رٹھوعہ ہریام برج کا عوامی افتتاح ، مزاحمت کی گونج اور عوامی حکمرانی کے نئے عہد کا اعلان

28

تحریر: ایم جمیل احمد شاہد (سماہنوی)
ریاست جموں و کشمیر کی تاریخ میں بعض لمحے ایسے ہوتے ہیں جو محض ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک تحریک، ایک سوچ اور ایک نئے عہد کا آغاز بن جاتے ہیں۔ رٹھوعہ ہریام برج کا عوامی افتتاح بھی ایسا ہی ایک تاریخی لمحہ ثابت ہوا جب ہزاروں کشمیری عوام نے اپنے حق حکمرانی کا عملی اظہار کرتے ہوئے یہ واضح پیغام دیا کہ اب فیصلے بند کمروں میں نہیں بلکہ عوام کے درمیان ہوں گے۔عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے کور ممبران کے سپہ سالار شوکت نواز میر کی قیادت میں ہونے والا یہ تاریخی اجتماع دراصل ریاست کے عوام کی طویل جدوجہد، قربانیوں اور مزاحمت کی علامت تھا۔ اس دن رٹھوعہ ہریام پل صرف ایک تعمیراتی منصوبہ نہیں رہا بلکہ یہ عوامی شعور، اتحاد اور مزاحمت کی علامت بن گیا۔ریاست کے مختلف علاقوں مظفرآباد، راولاکوٹ، کوٹلی، میرپور، بھمبر اور تاؤبٹ تک سے عوام کا ایک سیلاب اسلام گڑھ کی طرف رواں دواں تھا۔ نوجوانوں کے قافلے، بزرگوں کے چہروں پر عزم، خواتین کی شرکت اور شہداء کے خاندانوں کی موجودگی اس بات کا ثبوت تھی کہ یہ محض ایک جلسہ نہیں بلکہ ایک عوامی تحریک کا مظہر تھا۔

رٹھوعہ ہریام برج بائیس سالہ محرومی کی داستان
رٹھوعہ ہریام برج ریاست جموں و کشمیر کے اہم ترین ترقیاتی منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ پل نہ صرف دریائے جہلم کے دونوں کناروں کو جوڑتا ہے بلکہ یہ خطے کے ہزاروں افراد کے لیے معاشی، سماجی اور سفری سہولتوں کا ذریعہ بھی ہے۔ لیکن افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ یہ منصوبہ بائیس سال تک حکومتی نااہلی، کرپشن اور بے حسی کا شکار رہا۔دو دہائیوں کے دوران کئی حکومتیں آئیں، کئی وزراء نے اقتدار کے مزے لوٹے اور کئی حکمرانوں نے عوام کے نام پر سیاست کی مگر اس منصوبے کو مکمل کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے۔ عوام کو صرف وعدے ملے، دعوے ملے اور بیانات ملے مگر عملی کام نہ ہو سکا۔سیاسی مبصرین کے مطابق اس منصوبے کی تکمیل میں تاخیر دراصل اس نظام کی ناکامی کی علامت ہے جس میں عوامی مفاد سے زیادہ ذاتی مفادات کو ترجیح دی جاتی ہے۔ رٹھوعہ ہریام برج کی بائیس سالہ تاخیر اس بات کا ثبوت ہے کہ جب حکمران عوام سے دور ہو جائیں تو ترقیاتی منصوبے بھی سیاست کی نذر ہو جاتے ہیں۔

عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی مزاحمت
ایسے ماحول میں عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی ایک امید کی کرن بن کر سامنے آئی۔ اس کمیٹی نے ریاست کے عوامی مسائل کو اجاگر کرنے اور بنیادی حقوق کے لیے آواز بلند کرنے کا بیڑا اٹھایا۔ بجلی کے نرخوں، آٹے کی قیمتوں اور دیگر عوامی مسائل کے ساتھ ساتھ رٹھوعہ ہریام برج کی تکمیل بھی کمیٹی کے چارٹر آف ڈیمانڈ کا اہم حصہ تھی۔شوکت نواز میر اور ان کے ساتھیوں نے یہ واضح کیا کہ اگر حکومتیں اپنے فرائض ادا نہیں کرتیں تو عوام کو خود میدان میں آنا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے احتجاج، جلسوں اور ریلیوں کے ذریعے حکمرانوں پر دباؤ بڑھایا۔بالآخر یہی عوامی دباؤ اس منصوبے کی تکمیل کا سبب بنا۔ یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ اگر عوامی تحریک نہ ہوتی تو شاید یہ منصوبہ مزید کئی سال تک فائلوں میں دبا رہتا۔

عوامی افتتاح ایک علامتی مگر تاریخی قدم
جب ہزاروں افراد رٹھوعہ ہریام پل پر جمع ہوئے اور شوکت نواز میر نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ اس کا افتتاح کیا تو یہ محض ایک رسمی تقریب نہیں تھی بلکہ یہ ایک علامتی اور تاریخی قدم تھا۔ اس اقدام کے ذریعے یہ پیغام دیا گیا کہ اصل طاقت عوام کے پاس ہے۔جلسہ گاہ میں موجود لوگوں کے جذبات دیدنی تھے۔ ہر طرف حق حکمرانی کے نعرے گونج رہے تھے۔ نوجوان ہاتھوں میں بینرز اور پرچم اٹھائے اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرj رہے تھے۔
اسٹیج پر تحریک کے شہداء کے والدین کو بٹھایا گیا۔ یہ منظر نہایت جذباتی تھا۔ شہداء کے خاندانوں کی موجودگی ن دے دی کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے عوامی حقوق کی جدوجہد میں اپنی قیمتی قربانیاں پیش کیں۔

شوکت نواز میر کا انقلابی خطاب
اس تاریخی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے شوکت نواز میر نے حکمرانوں کو سخت الفاظ میں تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ بائیس سال تک اس منصوبے کو دانستہ طور پر نظر انداز کیا گیا کیونکہ حکمرانوں کی ترجیح عوامی مفاد نہیں بلکہ ذاتی مفاد تھا۔
انہوں نے کہا کہ جب عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے احتجاج کا راستہ اختیار کیا تو حکمرانوں کے ایوانوں میں ہلچل مچ گئی۔ انہوں نے واضح کیا کہ عوامی طاقت کے سامنے کوئی حکومت زیادہ دیر تک نہیں ٹھہر سکتی۔
شوکت نواز میر نے کہا کہ اس پل کے اصل وارث کشمیری عوام ہیں اور وہ شہداء ہیں جنہوں نے عوامی حقوق کی تحریک میں اپنی جانیں قربان کیں۔

حکومت کو سخت وارننگ
اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں سعد انصاری ایڈووکیٹ، دانش ایڈووکیٹ، عمر نزیر اور سید یاسب شاہ نے بھی حکومت کو سخت الفاظ میں متنبہ کیا۔انہوں نے کہا کہ کمیٹی کے چارٹر آف ڈیمانڈ پر 31 مئی تک مکمل عملدرآمد کیا جائے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو تحریک ایک نئے مرحلے میں داخل ہو جائے گی۔رہنماؤں نے اعلان کیا کہ 9 جون کے بعد ریاست بھر میں حق حکمرانی کی تحریک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو جائے گی اور اس کے بعد کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہوں گے۔انہوں نے واضح کیا کہ اگر حکومت نے عوامی مطالبات کو سنجیدگی سے نہ لیا تو ریاستی عوام اسمبلی کی طرف مارچ کریں گے اور عوام دشمن حکمرانوں کو اقتدار کے ایوانوں سے باہر نکال کر ہی واپس لوٹیں گے۔

عوامی بیداری کا نیا دور
سیاسی مبصرین کے مطابق رٹھوعہ ہریام برج پر ہونے والا یہ اجتماع دراصل ریاست میں عوامی بیداری کے نئے دور کا آغاز ہے۔ اب عوام پہلے کی طرح خاموش نہیں رہے بلکہ وہ اپنے حقوق کے لیے منظم ہو رہے ہیں۔
یہ تحریک صرف ایک پل یا ایک منصوبے کی تکمیل تک محدود نہیں بلکہ یہ عوامی شعور کی بیداری کی علامت ہے۔ جب عوام اپنے حقوق کے لیے متحد ہو جائیں تو بڑی سے بڑی طاقت بھی ان کے سامنے زیادہ دیر تک نہیں ٹھہر سکتی۔

نتیجہ
رٹھوعہ ہریام برج کا عوامی افتتاح دراصل ایک پیغام ہے۔ یہ پیغام حکمرانوں کے لیے بھی ہے اور عوام کے لیے بھی۔ حکمرانوں کے لیے یہ پیغام ہے کہ اگر وہ عوامی مسائل کو حل نہیں کریں گے تو عوام خود میدان میں آئیں گے۔
اور عوام کے لیے یہ پیغام ہے کہ اتحاد، مزاحمت اور جدوجہد کے ذریعے ناممکن کو بھی ممکن بنایا جا سکتا ہے۔یہ پل اب صرف کنکریٹ اور لوہے کا ڈھانچہ نہیں رہا بلکہ یہ عوامی مزاحمت، قربانی اور امید کی علامت بن چکا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھا جائے گا کہ کیا حکمران عوامی مطالبات کو تسلیم کرتے ہیں یا پھر ریاست ایک نئی عوامی تحریک کی طرف بڑھتی ہےلیکن ایک بات طے ہے کہ رٹھوعہ ہریام برج پر جمع ہونے والا عوامی سمندر تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا کیونکہ اس دن کشمیری عوام نے دنیا کو یہ بتا دیا کہ وہ اپنے حق حکمرانی کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں