تحریر: خواجہ قاریعہ تمکین حفیظ
پاکستان کی عسکری و سیاسی تاریخ میں حافظ عاصم منیر کا بطور آرمی چیف کردار ایک منفرد اہمیت کا حامل ہے ایک پیشہ ور سپہ سالار بھی ہیں اور حافظِ قرآن ہونے کی حیثیت سے ایک روحانی و اخلاقی پہلو بھی رکھتے ہیں جو قیادت میں تحمل، تدبر اور ذمہ داری کے احساس کو مزید مضبوط بناتا ہے. پاکستان کے پہلے حافظ آرمی چیف کے طور پر ان کی شخصیت ایک علامتی اہمیت ہے جو قوم اور ملکِ پاکستان کے لیے باعثِ فخر ہے۔موجودہ عالمی حالات میں مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی خاص طور پر ایران اور امریکہ کے تعلقات میں تناؤ عالمی امن کے لیے بہت بڑی آزمائش ہےاگرچہ کھلی جنگ کی صورت حال ہمیشہ پیچیدہ ہوتی ہے لیکن اس نوعیت کی کشیدگی کے اثرات دنیا بھر بالخصوص پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک پر ضرور پڑے ہیں تیل کی قیمتوں میں اضافہ، مہنگائی میں شدت اور معاشی دباؤ ایسے عوامل ہیں جو عوامی زندگی کو براہِ راست متاثر کرتے ہیں ایسے حالات میں پاکستان کا کردار ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر اہم ہو جاتا ہے جو ہمیشہ امن اور مذاکرات کی حمایت کرتا آیا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی قیادت بالخصوص عسکری قیادت نے خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی سطح پر کردار ادا کرنے کی کوششیں کی ہیں اگر پاکستان کسی بھی سطح پر ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے یا مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں کردار ادا کرتا ہے تو یہ اس کی سفارتی کامیابی تصور ہوگی اس تناظر میں عالمی سطح پر پاکستان کو ایک امن پسند ملک کے طور پر تسلیم کیا جانا ایک مثبت پیش رفت ہے۔دوسری جانب جنوبی ایشیا میں پاکستان کا دفاعی کردار بھی ہمیشہ خاص رہا ہے نریندر مودی کی قیادت میں بھارت کے ساتھ تعلقات میں تناؤ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں پاکستان کی عسکری حکمت عملی اور دفاعی تیاریوں نے ہمیشہ ملک کے دفاع کو یقینی بنایا ہے۔ تاہم جنگ یا تصادم کے بجائے امن، استحکام اور مذاکرات کو ترجیح دینا ہی دانشمندی کا تقاضا ہے.جہاں تک (بنیان المرصوص )جیسے تصورات کا تعلق ہے یہ اتحاد، مضبوطی اور یکجہتی کی علامت ہیں پاکستان کی قوم اور اس کی افواج اگر اسی جذبے کے تحت متحد رہیں تو کسی بھی چیلنج کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے اور دشمن کو شکست سے دوچار بنایا جا سکتا ہے۔ چونکہ اصل کامیابی صرف میدانِ جنگ کا رخ اختیار کرنے سے نہیں ہوتی بلکہ امن قائم کرنے، معیشت کو مستحکم کرنے اور قوم کو یکجا رکھنے میں ہوتی ہے.
پاکستان کی موجودہ قیادت خصوصاً آرمی چیف حافظ عاصم منیر ایک ایسے دور میں ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں جہاں دانشمندانہ فیصلے، متوازن پالیسی اور سفارتی بصیرت انتہائی ضروری ہیں اگر پاکستان خود کو ایک امن کے داعی ذمہ دار اور مستحکم ریاست کے طور پر منواتا ہے تو یہی اصل کامیابی ہوگی کیونکہ پائیدار امن ہی کسی بھی قوم کی حقیقی طاقت ہوتا ہے.یہ کالم مین نے اپنے بابا کی تبلغ سے لکھا ہے اسلئے کے میرے بابا بھی آرمی آفیسر ریٹائرڈ ہیں انھوں نے بھی وطنِ پاکستان کے لیے زندگی کے پچیس اٹھائیس سال صرف کیے ہیں.
اللہ پاک پاکستان کو مزید ترقی یافتہ اور مستحکم بنائیں آمین ثمہ آمین
اللہ ہم سب کا حامی و ناصر رہے