اسرائیل، امریکہ اور ایران جنگ: پاکستان کی سیاسی، سفارتی اور عسکری قیادت کا تاریخ ساز کردار

149

تحریر: سردار عبدالخالق وصی
اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف حالیہ فوجی کارروائیوں نے مشرق وسطیٰ کو ایک خطرناک اور وسیع پیمانے کی جنگ کی لپیٹ میں دھکیل دیا ہے۔ اسرائیلی اور امریکی افواج کی مشترکہ فضائی اور میزائل بمباری میں نہ صرف ایران کی اعلیٰ عسکری و سیاسی قیادت کو نشانہ بنایا گیا بلکہ تعلیمی ادارے، تحقیقی مراکز اور شہری تنصیبات بھی ان حملوں کی زد میں آئیں۔ ایران کی اعلیٰ قیادت کے اہم افراد کی شہادت اور یونیورسٹیوں سمیت سائنسی مراکز پر بمباری نے اس تنازع کو محض علاقائی کشیدگی سے نکال کر ایک مکمل جنگ کی شکل دے دی ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف مشرق وسطیٰ کے استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہے بلکہ عالمی امن و سلامتی کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ اگر خدانخواستہ اس جنگ کو روکا نہ جا سکا تو یہ تیسرے عالمی جنگ کی صورت اختیار کر سکتی ہے، جس کے نقصانات کی تلافی صدیوں تک ممکن نہیں رہے گی۔ایسے نازک اور غیر معمولی حالات میں پاکستان کی سیاسی، سفارتی اور عسکری قیادت کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہو گیا ہے۔

مشرق وسطیٰ کی سیاست ہمیشہ عالمی طاقتوں کے مفادات کا مرکز رہی ہے، مگر موجودہ جنگ نے یہ حقیقت مزید واضح کر دی ہے کہ طاقت کی سیاست اور جغرافیائی مفادات کس طرح پورے خطے کو عدم استحکام کی دلدل میں دھکیل سکتے ہیں۔ ایران پر حملوں کے بعد پورے خطے میں بے چینی اور اضطراب کی کیفیت پیدا ہو گئی ہے۔ خلیجی ممالک، عرب دنیا اور وسیع تر مسلم دنیا میں اس جنگ کے ممکنہ پھیلاؤ کے خدشات شدت اختیار کر گئے ہیں۔ یہی وہ لمحہ تھا جب پاکستان نے ایک ذمہ دار اسلامی ریاست کی حیثیت سے نہایت متوازن مگر اصولی کردار ادا کیا۔پاکستان کی سیاسی قیادت نے اس جنگ کے حوالے سے جو واضح، دوٹوک اور جرات مندانہ موقف اختیار کیا، وہ نہ صرف قومی پالیسی کی عکاسی کرتا ہے بلکہ عالم اسلام کے جذبات کی بھی پوری ترجمانی کرتا ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف نے اسرائیل اور امریکہ کی ایران کے خلاف جارحیت کی کھلے اور صریح الفاظ میں مذمت کی اور ایران کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔

انہوں نے واضح کیا کہ کسی خودمختار ریاست پر اس نوعیت کے حملے نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہیں بلکہ خطے کے امن کے لیے بھی انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔اسی طرح صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اس بحران کے تناظر میں نہایت واضح اور بہادرانہ موقف اپنایا۔ انہوں نے اسرائیلی اور امریکی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے ایران کے ساتھ یکجہتی کا اعلان کیا اور زور دیا کہ پاکستان کسی بھی ایسے اقدام کی حمایت نہیں کر سکتا جو کسی خودمختار ملک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو نقصان پہنچائے۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں ان کا خطاب پاکستان کے ریاستی موقف کی ایک مضبوط اور جامع ترجمانی تھا۔وزیراعظم میاں شہباز شریف نے بھی اس بحران کے دوران نہایت فعال، ذمہ دارانہ اور دور اندیشانہ کردار ادا کیا۔ انہوں نے عالمی رہنماؤں سے براہ راست رابطے قائم کیے اور سفارتی سطح پر کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کو تیز کیا۔
.
ان کی ہدایات پر پاکستان کی سفارتی مشینری نے مختلف عالمی اور علاقائی فورمز پر پاکستان کا اصولی موقف پیش کیا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں، بلکہ مذاکرات اور سفارت کاری ہی پائیدار امن کا واحد راستہ ہے۔اس تمام سفارتی کاوشوں میں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کا کردار انتہائی کلیدی اور قابلِ ستائش رہا۔ انہوں نے مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ اور عالمی رہنماؤں سے مسلسل رابطے برقرار رکھے اور زور دیا کہ ایران کے خلاف جارحیت کو فوری روکا جائے اور خطے کو مزید جنگ کی آگ میں دھکیلنے کے بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جائے۔ پاکستان کی سفارت کاری نے اس بحران میں جس توازن، بصیرت اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا، وہ عالمی سطح پر قابلِ توجہ اور قابلِ تعریف رہا۔پاکستان کی عسکری قیادت نے بھی اس نازک صورتحال میں نہایت سنجیدگی، مدبرانہ سوچ اور حکمت عملی کا مظاہرہ کیا۔ چیف آف آرمی سٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر نہ صرف دفاعی تیاریوں کا جائزہ لیا بلکہ علاقائی قیادت کے ساتھ اہم رابطے بھی قائم کیے۔ ان کی سعودی وزیر دفاع اور دیگر اعلیٰ عسکری و سیاسی حکام سے ملاقاتیں اس بات کی غمازی کرتی ہیں کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے قیام کے لیے سنجیدہ اور فعال کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔

ان ملاقاتوں کا ایک اہم مقصد عرب ممالک کے درمیان جنگ کی وجہ سے پیدا ہونے والی کشیدگی کو کم کرنا اور عالم اسلام کو مزید تقسیم سے بچانا تھا۔ پاکستان کی عسکری اور سفارتی قیادت نے اس حوالے سے ایک پل کا کردار ادا کرنے کی بھرپور کوشش کی تاکہ جنگ کے شعلے دوسرے ممالک تک نہ پھیل سکیں۔اس بحران کے دوران پاکستان کے عوام اور سیاسی جماعتوں نے بھی قابلِ ذکر یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔ ملک کی تقریباً تمام سیاسی جماعتیں اور مختلف مکاتب فکر نے ایران کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا اور اسرائیلی و امریکی جارحیت کی مذمت کی۔ عوامی سطح پر بھی یہ احساس نمایاں تھا کہ ایک برادر اسلامی ملک کے خلاف جارحیت کے وقت پاکستان کو اصولی اور اخلاقی موقف اختیار کرنا چاہیے۔ یہ قومی یکجہتی پاکستان کی نظریاتی بنیادوں کی عکاسی کرتی ہے، جو عالم اسلام کے ساتھ اخوت اور یکجہتی کے اصول پر قائم ہے۔موجودہ بحران میں پاکستان نے بحیثیت ریاست اور ایک برادر اسلامی ملک جو سیاسی، سفارتی اور عسکری کردار ادا کیا، وہ بلاشبہ قابلِ تحسین اور تاریخ ساز ہے۔ پاکستان کی قیادت نے نہ صرف اصولی موقف اپنایا بلکہ عالمی اور علاقائی سطح پر ذمہ دارانہ اور بصیرت افروز طرز عمل کا مظاہرہ بھی کیا۔

وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کی فعال سفارت کاری، نائب وزیراعظم سینیٹر اسحاق ڈار کی پیشہ ورانہ اور متوازن کاوشیں، اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی حکیمانہ عسکری قیادت نے مل کر پاکستان کو اس بحران میں ایک معتبر اور ذمہ دار ملک کے طور پر پیش کیا، جس کی عالمی سطح پر قدر کی جاتی ہے۔تاہم اس جنگ کے اثرات صرف میدان جنگ تک محدود نہیں رہے بلکہ عالمی معیشت بھی اس کی لپیٹ میں آ چکی ہے۔ اسرائیل، امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے نتیجے میں عالمی توانائی کی منڈی شدید اضطراب کا شکار ہو گئی ہے۔ خلیج کا خطہ دنیا کو تیل فراہم کرنے والا کلیدی مرکز ہے اور ایران اس جغرافیائی حقیقت میں اہم حیثیت رکھتا ہے۔ جب اس خطے میں جنگ یا شدید کشیدگی پیدا ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے، جس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھتی ہیں۔اس صورتحال کے براہ راست اثرات پاکستان جیسے تیل درآمد کرنے والے ممالک پر پڑتے ہیں۔ حالیہ جنگ کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آیا۔

یہ اضافہ صرف پیٹرول پمپ تک محدود نہیں رہتا بلکہ ٹرانسپورٹ، صنعت، تجارت اور روزمرہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں تک پھیل جاتا ہے۔ پاکستان اس جنگ کا عسکری فریق نہ ہونے کے باوجود معاشی طور پر براہ راست متاثر ہو رہا ہے۔ درآمدی بل میں اضافہ اور مہنگائی کے بڑھتے دباؤ نے پہلے ہی مشکلات کا شکار معیشت کے لیے نیا چیلنج پیدا کر دیا ہے۔ اگر یہ رجحان برقرار رہا تو مہنگائی کی شدت مزید بڑھ سکتی ہے۔ایسے حالات میں اربابِ حکومت پر عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری اور مؤثر اقدامات کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اس قدر اضافہ عوام کے لیے شدید مشکلات پیدا کر سکتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ حکومت مالیاتی اور انتظامی سطح پر ایسے اقدامات کرے جن سے پیٹرول کی قیمتوں کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکے اور حتی الامکان انہیں سابقہ سطح کے قریب لایا جا سکے۔

بلاشبہ موجودہ عالمی بحران نے ایک بار پھر یہ حقیقت واضح کر دی ہے کہ دنیا کے کسی بھی خطے میں بھڑکنے والی جنگ کے اثرات پوری دنیا کو متاثر کرتے ہیں۔ ایسے نازک حالات میں پاکستان کی سیاسی، سفارتی اور عسکری قیادت خاص طور پر وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف، نائب وزیراعظم سینیٹر اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے جس بصیرت، ذمہ داری، قومی یکجہتی اور دور اندیشی کا مظاہرہ کیا ہے، وہ نہ صرف قابلِ تحسین ہے بلکہ پاکستان کی عالمی ساکھ کو مزید بلند کرنے والا ہے۔ اگر یہی تدبر اور قومی ہم آہنگی برقرار رہی تو پاکستان نہ صرف عالمی بحرانوں میں مثبت کردار ادا کرتا رہے گا بلکہ اپنے عوام کے معاشی مفادات اور قومی وقار کا بھی مؤثر انداز میں تحفظ کر سکے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں