چھوڑ کر بیرون ملک منتقل ہونے کی خواہش رکھتے ہیں ۔ لوگوں کی ایک بڑی تعداد کی بیرون ملک منتقلی یہ بات واضح کرتی ہے کہ پاکستان میں رہ کر ان کی معاشی ضروریات پوری ہونا اب ممکن نہیں رہا۔ حکومت کی جانب سے منصوبہ بندی کے فقدان اور سیاسی چپقلش کی وجہ سے شہری سخت مایوسی اور ناامیدی کا شکار ہو کر اس ملک سے کوچ کر رہے ہیں ۔ ہر شخص اپنے اور اپنے خاندان کے بہتر مستقبل کے لیے ملک چھوڑ رہا ہے ۔ ملک کے سیاسی و معاشی حالات میں تنزلی دیکھ کر جس کو موقع مل رہا ہے وہ ملک چھوڑ کر جا رہا ہے ۔ یہ برین ڈرین ملکی ترقی کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے کیونکہ ملک کا کوالیفائیڈ اور ہنرمند طبقہ ایک ایسے وقت میں ملک کو چھوڑ کر باہر جا رہا ہے جب قوم کو اس کی ضرورت ہے ۔

یہ تصویر کا صرف ایک رخ ہے جبکہ عالمی سطح پر بھی یہ ایک رجحان ہے کہ معاشی طور پر کمزور ممالک سے لوگ ایسے ممالک میں منتقل ہو رہے ہیں جو معاشی طور پر مستحکم ہیں ۔ اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ گزشتہ ادوار میں ملک پر حکومت کرنے والی جماعتوں نے نوجوانوں کے مستقبل کے لیے کوئی خاطر خواہ منصوبہ بندی نہیں کی جس کی وجہ سے نوجوان مایوس ہو کر ملک چھوڑ رہے ہیں لیکن ملکی مسائل کا حل اس طرح سے ممکن نہیں ہے ۔ مشکل حالات کا سامنا کرنے کے بجائے ان سے بھاگنے کی کوشش کرنا کسی صورت میں بھی مسئلے کا حل نہیں ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ نوجوان اعلیٰ لائف سٹائل کے پچھے بھاگنے کے بجائے محدود وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں ۔

اسی طرح وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت بھی آئی ٹی ، ٹورزم ، زراعت ، تعلیم اور صحت پر ایک جامع منصوبہ بندی کر کے نوجوانوں کو روزگار کے سازگار مواقع فراہم کرے ۔ حکومت کو چاہیے کہ ملک میں سیاسی استحکام لانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے ۔ ساتھ ہی ساتھ اقتصادی اصلاحات نافذ کی جائیں اور امن کی بحالی کے لیے بھی ٹھوس اقدامات اٹھائے جائیں ۔ یہ ایک ایسا موقع ہے کہ لوگوں کو امید دینے کی ضرورت ہے ۔ انہیں یہ باور کرانے کی ضرورت ہے کہ پاکستان میں رہ کر بھی آپ نہ صرف بذات خود معاشی طور پر خود کفیل ہو سکتے ہیں بلکہ دوسروں کے لیے بھی روزگار کے مواقع پیدا کر سکتے ہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں