نواز شریف کا دورہ مظفرآباد اورمسلم لیگ ن آزاد کشمیر

158

محاذ آرائی .ایم ڈی طاہر جرال
mdtahirjarral111@gmail.com

پاکستان مسلم لیگ ن پاکستان کی ایک اہم بڑی سیاسی جماعت ہے اس کا قیام سال 1988 میں اس وقت عمل میں لایا گیا جب مسلم لیگ پر کڑا وقت تھا کچھ پرانے مسلم لیگیوں نے مسلم لیگ میں اختلافات پیدا کر کے اسے مقبول قیادت سے چھٹکارا دلانے کی کوشش کی اس وقت مسلم لیگ کے مرکزی دفتر پر بھی قبضہ کر لیا گیا اس وقت کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل پرویز مشرف کی آشیر باد سے جب محمد نواز شریف جو کہ اس وقت وزیر اعظم پاکستان تھے کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تب مسلم لیگ ن کا دھڑا الگ ہوا اسے پنجاب سندھ اس وقت کے سرحد اور بلوچستان میں بھی بہت مقبولیت حاصل تھی تب مسلم لیگ ن یعنی مسلم لیگ نواز شریف قائم ہوئی .آزاد کشمیر میں جب سے پارلیمانی نظام رائج ہؤا تب سے ال جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کو ہی مسلم لیگ شمار کیا جاتا رہا چونکہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے مسلم کانفرنس کو ہی مسلم لیگ قرار دیا تھا اس وجہ سے تحریک آزادی کشمیر کے بیس کیمپ میں نظریاتی طور پر مسلم کانفرنس ہی مسلم لیگ کے قریب تر رہی ،پھر جب آزاد کشمیر میں مسلم کانفرنس نے اپنی طبعی سیاسی عمر پوری کی تب سال 2011 میں آزاد کشمیر میں پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر محمد نواز شریف نے آزاد کشمیر میں مسلم لیگ ن قائم کرنے کی منظور ی دی ،یوں مسلم کانفرنس کی سیاسی نرسری میں پروان چڑھنے والے تمام سرکردہ سیاسی رہنما جن میں سردار سکندر حیات خان ،راجہ فاروق حیدر خان شاہ غلام قادر چوہدری طارق فاروق اور تقریباً تمام سابق وزراء مسلم لیگ ن آزاد جموں و کشمیر میں شامل ہوئے راجہ فاروق حیدر خان پاکستان مسلم لیگ ن آزاد جموں و کشمیر کے پہلے صدر اور چوہدری طارق فاروق سیکٹریری جنرل بنے.

الیکشن میں مسلم لیگ ن اکثریت حاصل نہ کر سکی کیونکہ وفاق میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت تھی آصف علی زرداری صدر پاکستان تھے آزاد کشمیر میں چوہدری عبد المجید کی قیادت میں پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کی حکومت قائم ہوئی اور راجہ فاروق حیدر خان اپوزیشن لیڈر بنے یوں پانچ سال چوہدری عبد المجید وزیر اعظم آزاد کشمیر رہے سال 2016 کے انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ ن آزاد جموں و کشمیر نے اکثریت حاصل کی اور راجہ فاروق حیدر خان وزیر اعظم آزاد کشمیر بنے ان کی قیادت میں بھی حکومت نے پانچ سال پورے کیے اس پانچ سالہ دور میں تعمیر ؤ ترقی کے نئے دور کا آغاز آزاد کشمیر میں ہؤا وزیر اعظم پاکستان محمد نواز شریف نے آزاد کشمیر کا بجٹ دوگنا کر دیا اور دل کھول کر آزاد کشمیر کی حکومت کی مدد کی بلکہ یہی نہیں آزاد کشمیر میں چھبیسویں آئینی ترمیم کے ذریعے کشمیر کونسل کے تمام فنڈز حکومت آزاد کشمیر کی تحویل میں دے کر مختلف محکمہ جات جو کشمیر کونسل کے دائرہ اختیار میں آتے تھے انہیں بھی آزاد کشمیر حکومت کو دے دیا گیا اس ترمیم کے تحت آزاد کشمیر کابینہ کی تعداد بھی بیس اکیس وزراء تک محدود کر دی گئی پھر جب پاکستان میں مسلم لیگ ن کی حکومت کو ڈی سٹیبل کرنے کے لیے غیر جہموری ہتھکنڈے استعمال کر کے اور انتقامی روش کے تحت پاکستان کی ترقی کو روکنے کے لیے ڈمی سیٹ اپ لانے کے لیے منصوبہ بندی کی گئی اور قائد مسلم لیگ ن کے خلاف ناجائز کیس بنا کر نہ صرف انہیں وزارت اعظمی بلکہ پاکستان مسلم لیگ ن کی قیادت کے لیے بھی نااہل قرار دے دیا گیا پھر کٹھ پتلیوں کا کھیل شروع ہوا اور سال 2018 میں پاکستان میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت عمران خان کی قیادت میں قائم کر دی گئی.

آزاد کشمیر میں راجہ فاروق حیدر خان وزیر اعظم آزاد کشمیر تھے انہوں نے انتہائی دلیری سے وفاقی حکومت کے ہتھکنڈوں کا مردانہ وار مقابلہ کیا آزاد کشمیر میں مسلم لیگ ن کی پہلی حکومت کی شاندار کارکردگی کی بنیاد پر توقع تو یہی کی جا رہی تھی کہ سال 2021 کا الیکشن بھی مسلم لیگ ن جیت کر حکومت بنانے کی پوزیشن میں آ جائے گی مگر کسی کی خواہش کو مدنظر رکھتے ہوئے آزاد کشمیر میں بھی الیکٹبلز کو اکھٹا کر کے اکثریت حاصل کی گئی پارٹی کے صدر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کو نظر انداز کر کے ایک غیر معروف غیر مقبول سابق وزیر سردار عبد القیوم نیازی کو وزیر اعظم بنا دیا گیا اس غیر پاپولر فیصلے کے برے اثرات آزاد کشمیر کی سیاسی فضاء پر اس قدر ہوئے کہ آزاد کشمیرکی اسمبلی نے یکے بعد دیگرے تین وزیر اعظم تبدیل کر کے اور پھر راجہ فیصل ممتاز راٹھور کو چوتھا وزیر اعظم بنا کر ایک ریکارڈ قائم کیا اب چونکہ الیکشن سال 2026 میں وقت کی کمی بھی ہے اور اسمبلی بھی اپنی مدت پوری کرنے کے محض چند ماہ کے فاصلے پر ہے ورنہ شاید آزاد کشمیر کی پانچ سالہ اسمبلی ہر سال یعنی پانچ وزیر اعظم بننے کا عالمی ریکارڈ بھی قائم کر دیتی .راجہ فیصل ممتاز راٹھور کی حکومت کے قیام کے بعد شاہ غلام قادر صدر پاکستان مسلم لیگ ن آزاد جموں و کشمیر آزاد کشمیر اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر بنے ہیں اور نئے الیکشن کا وقت قریب تر ہے محترمہ فریال تالپور نے آزاد کشمیر اسمبلی میں پیپلز پارٹی کو ڈبل فیگر میں داخل کر دیا ہے مسلم لیگ ن کی پارلیمانی قوت میں بھی اضافہ ہوا ہے ابھی بھی بیرسٹر سلطان محمود چوہدری گروپ گو مگو کی کیفیت میں ہے .

کیونکہ بیرسٹر سلطان محمود چوہدری صدر ریاست کی وفات کی وجہ سے بھی اس گروپ میں بہت بڑا سیاسی خلا پیدا ہوا ہے اس وقت جب کہ پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر قاہد پاکستان محمد نواز شریف بھی مظفرآباد دورہ کے لیے تشریف لانے والے ہیں اور وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف بھی ان کے ہمراہ ہوں گی پاکستان مسلم لیگ ن کا پارلیمانی بورڈ آزاد کشمیر کے تینوں ڈویژن میں مسلم لیگ ن کے ٹکٹ کے دو سو سے زائد امیدواران اسمبلی کے انٹرویو مکمل کر چکا ہے شنید ہے کہ صدر پاکستان مسلم لیگ ن پاکستان محمد نواز شریف دورہ مظفرآباد کے دوران آزاد کشمیر کے تینوں ڈویژن کے پارٹی ٹکٹ کے فیصلے بھی کریں گے اور کچھ اہم قسم کے مستقبل کے لیے فیصلے بھی متوقع ہیں وزیر امور کشمیر انجینئر امیر مقام مشیر وزیر اعظم پاکستان رانا ثناء اللہ بھی آزاد کشمیر مسلم لیگ کو منظم و مضبوط کرنے کے لیے ہمہ وقت مصروف ہیں اور زبان زد عام بات یہی ہے کہ آزاد کشمیر میں اگلی حکومت مسلم لیگ ن کی ہو گی.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں