پاکستان: سازشوں کے بیچ قائم ایک ناقابلِ شکست ریاست

yasir arif 221

روڈمیپ ،یاسر عارف
ہزار کوتاہیوں، لاکھ لغزشوں، اپنوں کی بے اعتنائیوں اور غیروں کی مسلسل دسیسہ کاریوں کے باوجود اپنے پورے وقار اور استقامت کے ساتھ قائم مملکتِ خداداد پاکستان درحقیقت تاریخ کا ایک زندہ معجزہ ہے۔ یہ وہ ریاست ہے جسے قیام کے دن سے ہی سازشوں، جنگوں اور بحرانوں کے حصار میں رکھا گیا، مگر ہر آزمائش کے بعد یہ پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر ابھری۔ رمضان المبارک کے ستائیسویں روز اس کا قیام، کلمۂ طیبہ کی بنیاد پر وجود، ریاستِ طیبہ کے بعد دوسری ’’لا الٰہ الا اللہ‘‘ سے موسوم ریاست کا ظہور اور محافظِ حرمین الشریفین کے اعزاز کے ساتھ اس کا تعلق یہ سب حقائق اس امر کی گواہی دیتے ہیں کہ پاکستان محض ایک جغرافیائی حقیقت نہیں بلکہ تاریخ کے سینے پر ثبت ایک غیر معمولی معجزہ ہے۔

ورنہ اپنے قیام کے صرف ایک برس بعد 1948ء سے ہی نومولود ریاست کے خلاف شروع ہونے والی جنگوں سے لے کر مئی 2025ء کے معرکۂ حق تک اپنے سے پانچ گنا بڑی طاقت سے ٹکرانا اور سرخرو ہونا کوئی معمولی بات نہیں۔سب سے بڑھ کر نامساعد معاشی حالات کے باوجود مسلم دنیا کی واحد ایٹمی طاقت بن جانا بھی ایک ایسا اعزاز ہے جو 56 اسلامی ممالک میں صرف ریاستِ پاکستان کو حاصل ہے۔آج بھی ہمارا کامل یقین ہے کہ آئے روز کے نئے چیلنجز سے نبرد آزما ہو کر یہ عظیم ریاست قائم و دائم رہے گی۔حقیقت یہ ہے کہ دشمن کی آنکھوں میں کھٹکنے والی یہ ریاست کبھی بھی مثالی حالات میں زیادہ دیر نہیں رہی۔ چیلنجز ہر دور میں اس کی دہلیز پر دستک دیتے رہے ہیں اور آج بھی دے رہے ہیں۔
البتہ اس بار چاروں اطراف سے تناؤ ماضی کی نسبت کہیں زیادہ ہے۔

مئی 2025ء کی تاریخی فتح کے بعد مشرقی سرحد پر موجود ازلی دشمن کے ساتھ ساتھ افغانستان کے راستے بھی چیلنجز درپیش ہیں، ایران کے راستے ایک نیا محاذ اور عالمی سازشوں کا ایک کوریڈور بھی سرگرم نظر آتا ہے۔چند برس قبل ایک نشست میں متعلقین نے بتایا کہ صرف بلوچستان میں پاکستان کے خلاف 25 غیر ملکی خفیہ ایجنسیاں سرگرمِ عمل ہیں۔ یہ سن کر ایک لمحے کے لیے کانوں سے دھواں نکل آیا۔ راقم نے حیرت سے پوچھا:’’واقعی پچیس؟‘‘جواب ملا:’’جی ہاں، پوری پچیس۔‘‘انہوں نے ایک مثال دیتے ہوئے بتایا کہ یورپ کے ایک دور افتادہ ملک کی ایجنسی کی ایک خاتون خفیہ ایجنٹ ایران کے راستے بلوچستان میں داخل ہوئی اور پکڑی گئی۔ تحقیقات کے بعد جب اس ملک کا نام سامنے آیا تو ہم حیران رہ گئے۔

ویڈیو ثبوت متعلقہ ملک کے سفارت خانے کے اہلکاروں کو دکھا کر پوچھا گیا:’’ہم نے تمہارا کیا بگاڑا ہے جو دنیا کے آخری کونے سے اٹھ کر بلوچستان میں تخریب کے ناپاک ارادے سے تمہاری ایجنٹ یہاں چلی آئی ہے؟‘‘جواب میں خاموشی تھی۔ ازاں بعد ریاستی اداروں کی مشترکہ تحقیقات کے بعد یہ رپورٹ سامنے آئی کہ بلوچستان کی سرزمین پر پچیس غیر ملکی خفیہ ایجنسیاں بیک وقت سرگرم ہیں۔یہ ہے پاکستان، یہ ہے ریاست، اور یہ ہیں آئی ایس آئی اور ہمارے دیگر ادارے جو نہ جانے ایک وقت میں کتنے دشمنوں سے کتنے محاذوں پر نبرد آزما ہیں۔بنا سوچے، بنا تولے یہ بول دینا کتنا آسان ہے کہ دفاع پر اتنا خرچ کیوں کیا جاتا ہے اور ایٹم بم کی کیا ضرورت تھی؟ ملک کو خوشحال بنانے پر توجہ دی جاتی۔یہ دلیل اپنی جگہ موجود سہی، لیکن آج پڑوسی ملک ایران اور بعض خلیجی ریاستوں کی حالتِ زار سے ایک تلخ حقیقت عیاں ہوئی ہے کہ جو ممالک دفاع کے بجائے صرف عمارات کی تعمیر پر توجہ دیتے رہے، آج وہ کس مشکل سے دوچار ہیں۔ اپنی آنکھوں کے سامنے بلند و بالا عمارات پر بارود کی بارش دیکھ رہے ہیں اور اپنے ہی دفاع کے لیے کسی کے مرہونِ منت ہیں۔

سٹریٹیجک ڈیپتھ کے معاملے میں افغانستان میں روسی جارحیت کے خلاف کردار پر بھی انگلیاں اٹھائی جاتی ہیں اور کہا جاتا ہے کہ یہ ایک غلطی تھی۔حقیقت یہ ہے کہ یہ غلطی نہیں بلکہ کمال حکمتِ عملی تھی۔ سوویت یونین نے ایک پڑوسی مسلم ملک کو روندنے کا جو عزم کر رکھا تھا، اسے جلال آباد، قندھار اور خوست میں شکست دینا پہلے افغانستان کے مفاد میں تھا اور اس کے بعد اس کا تعلق ریاستِ پاکستان کے مفاد سے جڑتا تھااپنے قیام کے بعد سے اب تک اس ریاست نے ہمیشہ پڑوسیوں اور برادر ممالک کی حتی الوسع مدد کی ہے۔
عرب اسرائیل جنگوں میں پاکستان کی فضائیہ کا کردار تاریخ کے سنہرے اوراق کا حصہ ہے۔ حرمین الشریفین کی طرف اٹھنے والی میلی آنکھ کے مقابل بھی پاکستان کا کردار ہمیشہ مستعد رہا ہے۔
اسی طرح سفارتی اور سٹریٹیجک تعاون کے تحت پڑوسی ملک ایران کی غیر معمولی مدد کا بھی ایک ریکارڈ موجود ہے، جس کی قیمت بھی پاکستان کو چکانی پڑی۔بی بی سی کی ایک رپورٹ، جو سی آئی اے کی آرکائیوز سے لیک ہونے والی دستاویزات پر مبنی ہے، میں بتایا گیا کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے امریکی صدر بل کلنٹن سے دو طویل ملاقاتوں میں پاکستان کی جانب سے ایران کو ایٹمی صلاحیت کے حصول میں مدد دینے کی شکایت کی، جس پر بل کلنٹن نے نوٹس لیا۔ یہ الزامات اور ان کی بھاری قیمت بھی پاکستان نے چکائی۔افغانستان کو سوویت یونین کی طاقت کے مقابلے میں تربیت، مدد اور لیڈرشپ فراہم کرنے کا معاملہ دنیا سے پوشیدہ نہیں۔

سابق افغان وزیرِاعظم گلبدین حکمت یار کا ایک انٹرویو آن ریکارڈ ہے کہ اگر پاکستان ہماری مدد نہ کرتا تو افغانستان روس کے خلاف کبھی جنگ نہیں جیت سکتا تھا۔نائن الیون کے بعد امریکہ اور نیٹو کے عتاب سے بچنے میں افغانوں کا محض اپنا کردار کافی نہ تھا بلکہ اس جنگ میں پاکستان نے بھی کم و بیش اتنی ہی قربانیاں دیں جتنی افغانوں نے دیں۔معیشت، فوج اور امن ہر حوالے سے پاکستان نے بھاری قیمت چکائی اور آج تک چکا رہا ہے۔نائن الیون کے بعد افغان معاملہ کس قدر سنگین تھا، اس کی ایک مثال کرنل امام کی ایک گفتگو سے واضح ہوتی ہے۔ کرنل امام، جو ملا محمد عمر کے استاد تھے، نے لاہور میں ایک فورم پر بتایا کہ جب افغانستان پر امریکی حملے کے بعد کچھ ساتھیوں نے ملا محمد عمر سے پاکستان کے خلاف ہتھیار اٹھانے کی اجازت مانگی تو ملا عمر نے جواب دیا:’’ہرگز نہیں۔ دا پاکستان نہ دے، دا مجبورستان دے۔‘‘یعنی پاکستان کی موجودہ پالیسی اس کی مجبوری ہے۔

ان کی یہ بات اس لحاظ سے حقیقت پر مبنی تھی کہ جس القاعدہ کے اقدام کو جواز بنا کر افغانستان پر امریکہ کی طرف سے حملہ کیا گیا، اس کے ذمہ دار افغانستان ہی کے مہمان تھے، پاکستان مگر نہیں تھا۔ ہاں، پاکستان نے لٹے پھٹے برادر ملک افغانستان کی دل آزاری سے ہمیشہ گریز کیا، مگر اس کی بھاری قیمت بھی چکائی۔پچاس لاکھ افغان مہاجرین کا بوجھ کس نے اٹھایا؟اسلحہ، منشیات اور قتل و غارت گری کا کلچر کس کے معاشرے میں پھیلا؟ایک پُرامن قوم کی تین نسلیں اسی کلچر کی نذر ہو گئیں۔اس کے باوجود یہ کہا جاتا ہے کہ پاکستان نے افغانستان پر ظلم کیا۔

امریکہ کی واپسی کے بعد بھارتی پراکسی بننا، خودکش حملے، ٹارگٹ کلنگ اور جوانوں پر حملے یہ سب آخر کیا ہے؟غزوۂ ہند کے مجاہدین ہندوستان کی پراکسی بن بیٹھیں تو یہ صرف تضاد نہیں بلکہ سراسر انحراف کی انتہا ہے۔
قفل ٹوٹا خدا خدا کر کے۔
بھلا ہو فیلڈ مارشل کا جنہوں نے آرمی چیف بنتے ہی علماء کی ایک تقریب میں واضح کر دیا تھا کہ اگر ہمارا ایک پڑوسی ایک ملک یہ زعم رکھتا ہے کہ وہ 6000 سالہ سلطنت ہے اور جب چاہے ہماری سرحد پر دراندازی کر سکتا ہے تو ایسا اب نہیں ہوگا۔18 جنوری 2024ء کو اسی تناظر میں پاکستان نے ایران کے صوبہ سیستان و بلوچستان میں دہشت گرد تنظیموں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے۔ اس آپریشن کو “آپریشن مرگ بر سرمچار” کہا گیا اور اس میں بلوچ علیحدگی پسند گروہوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ حملہ دراصل 16 جنوری 2024ء کو ایران کی جانب سے پاکستان کے بلوچستان میں کیے گئے میزائل حملے کے جواب میں کیا گیا تھا۔

اسی طرح 18 مارچ 2024ء کو پاکستان نے افغانستان کے اندر ایک نمایاں فضائی کارروائی کی۔ اس کارروائی میں افغانستان کے صوبوں خوست اور پکتیکا میں دہشت گرد تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے مبینہ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ کارروائی 5000 سالہ تاریخ والے افغانستان کے لیے بھی ایک واضح پیغام تھا کہ ریاستِ پاکستان کی سرحد کا وقار مجروح ہوگا تو جواب آئے گا اور سخت جواب آئے گا۔حالات اب آگے بڑھ چکے ہیں اور ایک ماہ سے پڑوسی مسلم ملک کے ساتھ کھلی جنگ جاری ہے۔

اب اسے فیصلہ کرنا ہے کہ وہ بھارت کی پراکسی بنے گا یا ایک برادر ملک اور اچھا پڑوسی؟ دہشت گردی یا پاکستان کسی ایک کا انتخاب ہی اس جنگ کا اختتام طے کرے گا۔
یہ ایک بہترین اور ناگزیر موقف ہے جو ریاست کے وقار کے لیے ضروری ہے۔ یہی موقف ایک آزاد اور خودمختار ملک کی ضمانت بن سکتا ہے۔
قوم کو اب کی بار اس فیصلہ کن لڑائی میں ریاست کے وقار کے لیے اٹھ کھڑا ہونا ہوگا۔ ایک باوقار ملک ہی ہماری عزت اور وقار کا ضامن ہے۔
پاکستان ہمیشہ زندہ باد۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں