طالبان رجیم، سفارتی کوششیں اور پاکستان کی ریاستی آزمائش

178

تحریر: یاسر عارف
افغانستان میں طالبان رجیم کی مسلسل کوتاہ اندیشیاں نہ صرف خطے کے جغرافیائی اور سکیورٹی توازن کو بگاڑ چکی ہیں بلکہ یہ پاکستان کے لیے ایک آزمائشِ عظیم بن چکی ہیں۔ ہر سفارتی قدم، ہر جرگہ، اور ہر ڈوزیئر پاکستان کی حکمت عملی، سیاسی بصیرت اور ریاستی صبر کو پرکھتا رہا ہے،اور یہ واضح کرتا رہا ہے کہ پاکستان کی تحمل اور سمجھ بوجھ کی حدیں کہاں تک ہیں۔افغانستان کے طالبان رجیم کے ساتھ امن عمل کے لیے کی جانے والی کوششیں پاکستان نے آخری حد تک کیں۔ اگست دو ہزار اکیس میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد اسلام آباد نے امید ظاہر کی کہ خطے میں استحکام اور دوطرفہ تعلقات کی نئی شروعات ممکن ہو سکیں گی۔ اسی مقصد کے تحت پاکستان نے تقریباً چالیس سفارتی رابطے، آٹھ سے دس وفود، تین سے چار جرگے، پندرہ سے بیس مراسلے اور تین سے چار ڈوزیئرز کے ذریعے مسلسل کوششیں کیں تاکہ افغانستان کے ساتھ تعلقات بہتر ہوں اور سرحدی و سکیورٹی خدشات دور کیے جائیں۔ تاہم دہشت گردی اور سرحدی مسائل آج بھی دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک بڑا چیلنج ہیں۔

ان کوششوں کو بعض حلقوں نے پاکستان کی کمزوری کے طور پر دیکھا، یہاں تک کہ ایک موقع پر سرکاری وفد کو ایئرپورٹ سے واپس بھیجنے کی کوشش بھی کی گئی۔ یہ سفارتی بے آدابی اور جمہوری رویے سے ناواقفیت کا پہلو طالبان رجیم کی سیاسی ناپختگی کو ظاہر کرتا ہے۔ ایک وقت میں طالبان نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ پاکستان اپنی سرزمین سے ان کی مرضی کی مذہبی شخصیات کو افغانستان بھیجے جو ان کی بات سنیں اور اس پر عملدرآمد کرائیں۔ یہ طرز عمل خوف سری اور ریاستی وقار کے ساتھ مذاق کے مترادف تھا۔قارئین اس تلخ حقیقت کو جان کر یقیناً حیرت زدہ ہوں گے کہ افغان جنگوں کے دوران دو ہزار ایک میں امریکی آمد سے لے کر اب تک کرزئی رجیم، اشرف غنی رجیم اور اب طالبان رجیم کو اربوں ڈالر کی غیر ملکی امداد ملی۔
ایک اندازے کے مطابق اگر اس امداد کا بیسواں حصہ بھی افغانستان کی تعمیر و ترقی پر لگایا جاتا تو یہ دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہو جاتا، لیکن یہاں کرپشن کی وہ مثالیں موجود ہیں کہ الامان الحفیظ، حامد کرزئی کا ڈالروں سے بھرے بریف کیس کے ساتھ بیرونِ ملک فرار ہونا اور اشرف غنی کا دنیا کے میڈیا کی آنکھوں کے سامنے ڈالروں سے بھرے جہاز کے ساتھ انخلا ایک بھیانک ریکارڈ ہے۔ اس کا ذمہ دار کون ہے؟

اب کے طالبان رجیم میں تو اس ظلم کی آخری انتہا یہ ہے کہ انہیں ہر ماہ امریکہ سے دو ملین ڈالر کی امداد وصول ہوتی ہے، تو ان کے اخراجات چلتے ہیں۔ قیادت کے امریکی ساختہ ہیلی کاپٹر اڑتے ہیں، قیمتی عمامے بدلتے ہیں اور دیگر سرگرمیاں بھی انہی امدادی وسائل پر منحصر ہیں۔ کبھی کسی ان کے ہمدرد نے یہ سوال اٹھایا کہ وہ خاک نشین ملا محمد عمر، جو درویشی میں سامراج سے لڑ کر اس دنیا سے چل بسے، کیا ان کی روح آج ان کے بیٹے اور ساتھیوں کی کابینہ کی ان عیاشیوں، امریکی ڈالروں اور بھارتی روپے کے مالِ حرام کی بہتات پر رنجیدہ نہیں ہوتی ہوگی؟ وہ جو سبق ہماری پچھلی نسل کو پڑھایا گیا کہ یہ طالبان غاروں میں بسیرا کرنے والے، قال اللہ و قال رسول کی صدا لگانے والے اور دنیا میں صحابہ کے واحد جانشین ہیں، ذرا پتا تو کرائیں کہ ان کے بچے کس کے خرچے پر قطر اور دیگر خلیجی ریاستوں میں زیرِ تعلیم ہیں۔

اس سچائی سے اب کون واقف نہیں کہ ایک خلیجی ملک نے ملا عمر کی اگلی نسل کی پرورش کے لیے انہیں اپنے پاس بلایا اور عرصہ تک ٹھہرایا تو وہاں ان کی برین واش اور تربیت کون کر رہا تھا؟ وہ امریکہ ہی تھا جس نے یہ سب ترتیب دے رکھا تھا۔ وہ طالبان کی موجودہ قیادت کی ہر کمزوری سے واقف ہیں، انہیں سہولت دیتے ہیں اور اپنے ایجنڈے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔سوویت یونین کے خلاف افغان جنگ کے دوران اور بعد ازاں امریکہ کی جنگ کے زمانے میں عالمی سامراج کے افغان مذہبی جنگجو طبقے کے ساتھ معاملات میں فرق یہ تھا کہ تب پاکستان نے مکمل کنٹرول اپنے ہاتھ میں رکھا اور امریکیوں کو ان کے ساتھ براہِ راست ڈیل کرنے کی اجازت نہیں دی۔جنرل حمید گل مرحوم بتاتے ہیں کہ ایک امریکی سفارتکار اسلام آباد سے نکل کر پشاور میں ایک افغانی نمائندے سے ملاقات کے لیے جا رہا تھا، مگر جب خبر ضیاء الحق کو ملی تو اسے صوابی سے واپس بھجوا دیا گیا۔

لیکن نائن الیون کے بعد کی افغان جنگ کے خاتمے کے بعد خلیجی ملک کی میزبانی میں موجودہ طالبان رجیم امریکہ کے ساتھ خفیہ ڈیل کر چکا ہے۔ بھارت کے ساتھ ان کے معاہدے سب کے سامنے ہیں اور اسرائیل کی حمایت کا اظہار بھی اب کھلے عام ہو چکا ہے۔افغانستان کا موجودہ رجیم کا اسلام سے دور تک کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ صرف وار اکانومی پر مبنی ایک نظام ہے جو بیرونی طاقتوں کے ساتھ مل کر پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے درپے ہے۔ایک وقت میں کابل رجیم نے پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ ٹی ٹی پی دہشت گردوں کے ٹھکانے دور منتقل کرنے کے لیے دس ارب روپے فراہم کرے، یعنی ایک طرح کا بھتہ۔ وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے واضح کر دیا کہ اگر ہم ایسا بھی کر لیتے تو کابل والے یہ دس ارب خود کھا کر پھر دہشت گردی کرواتے اور مزید پیسوں کا مطالبہ کرتے۔ اس لیے پاکستان نے اس غیر منطقی اور خطرناک مطالبے پر عمل نہیں کیا۔

ترکی کے شہر استنبول میں پاکستان اور افغانستان کے مذاکرات بے نتیجہ ختم ہوئے۔ مذاکرات کے دوران اگر کسی ڈرافٹ پر اتفاق بھی ہو جاتا تو طالبان وفد اس دوران دوسری طرف جا کر کسی نامعلوم ہینڈلر سے ہدایات لے لیتا، جس کی وجہ سے مذاکرات ڈیڈ لاک میں پھنس جاتے۔ بعد ازاں معلوم ہوا کہ وہ نامعلوم ہینڈلر دراصل بھارت تھا، جس نے طالبان کو مالی پشت پناہی کی کمٹمنٹ پہلے ہی دے رکھی تھی۔ہمارے ہاں اکثر سادہ لوح لوگ طالبان کے ظاہری لباس اور حلیے کی عقیدت میں دل پسیج بیٹھتے ہیں۔ اس حوالے سے ان کے لیے ایک پیغام فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر کے ویڈیو بیانات کی صورت میں موجود ہے۔ حسنِ اتفاق یہ ہے کہ حافظ قرآن ہونے کے ساتھ وہ اہلِ سنت و جماعت کے روایتی حنفی مکتبہ فکر سے تعلق رکھتے ہیں۔

وہ واضح کہہ چکے ہیں کہ میں حافظِ قرآن ہوں، اللہ کے حضور سر بسجود ہو کر پوچھتا ہوں، یہ جنگ ریاست کی جنگ ہے۔ اولی الامر کے کہے بغیر کوئی شخص اپنی مرضی سے ہتھیار نہیں اٹھا سکتا۔ ریاست کی رٹ کو قائم کرنا اور فتنے کا قلع قمع کرنا خدا اور رسول کے حکم کے مطابق ہے۔
وقاتلوہم حتی لا تکون فتنہ
فتنے کے خاتمے تک ان کے خلاف قتال کرو۔ آج کا بڑا فتنہ، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوسان ہے۔ ان کے خلاف جنگ یہاں تک لڑی جائے کہ یہ سرنڈر کر دیں اور ہتھیار ڈال دیں۔
اس واضح موقف کے بعد عام عوام کو کنفیوز ہونے کی بجائے ریاست کے بیانیے کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا۔ ریاست تب مستحکم ہوتی ہے جب قوم بیرونی حملہ آوروں کے مقابلے میں اس کے ساتھ کھڑی ہو۔ یہ ملک ہے تو ہم ہیں، اس ملک سے آگے کچھ بھی نہیں ہے۔ پاکستان کی مضبوطی کا راز اس اتحاد میں ہے، اور یہی وقت ہے کہ ہر شہری اپنی ذمہ داری سمجھ کر ریاست کے ساتھ مکمل یکجہتی دکھائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں