پروگریسو بمقابلہ کنزرویٹو سکول آف تھاٹ

150

تحریر:عمرالطاف(بوائزپوسٹ گریجویٹ کالج راولاکوٹ)
ہمارے کائنات میں انسان کوہی اشرف المخلوقات کاشرف حاصل ہے جس کی بنیادی وجہ اس کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ہے۔یہی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ایک انسان کودوسرے انسان سے مختلف بناتی ہیں۔مختلف فطری سوچ رکھنے والے انسان مختلف نظریات(School of Thought) کے ساتھ منسلک ہوجاتے ہیں۔اگرہم اپنے معاشرے میں رہنے والے انسانوں کی بات کریں توہمیں دوطرح کے مکتبہ فکرکے ساتھ منسلک لوگ ملیں گے۔مکتبہ فکرسے مرادنظریات،عقائدیافلسفے کاایساگروہ ہے جوکسی خاص موضوع پرمشترکہ رائے رکھتاہو۔راقم کی آج تک کی زندگی زیادہ ترتعلیم کے شعبہ سے وابستہ گزری ہے۔اس کے علاوہ مختلف قسم کی معاشرتی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے روزانہ کی بنیادپرمختلف لوگوں سے واسطہ پڑتارہتاہے۔اس پورے مشاہدے میں ایک چیز جو بہت زیادہ نمایاں نظرآئی وہ معاشرے کادوExtrmesپرموجودہوناہے۔ایک طرف توقدامت پسند (Conserviative) لوگ ہیں جوکہ تعدادکے لحاظ سے اکثریت میں ہیں اورفی الحال معاشرے کوDomiante کررہے ہیں۔جبکہ دوسری طرف ترقی پسند(Progressive)مائنڈسیٹ رکھنے والے لوگ جوکہ معاشرے میں نہ ہونے کے برابرہیں اوراپنی تمام ترانقلابی سوچ کے باوجودقدامت پسندوں کے زیراثرزندگی گزارررہے ہیں۔

قدامت پسندی یا(Conserviative Thinking)زیادہ تران لوگوں میں پائی جاتی ہے جوکہ موجودہ وقت میں زیادہ بااختیارہیں۔چاہے وہ کسی ادارہ میں اعلی منصب پرہوں کسی گھرکے سربراہ ہوں،یاکسی تعلیمی ادارے کوپرانی روش پرچلانے پربضدلوگ۔سب سے بڑامسئلہ یہ ہے کہ ایک قدامت پسندسوچ رکھنے والاانسان دورجدیدکے تقاضوں کوسمجھنے سے یاتوقاصرہے یاوہ سمجھنانہیں چاہتاجس کی وجہ سے کسی بھی ادارے کی پالیسیاں اس طرزپرمرتب کی جائیں کہ وہ دورحاضرکے تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ ہوں۔معاشرے میں قدامت پسندی کی چندمثالیں جوکہ ہمیں اس کے برے اثرات کے سمجھنے میں مدددے سکتی ہیں.

(۱)تعلیمی پالیسی جوکہ2009ء میں نافذہونی چاہیے تھی وہ آج تک مکمل طورپرنافذ نہ ہوسکی جس کی ایک وجہ یہ بھی ہے بہت سارے اسٹیک ہولڈرز پروموشن کے معیارپرپورانہیں اتررہے اوراس وجہ سے آج تک اس پالیسی کونافذ نہ ہونے دیاگیا۔

(۲)آج ہم اگراپنے کلاس رومزکیOut Lookکودیکھیں تواس میں اورآج سے بیس تیس سال پہلے کے کلاس روم میں کوئی خاص فر ق نہیں ہے۔ایک ترقی پسندسوچ رکھنے کے ناطے راقم کاموقف یہ ہے کہ ہمارے کلاس رومزیورپی یامغربی سکولوں کے کلاس رومزکی طرح مثالی(Ideal) ہونے چائیں۔اگرہم مغرب (West)کی بنائی گئی جدیدترین گاڑیاں اورمہنگے آئی فون مارکیٹ آتے ہی لے سکتے ہیں تومغرب کے تعلیمی معیاراوراصولوں کواپنانے کی کوشش کیوں نہیں کی جاتی؟

آج بھی ہمارے سکول،کالجزاوریونیورسٹیوں کے کلاس رومزاورخاص کران میں نصب کرسیاں کسی FBIکے انوسٹی گیشن کے سیل کی یاددلاتی ہیں جن پرایک نارمل آدمی شایددس منٹ سے زیادہ نہیں بیٹھ سکتا۔ایسی صورتحال میں سیکھنے سکھانے کاعمل محض ایک خواب ہی ہوسکتاہے۔دورجدیدکے کلاس رومزمیں ملٹی میڈیا،انٹرنیٹ،ہیٹنگ اینڈکولنگ سسٹم ایک عام سی بات ہے۔مگرہمارے کلاس رومزکے لئے یہ محض ایک خواب ہے۔

(۳)ہمارے تعلیمی اداروں کے سربراہان کے نزدیک بینک بیلنس کومینٹین کرناایک بڑی کامیابی تصورکیاجاتاہے۔حالانکہ اس رقم پرادارے اوراس میں پڑھنے والے طالب علموں کاحق ہے۔تعلیمی اداروں میں جمع شدہ کثیر رقم جوکہ طلبہ کے فلاح وبہبودپرخرچ ہونی چاہیے وہ بینک اکاؤنٹس میں پڑی پڑی کسی مسیحاکے انتظارمیں ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہمارے کلاس رومزکی حالت نصف صدی پہلے کے کلاس رومزسے کوئی زیادہ مختلف نہیں ہے اورنہ ہی طلبہ کیلئے کوئی اورسہولت مہیاکی جاسکی اس وجہ سے بہت سارے تعلیمی اداروں میں طالب علموں کی تعدادمیں واضح کمی دیکھنے میں آرہی ہے.

(۴)راقم چونکہ ادب ولسانیات کے شعبہ سے وابستہ ہے آج بھی ایک(Conserviative)مائنڈسیٹ کااستادادب یالیٹریچرکاپیپراس ذہنیت کے ساتھ چیک کرتاہے کہ بے شک طالب علم کاپوراجواب بھی صحیح اس کی دس میں سے چاریاپانچ نمبرسے زیادہ نہیں ملیں گے جوکہ ایک طالب علم کے ساتھ قطعی ناانصافی ہے۔ایک اچھے تعلیمی ماحول میں بچے اس جیسے جواب پر9یا سے اوپرنمبرلیتے ہیں مگرہماری سوئی چاریاپانچ نمبرپرجاکراٹک جاتی ہے۔راقم نے جب بی ایڈکاعملی امتحان دیاتوکلاس لیکچرکیلئے انگریزی کے سب سے مشہوراورFascinating Topic کا انتخاب کیاجوکہ Tensesتھے۔راقم نے بچوں کوTensesرٹالگانے کے بجائے سمجھانے پرفوکس کیا۔لیکن کلاس میں موجود قدامت پسندذہنیت رکھنے والے ماہرتعلیم (ممتحن)کوشایدیہ بات پسندنہ آئی اورانہوں نے راقم کودوسومیں سے 68نمبر دینے پر اتفاق کیاجس سے راقم کی ڈویژن بری طرح متاثرہوئی۔وہ محترم آج بھی حاضرسروس ہیں اورپائنیرگروپ کے ساتھ منسلک ہیں۔اگرآزادکشمیرکالج ٹیچرآرگنائزیشن (ACKTA)کی بات کی جائے توایسے لگتاہے کہ آج بھی ہماری ایسوسی ایشن قدامت پسندذہنیت کی عکاسی کرتی ہے۔جس کی واضح مثالوں میں ہائیرایجوکیشن کیلئے صرف پندرہ سیٹوں کامختص ہوناحالانکہ دوہزارتین سوکے لگ بھگ کالج اساتذہ اپنی ذمہ داریاں ہائیرایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں سرانجام دے رہے ہیں۔اس پورے معاملے پرمیں کالج ٹیچرایسوسی ایشن کے عہدیداروں کی معنی خیزخاموشی (Conserviative)مائنڈسیٹ کی عکاسی کرتی ہے۔اس کے علاوہ اوربھی بہت سارے ایسے کام ہیں جوکہ ایکٹاکے (Conserviative)مائنڈسیٹ کی وجہ سے ڈیڈلاک کاشکارہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں