امریکہ ایران کشیدگی میں جنگ بندی: عالمی وقار کا نیا باب

119

تحریر: سردار عبدالخالق وصی
سجدۂ شکر بہ درگاہِ ربِّ العزت کہ اُس مالکِ حقیقی نے اقوامِ عالم میں پاکستان کو وہ عزت و توقیر عطا فرمائی جس کا تصور بھی کچھ عرصہ قبل محض ایک خواب محسوس ہوتا تھا۔ یہ وہ لمحہ ہے جب ایک قوم، جو داخلی مشکلات، معاشی دباؤ، بیرونی جارحیت، دہشتگردی اور سیاسی انتشار کے گرداب میں گھری ہوئی تھی، اچانک عالمی افق پر ایک باوقار، مؤثر اور فیصلہ کن قوت کے طور پر ابھرتی ہے۔ تاریخ کے اوراق میں ایسے مواقع کم ہی آتے ہیں جب کوئی ریاست اپنے مسائل کے باوجود دنیا کے بڑے بحران کو ٹالنے میں کلیدی کردار ادا کرے اور آج پاکستان نے یہی کر دکھایا ہے۔یہ کامیابی محض ایک سفارتی پیش رفت نہیں بلکہ ایک طویل فکری، نظریاتی اور ریاستی سفر کا ثمر ہے وہ سفر جس کی بنیاد قائد اعظم محمد علی جناح نے رکھی، جسے مفکر پاکستان علامہ محمد اقبال نے اپنے افکار سے جِلا بخشی، اور جسے بعد کی قیادتوں نے کم و بیش اپنے فیصلوں سے استحکام دیا۔ یہی وہ نظریۂ پاکستان ہے جس نے اس مملکت کو محض ایک جغرافیہ نہیں بلکہ ایک مقصد اور ذمہ داری عطا کی اور آج وہی ذمہ داری عالمی امن کے قیام میں ادا ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔

اگر موجودہ حالات کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ کامیابی اور بھی غیر معمولی محسوس ہوتی ہے، کہ پاکستان خود اس وقت داخلی سطح پر متعدد چیلنجز سے دوچار ہے۔ معاشی دباؤ، مہنگائی، مالیاتی مشکلات، سیاسی تقسیم اور سکیورٹی خدشات یہ تمام عوامل کسی بھی ریاست کی توجہ کو محدود کر سکتے تھے۔ مگر پاکستان نے ان مشکلات کے باوجود اپنی ترجیحات میں عالمی امن کو شامل رکھا اور ایک ذمہ دار ریاست ہونے کا ثبوت دیا۔ یہی وہ ریاستی بلوغت ہے جو قوموں کو تاریخ میں ممتاز مقام عطا کرتی ہے۔قومی تاریخ کا تسلسل اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ مشکل فیصلے کر کے اپنی بقا اور وقار کو یقینی بنایا۔ 28 مئی 1998 کا دن اس سلسلے کی ایک روشن مثال ہے جب قائد محمد نواز شریف کی قیادت میں پاکستان نے ایٹمی دھماکے کر کے اپنے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنایا۔ یومِ تکبیر دراصل قومی خودمختاری، جرات اور وقار کا استعارہ ہے۔ یہی دفاعی خود اعتمادی آج پاکستان کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ عالمی سطح پر ایک باوقار اور خود مختار کردار ادا کر سکے۔

پاکستان کی داخلی سیاسی تاریخ کا ایک اہم مگر تلخ باب بھی اسی تناظر میں سامنے آتا ہے۔ جب جمہوری تسلسل اور ترقی و خوشحالی کا پہیہ نواز شریف کی قیادت میں رواں تھا تو یکے بعد دیگرے تین بار اُن کی حکومت کے خلاف شبخون مارا گیا، جس کے نتیجے میں ابھرتا ہوا پاکستان عدم استحکام اور انتشار کی دلدل میں دھنستا چلا گیا۔ بعد ازاں عمران خان کے دورِ حکومت کے آخری ایام میں نہ صرف ریاستی نظم و نسق کمزور ہوا بلکہ پاکستان کی مسلح افواج کے خلاف منظم مہم بھی اپنے عروج پر پہنچ گئی۔ ایسے نازک مرحلے پر نواز شریف نے ایک دور اندیش اور فیصلہ کن قدم اٹھاتے ہوئے پاکستان افواج کی قیادت ایک ایسے نظریاتی، فکری اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے حامل جنرل سید عاصم منیر کے سپرد کرنے کی منظوری دی، جن کی قیادت میں آج پاکستان نہ صرف داخلی استحکام کی جانب گامزن ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی عزت و وقار کے ساتھ اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ریاستی استحکام کے اسی سفر میں نواز شریف کی جانب سے جنرل سید عاصم منیر کو عسکری قیادت کے لیے منتخب کرنے کی منظوری ایک دور اندیش فیصلہ ثابت ہوا۔

آج جب پاکستان عالمی سطح پر امن کے قیام میں کردار ادا کر رہا ہے تو اس کے پس منظر میں یہی فیصلے کارفرما نظر آتے ہیں، جو ریاستی تسلسل اور ادارہ جاتی مضبوطی کی علامت ہیں۔
اسی تسلسل میں بھارتی جارحیت کے جواب میں پاکستان کی مسلح افواج نے جس جرات، حکمت اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا، وہ تاریخ میں “معرکۂ حق بنیان المرصوص” کے نام سے یاد رکھا جائے گا۔ اس آپریشن میں نہ صرف دشمن کی جارحانہ عزائم کو ناکام بنایا گیا بلکہ پاکستان کی دفاعی صلاحیت، انٹیلی جنس برتری اور عسکری نظم و ضبط کو بھی دنیا کے سامنے منوایا گیا۔ جنرل سید عاصم منیر کی قیادت میں افواجِ پاکستان نے یہ ثابت کیا کہ یہ فوج صرف سرحدوں کی محافظ ہی نہیں بلکہ قومی وقار کی امین بھی ہے، اور کسی بھی مہم جوئی کا بروقت اور بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے دنیا کو ایک بڑے بحران کے دہانے پر لا کھڑا کیا تھا۔ ایسے میں پاکستان نے نہایت متوازن اور ذمہ دارانہ سفارتکاری کے ذریعے دونوں فریقوں کے درمیان اعتماد سازی کا کردار ادا کیا۔

وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں سیاسی سطح پر فعال اقدامات کیے گئے، جبکہ اسحاق ڈار نے سفارتی محاذ پر ان کوششوں کو نتیجہ خیز بنایا۔ اسلام آباد کو مذاکراتی مرکز کے طور پر پیش کرنا اور جنگ بندی کے لیے قابلِ عمل تجاویز دینا پاکستان کی سفارتی بصیرت کا واضح اظہار ہے۔اسی دوران فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں عسکری سطح پر ہونے والے روابط نے اعتماد سازی میں کلیدی کردار ادا کیا۔ عسکری اور سیاسی قیادت کی ہم آہنگی نے اس پوری کوشش کو ایک مضبوط بنیاد فراہم کی، جس کے نتیجے میں ایک ممکنہ تباہ کن تصادم کو ٹالا جا سکا۔ یہ ہم آہنگی دراصل اسی قومی وحدت کی علامت ہے جو کسی بھی بڑی کامیابی کے لیے ناگزیر ہوتی ہے۔یہاں یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ اسی سہ رکنی قیادت وزیر اعظم شہباز شریف، نایب وزیر اعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے نہ صرف سفارتی محاذ پر کامیابی حاصل کی بلکہ بھارتی جارحیت کے مقابلے میں بھی پاکستان کے دفاع کو مؤثر انداز میں منوایا، جو ریاستی حکمتِ عملی کی ہمہ جہت کامیابی کا مظہر ہے۔

اسی تسلسل میں پاکستان کا کردار صرف ایک خطے تک محدود نہیں رہا بلکہ عالمِ اسلام کے اہم ترین مسائل میں بھی نمایاں رہا ہے۔ قضیۂ فلسطین کے حوالے سے پاکستان نے ہمیشہ ایک اصولی اور دوٹوک مؤقف اختیار کیا، اور غزہ میں انسانی المیے کے دوران عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔ پاکستان کی سفارتی آواز نہ صرف اقوامِ متحدہ بلکہ دیگر عالمی فورمز پر بھی مظلوم فلسطینیوں کے حق میں بلند ہوئی، جو اس کے اصولی مؤقف اور امتِ مسلمہ کے ساتھ وابستگی کی روشن دلیل ہے۔یہی وہ تسلسل ہے جو امید دلاتا ہے کہ اگر اسی حکمت، بصیرت اور توازن کے ساتھ عالمی تنازعات کو دیکھا جائے تو دنیا کو جنگ و جدل سے نکال کر امن و استحکام کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے یہی دعا ہے کہ وہ دنیا کو پائیدار امن عطا فرمائے، اور برصغیر میں پاکستان اور بھارت کے درمیان دیرینہ تنازع، خصوصاً مسئلۂ کشمیر، کشمیری عوام کی امنگوں اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق خوش اسلوبی سے حل ہو، تاکہ خطے میں مستقل امن کی بنیاد رکھی جا سکے۔

آج پاکستان کی عالمی شناخت ایک نئے وقار، نئی ساکھ اور ایک مثبت تاثر کے ساتھ ابھر کر سامنے آئی ہے۔ وہ ملک جسے ماضی میں منفی زاویوں سے دیکھا جاتا تھا، اب تدبر، توازن اور قیادت کی علامت بن چکا ہے۔ یہ محض ایک تاثر نہیں بلکہ پاکستان کی قومی ساکھ، وقار اور اعتماد کا احیاء ہے ایک ایسا احیاء جو دنیا کے سامنے پاکستان کے حقیقی تشخص کو نمایاں کرتا ہے۔یہ لمحہ پاکستان کی تاریخ کے ان نادر مواقع میں سے ایک ہے جو قومی وقار، سفارتی بصیرت اور ریاستی ہم آہنگی کی روشن مثال بن کر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ یہ اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ پاکستان نہ صرف اپنے دفاع کی صلاحیت رکھتا ہے بلکہ عالمی امن کے قیام میں بھی ایک فعال اور مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے۔
آخر میں، اس تمام تر صورتحال کا تقاضا یہ ہے کہ پاکستانی قوم اپنے تمام تر اختلافات، سیاسی تقسیم اور فکری نزاعات کو پسِ پشت ڈال کر آنے والے جمعہ کے دن ربِّ کائنات کے حضور سجدۂ شکر بجا لائے۔ ہم اجتماعی طور پر اللہ تعالیٰ کے حضور دستِ دعا بلند کریں کہ وہ اس سرزمین کو مزید عزت، استحکام اور امن عطا فرمائے اور پوری دنیا کو جنگ و جدل سے نکال کر امن و سلامتی کی راہ پر گامزن کرے۔ اسی جذبے کے ساتھ ہم اس تاریخی کامیابی پر وزیر اعظم شہباز شریف، ووزیر خارجہ سحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو خراجِ تحسین و تبریک پیش کرتے ہیں کہ جن کی قیادت، بصیرت اور مشترکہ کاوشوں نے پاکستان کو یہ عالمی عزت و وقار عطا کیا۔
پاکستان ہمیشہ زندہ باد!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں