کشمیر کا شہیدِ اعظم مقبول بٹ شہید

436

تحریر :بنت کشمیر خواجہ قاریہ تمکین حفیظ
18 فروری نظریہِ خود مختار جموں کشمیر کے انقلابی گوریلا جماعت جموں کشمیر سیل لبریشن فرنٹ اور سیاسی جماعت کشمیر محاذ رائے شماری کے صدر مجاہد اوّل تحریک آزادیِ کشمیر کے حریت پسند شہید مقبول بٹ کی پیدائش کا دن ہے. مقبول بٹ شہید اِنتہائی نرم مزاج ،خوش گفتار اور اعلیٰ پائی کی شخصیت تھے ۔انہوں نے اپنے عقیدے ،نظریے اور قربانی سے تحریک آزادیِ کشمیر کو روشن کر دیا خود تو منوں مٹی تلے سو گئے لیکن گھر گھر میں کشمیریت کا دِیا ہمیشہ کے لیے جلا گئےبقول ہاشم قریشی جو مقبول بٹ شہید کے درینہ ساتھی تھے مقبول بٹ جب بات کرتے تھے تو سننے والے کی عقل دنگ رہ جاتی تھی.

جیسے انہوں نے دنیا کی تمام لائبریریوں کا عِلم دماغ میں سمایا ہوا ہے جب وہ قوم پرستی، آزادی اور خواتین کے تحفظ کی بات کرتے تھے تو یوں معلوم ہوتا تھا کہ دنیا کی تمام روشن خیالی کی روح ان میں بسی ہوئی ہے. جن لوگوں کو موت سے ڈر نہیں لگتا ان سے کوئی بھی ریاست نہیں جیت پاتی.تحریک آزادیِ کشمیر کے روحِ رواں مقبول بٹ شہید کو بھارت نے ایک قتل کے الزام میں پھانسی کے تختہ دار پر لٹکایا تھا. تہاڑ جیل کے نگران سنیل کمہار گپتا کے سامنے کئی قیدیوں کو پھانسی دی گئی لیکن جس گرم جوشی کے ساتھ مقبول بٹ شہید نے پھانسی کے پھندے کو چُوما اس پر سنیل کمہار گپتا بھی دنگ رہ گیا سنیل کمار گپتا اپنی کتاب” بلیک وارنٹ ” میں لکھتے ہیں مقبول بٹ شہید کی زبان پہ اکثر فیض احمد فیض کا یہ شعر ہوتا تھا.
جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا وہ شان سلامت رہتی ہے
یہ جان تو آنی جانی ہے اس جان کی تو کوئی بات نہیں

مقبول بٹ شہید کی زندگی کے آخری لمحات کے حقائق کو ٹی وی اسکرین سے غائب کر دیا گیا لیکن تہاڑ جیل کے نگران سنیل کمار گپتا کی کتاب میں یہ حقائق آج بھی سُنہرے حروف میں موجود ہیں. موجودہ سمارٹ دور میں ٹی وی اور موبائل کی اسکرین کی اہمیت زیادہ تو ہو گئی لیکن سنیل کمہار گپتا کی یہ کتاب ہمیں آج بھی یقین دلاتی ہے کہ کتاب کی اہمیت قائم ہے. حکومتیں ٹی وی کی اسکرین کو کنٹرول کر سکتی ہیں ،سوشل میڈیا پر پابندیاں لگا سکتی ہیں لیکن کسی کی سوچ پہ پابندی نہیں لگا سکتی نہ ہی تاریخ کے اُوراق کو مٹا سکتی ہیں نہ کتاب میں چھپی سچائیوں کو زیر حراست کر سکتی ہیں . گپتا کی کتاب گوگل پہ موجود ہے اسے دنیا کے کسی بھی ملک میں بیٹھا کوئی شخص سرچ کر کے پڑھ سکتا ہے .

سنیل گپتا اپنی کتاب میں مقبول بٹ شہید کو اپنے استاد کے طور پر زیرِ بحث لاتا ہے تہاڑ جیل کے سابق جیلر گپتا لکھتے ہیں میں اپنی انگریزی بہتر کرنے کے لیے مقبول بٹ کے ساتھ انگلش میں بات کرتا تھا گپتا نے مقبول بٹ شہید کو ایک سیاسی قیدی قرار دیا جن کا زیادہ وقت عبادت اور کتابوں کے مطالعہ میں گزرتا تھا
گبتا بتاتے ہیں جن لوگوں نے بھارتی سفارت کار مہاترے کو برطانیہ میں قتل کیا تھا ان کا مقبول بٹ شہید کے ساتھ کوئی تعلق ثابت نہ ہو سکا تھا. 6 فروری 1984 کو مہاترے کی لاش ملی اور 11 فروری 1984 کو اندرا گاندھی کی بے حس حکومت نے مقبول بٹ شہید کو تختہِ دار پر لٹکایا اور اِسی جیل کے احاطے میں انہیں سپرد خاک بھی کر دیا .

ستم ظریفی یہ ہے کہ بھارتی سامراج نے مقبول بٹ شہید کا جسد خاکی کو بھی قید کر رکھا ہے. کشمیری قوم پر بھارت کے بے دریغ تشدد اور نا انصافی کے پہاڑ جتنے بھی ہوں آزاد اور حق کی روشنی انہیں ہمیشہ عبور کر جاۓ گی .بھارت نے ہمیشہ اپنی کوشش جاری رکھی کہ کشمیر کی تاریخ کو مٹایا جائے اس کی پہچان کو ختم کر دیں.
ثقافت علم و ہنر اور روایات کو مٹی میں گاڑ دیا جائے کیونکہ اِنہی چیزوں کے مِٹ جانے سے قوموں کی پہچان اور تشخص مِٹ جاتا ہے .کشمیر کی شناخت کو مٹانے کے لیے دشمن ملک نے لاکھ منصوبے بنائے یہ مقابلہ عجیب درجہ بندی کا ہے. ایک قافلہ حملہ کرتا ہے تو اس کے مد مقابل کوئی ایک نڈر آتا ہے .

وہ اکیلے بے خوفی سے ڈٹ جاتا ہے، نہ ڈرتا ہے ،نہ تھکتا ہے اور نہ ہی بکتا ہے پورے جذبے کے ساتھ لڑتے لڑتے گر کر مر جاتا ہے. حملہ آور قافلہ اپنی فتح کا جشن مناتے ہیں یہ رقص جب زور پہ ہوتا ہے تو کوئی سرفروش پھر نظرانہِ جان لے کر محفل میں کُود جاتا ہے وہ آواز بلند کرتا ہے خوشی سے جشن منانے والے جھوٹے مکروہ خداؤں کی ساری محنت خاک میں مل جاتی ہے . مجاہد اوّل مقبول بٹ شہید نے نہ صرف اپنے وطن کی آزادی کے لیے اپنی جان قربان کی بلکہ ہمیں یہ سبق بھی سکھایا کہ حق اور سچ کے لیے کھڑا ہونا سب سے بڑی قربانی ہے۔ ان کی جدوجہد کی روشنی آج بھی کشمیری عوام کے لیے مشعلِ راہ ہے.ان کی قربانیاں ہمارے لیے نہ صرف تاریخ کا حصہ ہیں بلکہ آج بھی ہمیں حوصلہ دیتی ہیں کہ ہم ظلم اور جبر کے سامنے کبھی نہیں جھکیں گے.

میں کشمیر کے وکیل مملکتِ پاکستان سے التماس کرتی ہوں اس پار بسنے والے کشمیری بہن بھائیوں بزرگوں کے حال پہ رحم کھائیں اور انھیں غلامی کی زنجیروں سے آذاد کروائیں ۔مودی سرکار سے مطالبہ کریں جاہد اوّل مقبول بٹ شہید کا جسدِ خاکی ہمیں واپس لوٹایا جائے ۔انشاء اللّہ وہ دن دور نہیں جب آر پار کشمیری قوم آذادی کا وہ سورج دیکھیں گے جس کا خواب کشمیری قوم صدیوں سے دیکھتی آ رہی ہے.اللّٰہ ہم سب کا حامی و ناصر رہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں