پاکستان کا عالمی امن میں کردار خطے کا نیا چوہدری

192

تحریر :نعیم الحسن نعیم
دنیا ایک ایسے موڑ پر ہے جہاں ہر صبح امید کے ساتھ شروع ہوتی ہے مگر شام ہوتے ہوتے تنازعے طاقت کے جھگڑے اور سفارتی کشمکش کی خبر کے سائے میں ختم ہوتی ہے۔گزشتہ چند مہینوں میں ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی منظرنامے کو ایک نئے بحران میں دھکیل دیا ہے۔ یہ بحران صرف دو ملکوں تک محدود نہیں رہا بلکہ پوری دنیا کی سلامتی معاشی استحکام اور انسانیت کے مستقبل کے لیے سنگین خطرات کھڑے کر چکا ہے۔ایسے عہدِ خطرے میں پاکستان نے وہ کردار ادا کیا ہے جس کا تصور دنیا نے کم ہی کیا تھا ایک امن پسند قوت ایک سفارتی ثالث اور ایک ایسا ملک جس نے ثابت کیا کہ جنگ کے بجائے بات چیت ہی حقیقت میں طاقت ہے۔ پاکستان نے نہ صرف اپنے سفارتی تعلقات کا استعمال کرتے ہوئے ایران اور امریکہ کے درمیان پیغامات کی ترسیل کا بیڑا اٹھایا بلکہ عالمی ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے سعودی عرب ترکی اور مصر جیسے اہم ممالک کو امن مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش بھی کی۔ یہی ڈیپلو میسی آج عالمی مبصرین کی نظر میں پاکستان کو امن سازی کے قابلِ اعتبار مذاکراتی کھلاڑی کے طور پر پیش کر رہی ہے۔

جب دنیا نے دیکھا کہ براہِ راست مذاکرات کے دروازے بند ہیں پاکستان نے خاموشی سے اور مستقل مزاجی سے ایک شٹل ڈیپلو میسی کا کردار ادا کیا ایک ایسا کردار جو صرف الفاظ تک محدود نہیں رہا بلکہ عملی طور پر عمل میں لایا گیا۔ ریuters کی رپورٹس میں واضح ذکر ہے کہ پاکستان نے امریکہ اور ایران دونوں کے ساتھ متوازن تعلقات برقرار رکھے اعتماد کی فضاء بنانے کی کوشش کی اور سفارتی راستے کھولنے میں تیزی دکھائی ہے۔ یہی کوششیں دنیا کو یہ پیغام دیتی ہیں کہ پاکستان نے خود کو ایک طاقتور ثالث کے طور پر منوایا ہے ایک ایسا ثالث جو طاقت کے زور پر نہیں بلکہ اعتماد تعلقات اور حکمت کے ذریعے بات چیت کراتا ہے۔یہ وہ پاکستان ہے جسے اکثر دنیا نے صرف ایک نیا جغرافیائی ملک سمجھا ہے مگر حقیقتاً اس نے وقت اور حالات کی کڑے امتحانوں میں ثابت کیا ہے کہ وہ خود بھی عالمی امن کے لیے ایک معتبر پل ہو سکتا ہے۔ پاکستان کے سفارتی کردار کا یہ ارتقاء محض موجودہ بحران تک محدود نہیں بلکہ یہ پاکستان کی دیرینہ خارجہ پالیسی عالمی تعلقات کی گہرائی اور علاقائی توازن کو مدنظر رکھنے والی حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔ اسلام آباد نے نہ صرف اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مضبوط رکھا بلکہ عالمی طاقتوں کے ساتھ بھی پُر اعتماد خط و کتابت جاری رکھی جس سے پاکستان کو ایک قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر دیکھا جانے لگا۔

یہ کردار پاکستانی عوام کے عزم اور ثابت قدمی کے بغیر ممکن نہ تھا۔ پاکستان نے تاریخ میں کئی بار ثابت کیا ہے کہ وہ مشکلات میں گھبرا کر پچھلے قدم نہیں ہٹتا بلکہ ہر چیلنج کو ایک موقع میں بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس قوم نے بھوک غربت اور تنازعات کے باوجود اپنے وطن کو مضبوط اور خود مختار بنانے کے لیے لازوال قربانیاں دی ہیں۔ یہ وہ قوم ہے جس نے اپنے لیے نہیں بلکہ دنیا کے امن کے لیے بھی مشکلات کو سہہ کر ثابت قدمی کے ساتھ اپنا کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان کی عوام نے نہ صرف داخلی چیلنجز کا مقابلہ کیا بلکہ عالمی معاملات میں سفارتی طور پر مثبت کردار ادا کرنے کے لیے اپنے رہنماؤں فوجی قیادت سائنسدانوں اور سفارتی اداروں کو بھرپور سپورٹ دیا۔پاکستان کے سفارتی کردار میں ایک اہم پہلو اس کا دفاعی استحکام بھی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان نے اپنے دفاع کے لیے ایٹمی پروگرام کو مضبوط بنایا جس نے اسے ایک ناقابلِ تسخیر قوت کے طور پر عالمی سطح پر تسلیم کروایا۔ 1998 میں پاکستان نے کامیاب ایٹمی تجربات کیے جس نے اس کے دفاع کو مضبوط رکھنے کے ساتھ ساتھ اسے ایک فیصلہ کن قوت بھی فراہم کی۔

اس کامیابی میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان جیسے عظیم سائنسدان کا کردار لازوال ہے جنہوں نے ملکی دفاع کے لیے اپنی ساری زندگی وقف کر دی۔ پاکستان کے ایٹمی پروگرام نے نہ صرف ملک کے اندر حفاظت اور خودمختاری کو یقینی بنایا بلکہ عالمی طاقتوں کو بھی ایک واضح پیغام دیا کہ پاکستان اپنے دفاع اور سلامتی میں کٹر موقف رکھتا ہے۔پاکستان کی دفاعی کامیابی صرف ایٹمی قوت تک محدود نہیں تھی بلکہ اس کے عسکری اداروں نے داخلی چیلنجز کا بھی موثر مقابلہ کیا۔سیکیورٹی حالات کے بگڑنے پر پاک فوج نے میدان میں آ کر دہشت گردی فرقہ وارانہ تشدد اور دیگر خطرات کا مقابلہ کیا جس سے پاکستان کو ایک مضبوط داخلی بنیاد ملی۔ اسی طرح بے ذوالفقار علی بھٹو شہید جنرل ضیا الحق بےنظیر بھٹو شہید اور میاں نواز شریف جیسے رہنماؤں نے اپنے اپنے ادوار میں ملکی وقار کو برقرار رکھنے کے لیے فیصلے کیے جن میں بعض اوقات سخت فیصلے بھی شامل تھے مگر ان سب نے ایک مقصد کے تحت قدم اٹھایا پاکستان کی خودمختاری اور دفاع کی مضبوطی۔

پاکستان کی عوام نے ان تمام چیلنجز کا مقابلہ صبر تحمل اور جذبہ وطنیت کے ساتھ کیا۔ جب مشکل حالات آئے عوام نے ایک دوسرے کا ہاتھ تھاما مشکل راستوں پر ساتھ چلنے کا عزم کیا اور اپنی نسلوں کے مستقبل کے لیے قربانی دی۔ یہی حقیقت آج پاکستان کو دنیا بھر میں ایک امن پسند مضبوط اور باوقار قوم کے طور پر پیش کرتی ہے۔یہی وہ پاکستان ہے جس نے ایک طرف عالمی ثالثی کی کوشش کی تو دوسری طرف اپنے دفاع کو بھی مضبوط رکھا۔ ایران امریکہ مذاکرات کے سلسلے میں جب دنیا نے دیکھا کہ براہِ راست گفت و شنید کا دروازہ بند ہو چکا ہے پاکستان نے اعتماد سازی کے لیے اپنے سفارتی تعلقات کو استعمال کیا جس سے ایک نئی امید کی کرن جلی۔ پاکستان نے نہ صرف مذاکرات کے ممکنہ ڈھانچوں کی پیشکش کی بلکہ خطے کے دیگر ممالک کو بھی امن کی کوششوں میں شامل کیا جس کا مقصد جنگ کے شعلوں کو ٹھنڈا کرنا تھا۔عالمی رپورٹس میں بھی پاکستان کو ایک ممکنہ امن بروکر کے طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے جو ایک خالص ثالثی کردار میں سرگرم ہے امریکا اور ایران کے درمیان کسی بھی قسم کے براہِ راست تنازعے سے بچنے کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہا ہے۔

اس سب سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان نے نہ صرف اپنی خودمختاری کا تحفظ کیا بلکہ عالمی امن میں بھی اپنی ذمہ داری ادا کرنے کا عزم برقرار رکھا ہے۔یہ وہ پاکستان ہے جسے دنیا نے بطور ایک قوتِ ثالث دیکھا جس نے طاقت کے بجائے حکمت تعلقات اور سفارتی استقامت کو اپنا ہتھیار بنایا۔ اس نے ایک ایسے وقت میں کردار ادا کیا جب عالمی طاقتیں کشیدگی اور انتشار کی راہوں پر گامزن تھیں پاکستان نے امن اور مفاہمت کی روشنی کو مضبوط رکھا۔پاکستان کی سفارتی کوششیں اور عوامی قربانیاں ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہیں۔ پاکستان کی عوام نے اپنے رہنماؤں کی پیٹھ تھامی ملکی دفاع میں حصہ لیا اور امن کے ترجمان بن کر عالمی مثال قائم کی۔ یہی پاکستانی قوم ہے جس نے اپنے وطن کو ناقابلِ تسخیر بنانے میں ہر ممکن کردار ادا کیا چاہے وہ بیرونی خطرات کے خلاف احتجاج ہو یا اندرونی امن و امان کے لیے جدوجہد۔پاکستان نے دنیا کو یہی سبق دیا ہے کہ جنگی تنازعوں سے آگے نکل کر بات چیت اعتماد اور تعلقات کی مضبوطی سے ہی مسائل کا حل ممکن ہے۔

پاکستان نے ثابت کیا ہے کہ امن صرف ایک لفظ نہیں بلکہ ایک عملی حکمت عملی ہے جس کے ذریعے عالمی تنازعات کو کم کیا جا سکتا ہے۔پاکستان کی تاریخ امن پسند جدوجہد سے بھری ہوئی ہے چاہے وہ ایٹمی قوت کی تحریک ہو دفاعی قوت کی تعمیر یا عالمی ثالثی کی کوششیں ہر مرحلے پر پاکستان نے ثابت قدمی حکمت اور اعتماد کا مظاہرہ کیا۔یہ وہ پاکستان ہے جو نہ صرف اپنے اندر امن برقرار رکھتا ہے بلکہ بیرونی تنازعات میں بھی امن پیدا کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ یہی ہے وہ پاکستان جسے دنیا ایک امن تلاش کرنے والی ثالثی کی قوت اور خودمختاری میں مضبوط قوم کے طور پر جاننے لگی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں