تحریر: سردار عبدالخالق وصی
پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کی بنیاد تاریخ، مذہب، ثقافت اور ہمسائیگی کے ان رشتوں پر استوار رہی ہے جن میں پاکستان نے ہمیشہ فراخ دلی، قربانی اور تعاون کی روایت قائم کی۔ قیامِ پاکستان کے بعد سے لے کر افغان جہاد، مہاجرین کی میزبانی، انسانی امداد، سفارتی حمایت اور معاشی سہولتوں تک، پاکستان نے ہر دور میں افغانستان کے ساتھ بھائی چارے کا عملی ثبوت دیا۔ لاکھوں افغان مہاجرین کو پناہ دینا، عالمی فورمز پر ان کے مؤقف کی حمایت کرنا اور افغانستان میں استحکام کے لیے مسلسل کردار ادا کرنا اس طویل تاریخ کا حصہ ہے۔ مگر حالیہ برسوں میں، بالخصوص موجودہ طالبان رجیم کے قیام کے بعد، پاکستان کے خدشات کے برعکس سرحد پار دہشت گردی میں اضافہ، پاکستان مخالف عناصر کی موجودگی اور ریاستی سطح پر مؤثر کارروائی نہ ہونا وہ بنیادی عوامل بنے جنہوں نے موجودہ کشیدگی کی بنیاد رکھی۔
اسی پس منظر میں جاری آپریشن غضب للحق کو سمجھنا ضروری ہے، کیونکہ یہ محض ایک عسکری کارروائی نہیں بلکہ پاکستان کے واضح اور دوٹوک ریاستی مؤقف کی عکاسی ہے کہ ملک اپنی سرحدوں، شہریوں اور قومی مفادات کے تحفظ پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ گزشتہ روز DG ISPR جنرل احمد شریف چودھری کی تفصیلی پریس بریفنگ نے اس امر کو واضح کیا کہ آپریشن ایک محدود مگر فیصلہ کن دفاعی اقدام ہے جو مصدقہ انٹیلی جنس اور ٹھوس شواہد کی بنیاد پر شروع کیا گیا۔ بریفنگ کے مطابق دہشت گرد نیٹ ورکس کے متعدد ٹھکانے غیر مؤثر بنائے گئے اور سرحدی خطرات کو نمایاں حد تک کم کیا گیا۔ریاستی سطح پر اس صورتحال کی سنجیدگی کا اندازہ وزیرِاعظم شہباز شریف کے جی ایچ کیو کے دورے سے بھی لگایا جا سکتا ہے جہاں عسکری قیادت نے انہیں آپریشنل پیش رفت اور مجموعی سیکیورٹی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی۔
یہ ملاقات اس حقیقت کی مظہر تھی کہ سیاسی و عسکری قیادت ایک صفحے پر ہے اور ریاستی ردعمل مکمل ہم آہنگی کے ساتھ ترتیب دیا جا رہا ہے۔پاکستان کے نقطۂ نظر سے اس بحران کا بنیادی سبب سرحد پار دہشت گردی ہے جس کے بارے میں ریاست بارہا شواہد اور خدشات افغانستان کے طالبان رجیم اور عالمی برادری کے سامنے رکھتی رہی ہے۔ سرکاری مؤقف کے مطابق افغانستان کی سرزمین پر موجود دہشت گرد نیٹ ورکس نہ صرف پاکستان میں حملوں کی منصوبہ بندی کرتے رہے بلکہ انہیں سہولت کاری بھی میسر رہی، جس نے پاکستان کی قومی سلامتی کو براہ راست متاثر کیا۔پاکستانی بیانیے میں ایک اور اہم پہلو علاقائی پراکسی سیاست کا ہے۔ پالیسی حلقوں کے مطابق بھارت اور اسرائیل کے بڑھتے ہوئے دفاعی تعاون اور خطے میں اس کے ممکنہ اثرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
اسی تناظر میں بھارتی وزیرِاعظم نریندرا مودی کے اسرائیل کے حالیہ دورے اور دونوں قیادتوں کے بیانات کو اس بڑی اسٹریٹیجک تصویر کا حصہ سمجھا جا رہا ہے جس میں پاکستان مخالف صف بندیوں کے امکانات پر غور کیا جا رہا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق، جن کا حوالہ پریس بریفنگ میں دیا گیا، کارروائی کے دوران دہشت گرد انفراسٹرکچر کو نمایاں نقصان پہنچا اور کئی اہم ٹھکانے تباہ کیے گئے۔ متعدد شدت پسند ہلاک اور زخمی ہوئے جبکہ پاکستانی فورسز کے نقصانات محدود رہے۔ حکام نے اس امر پر زور دیا کہ کارروائی انتہائی درستگی کے ساتھ کی گئی تاکہ غیر ضروری جانی نقصان سے بچا جا سکے۔پاکستان کا بنیادی پیغام واضح ہے کہ یہ کارروائی کسی ملک کے خلاف جنگ نہیں بلکہ دہشت گردی کے خلاف دفاع ہے۔ ریاست اب بھی اس مؤقف پر قائم ہے کہ خطے میں پائیدار امن صرف مذاکرات اور تعاون سے ہی ممکن ہے.
مگر یہ امن اسی صورت ممکن ہے جب پاکستان کی سلامتی کو لاحق خطرات کا خاتمہ یقینی بنایا جائے۔سفارتی سطح پر بھی پاکستان متحرک ہے اور دوست ممالک کو صورتحال سے آگاہ کیا جا رہا ہے تاکہ یہ واضح رہے کہ پاکستان کا اقدام بین الاقوامی قانون اور حقِ دفاع کے اصول کے مطابق ہے۔ حکام کے مطابق پاکستان نہ تو تصادم کا خواہاں ہے اور نہ ہی علاقائی کشیدگی میں اضافہ چاہتا ہے، تاہم اپنی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات سے گریز بھی نہیں کرے گا۔داخلی سطح پر یہ صورتحال قومی یکجہتی کے ایک نئے اظہار کے طور پر بھی سامنے آئی ہے۔ عوامی سطح پر ریاستی اداروں کے لیے اعتماد اور حمایت اس بات کا ثبوت ہے کہ قوم اپنی سلامتی کے معاملے پر متحد ہے۔ یہی اتحاد کسی بھی ریاست کے لیے سب سے بڑی قوت ہوتا ہے اور یہی پاکستان کی اصل طاقت بھی ہے۔
اختتاماً یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ پاکستان کی ریڈ لائن کسی جغرافیائی حد تک محدود نہیں بلکہ ایک اصولی مؤقف کا نام ہے ریاست کی خودمختاری، شہریوں کا تحفظ، سرحدوں کی حرمت اور دہشت گردی کے لیے کسی بھی سرزمین کا استعمال ناقابلِ قبول ہے۔ پاکستان امن کا خواہاں ہے، مگر امن اسی وقت ممکن ہے جب اس کی خودمختاری کو چیلنج نہ کیا جائے۔ یہی وہ حد ہے جس کے بعد پاکستان کا ردعمل ناگزیر ہو جاتا ہے، اور یہی پیغام آپریشن غضب للحق کے ذریعے پوری دنیا کو دیا گیا ہے کہ پاکستان امن چاہتا ہے، لیکن اپنے دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔اور دھشت گردی کے مکمل خاتمہ تک اھداف کو نشانہ بنائے گا۔ افغانستان اکیلے یا بھارت اسرائیل سے ملکر بھی پاکستان کو غیر مستحکم اور کمزور کرنے کی جو کوشش کریں گے اسکا دو ٹوک جواب ملے گا اور پاکستان اپنی سلامتی دفاع اور اپنے شہریوں کی حفاظت کے لیے پر عزم ھے سیاسی سفارتی اور عسکری قیادت یکجا و یکجان ھیں۔