تحریر:راجہ آصف یعقوب
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اختلافات، تنقید اور کشمکش کی کمی نہیں رہی۔ شخصیات بدلتی رہیں، ادوار بدلتے رہے، مگر ایک حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ قومی سلامتی اور دفاع کے معاملے میں ریاستی تسلسل برقرار رہا۔ چاہے وہ ذوالفعقار علی بھٹو کا دور ہو،جنر ل ضیاء الحق کی قیادت کا زمانہ ہو یا بعد کی جمہوری حکومتیں دفاعی خودمختاری کو ہمیشہ اولین ترجیح دی گئی۔
1971 کے سانحے کے بعد پاکستان نے یہ فیصلہ کیا کہ اسے اپنی بقا کے لیے غیر معمولی اقدامات کرنا ہوں گے۔ اسی پس منظر میں ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی گئی۔ اس پروگرام کو سائنسی قیادت ڈاکٹر عبدالقدیرخان جیسے ماہرین نے فراہم کی، جبکہ ریاستی سطح پر اسے مکمل راز داری اور مستقل مزاجی کے ساتھ آگے بڑھایا گیا۔
افغان۔سوویت جنگ کے دوران عالمی طاقتوں کی ترجیحات بدل چکی تھیں۔ اس دور میں پاکستان نے اپنی جغرافیائی اہمیت کو سمجھتے ہوئے نہایت محتاط حکمتِ عملی اختیار کی۔ عالمی سیاست کے اسی پیچیدہ ماحول میں پاکستان نے خاموشی کے ساتھ اپنی دفاعی صلاحیت کو مضبوط کیا، اور بالآخر 1998 میں ایٹمی دھماکوں کے ذریعے خود کو ایک ناقابلِ نظرانداز حقیقت کے طور پر منوا لیا۔
دنیا کے دیگر ممالک کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ ایران کو اپنے جوہری پروگرام پر طویل پابندیوں اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ عراق پر مہلک ہتھیاروں کے الزامات نے ایک تباہ کن جنگ کی راہ ہموار کی۔ لیبیا نے اپنا پروگرام ختم کیا، مگر داخلی عدم استحکام سے نہ بچ سکا۔ ان مثالوں کے برعکس پاکستان نے نہ صرف اپنے پروگرام کو مکمل کیا بلکہ اسے ایک مؤثر دفاعی توازن میں ڈھال دیا۔
یہ کہنا درست ہوگا کہ ہمارے اندرونی اختلافات اپنی جگہ، مگر دفاع اور قومی سلامتی کے معاملے میں ایک بنیادی اتفاقِ رائے ہمیشہ موجود رہا۔ دفاعی سازوسامان میں خود انحصاری، میزائل ٹیکنالوجی کی ترقی، اور عسکری صنعت میں پیش رفت اسی تسلسل کا نتیجہ ہیں۔
پاکستان کی بقا کا راز شاید اسی حقیقت میں پوشیدہ ہے کہ اس نے عالمی سیاست کے دباؤ میں بھی اپنے بنیادی مفادات پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ یہی وہ حکمتِ عملی ہے جس نے اسے ایک غیر یقینی خطے میں بھی مضبوط اور قائم رکھا۔