حق گوئی و بےباکی، باسط علی
آزاد کشمیر کی سیاست کو اگر ایک جملے میں بیان کرنا ہو تو شاید یوں کہا جا سکتا ہے: “چہرے بدلتے رہے، نظام وہی رہا۔” پچھلے پانچ برسوں میں تین حکومتیں آئیں اور گئیں، مگر عام آدمی کی زندگی میں وہی پرانی محرومیاں، وہی مسائل اور وہی بے بسی برقرار رہی۔ یہ تبدیلیاں بظاہر جمہوری عمل کا حصہ لگتی ہیں، لیکن حقیقت میں یہ ایک ایسے سیاسی کھیل کی جھلک ہیں جس میں اصول صرف تقریروں تک محدود اور اقتدار اصل ہدف بن چکا ہے۔میں اکثر سوچتا ہوں کہ ہماری سیاست کا محور کیا ہے؟ کیا یہ عوامی خدمت ہے؟ کیا یہ نظریات کی پاسداری ہے؟ یا یہ صرف اقتدار کی کشمکش ہے؟ اگر ہم دیانتداری سے جواب دیں تو سچ یہی ہے کہ ہماری سیاست کا مرکز اقتدار ہےاور صرف اقتدار۔ باقی سب کچھ، چاہے وہ مذہب ہو، نظریہ ہو، یا قومی اقدار، محض ایک ذریعہ ہیں، ایک ہتھیار ہیں، جنہیں وقت اور ضرورت کے مطابق استعمال کیا جاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ وہ لوگ جو کل تک اصولوں کی سیاست کے داعی تھے، آج انہی اصولوں کو روندتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ وہ رہنما جو عوام کے سامنے دیانت اور سچائی کے دعوے کرتے تھے، عملی میدان میں مفاد پرستی کی بدترین مثال بن چکے ہیں۔ اور المیہ یہ ہے کہ عوام بھی اس کھیل کا حصہ بن چکے ہیں .کبھی جذبات میں آ کر، کبھی مجبوری میں، اور کبھی لاعلمی میں۔عوامی ایکشن کمیٹی کی تحریک اس سارے منظرنامے میں ایک امید کی کرن بن کر ابھری تھی۔ یہ تحریک کسی ایک جماعت یا فرد کی نہیں تھی، بلکہ یہ عوام کے دل کی آواز تھی۔ لوگ سڑکوں پر نکلے، انہوں نے اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کی، اور بعض نے اس جدوجہد میں اپنی جانیں تک قربان کر دیں۔ یہ وہ لمحہ تھا جب لگ رہا تھا کہ شاید اس خطے کی تقدیر بدلنے والی ہے۔
لیکن پھر وہی ہوا جو اکثر ہوتا ہے۔ طاقتور طبقات حرکت میں آئے۔ کچھ نے کھل کر اس تحریک کی مخالفت کی، کچھ نے خاموشی اختیار کر لی، اور کچھ نے پس پردہ اسے کمزور کرنے کی کوشش کی۔ یہ رویہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارے ہاں مسئلہ صرف حکمرانوں کا نہیں، بلکہ پورے نظام کا ہےایک ایسا نظام جو عوامی شعور سے خوفزدہ ہے۔آج جب ہم موجودہ سیاسی منظرنامے کو دیکھتے ہیں تو ایک عجیب تضاد نظر آتا ہے۔ جو لوگ اقتدار میں نہیں ہیں، وہ احتجاج کر کے خود کو عوام کا ہمدرد ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اور جو اقتدار میں ہیں، وہ مستقبل کے سنہرے خواب دکھا کر ووٹ مانگ رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ عوام کس پر یقین کریں؟ ان پر جو کل اقتدار میں تھے اور کچھ نہ کر سکے؟ یا ان پر جو آج اقتدار میں ہیں اور صرف وعدوں پر گزارا کر رہے ہیں؟
آزاد کشمیر کی متنازعہ حیثیت ایک حقیقت ہے، لیکن کیا یہ حقیقت ہماری تمام ناکامیوں کا جواز بن سکتی ہے؟ کیا اس بنیاد پر ہم صنعت، تجارت اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے سے ہاتھ کھینچ سکتے ہیں؟ اگر دنیا کے دیگر متنازعہ خطے ترقی کر سکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں؟آج صورتحال یہ ہے کہ بے روزگاری عام ہے، تعلیم یافتہ نوجوان مایوسی کا شکار ہیں، اور معاشی حالات دن بدن خراب ہوتے جا رہے ہیں۔ ایک نوجوان، جو ڈگری لے کر نکلتا ہے، اس کے پاس دو ہی راستے ہوتے ہیں: یا تو وہ سفارش تلاش کرے، یا پھر مایوسی کو گلے لگا لے۔ یہ وہ تلخ حقیقت ہے جس کا سامنا اس خطے کا ہر گھر کر رہا ہے۔تعلیمی اداروں کی حالت اس سے بھی زیادہ افسوسناک ہے۔ یونیورسٹیاں اور کالجز، جو علم کے مراکز ہونے چاہیے تھے، ذاتی وفاداریوں اور سفارشی کلچر کے گڑھ بن چکے ہیں۔ یہاں قابلیت نہیں، بلکہ تعلقات کام آتے ہیں۔
اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ایک پوری نسل نہ صرف معیاری تعلیم سے محروم ہو رہی ہے بلکہ اس کا مستقبل بھی غیر یقینی ہوتا جا رہا ہے۔سرکاری نوکریاں بھی اب میرٹ کا کھیل نہیں رہیں۔ یہ ایک ایسا دروازہ بن چکی ہیں جس پر صرف مخصوص لوگوں کا حق ہے۔ عام آدمی کے لیے یہ دروازہ تقریباً بند ہو چکا ہے۔ جب ریاستی ادارے خود ہی انصاف فراہم نہ کر سکیں تو پھر عوام کس سے امید رکھیں؟قدرتی وسائل کی لوٹ مار ایک اور سنگین مسئلہ ہے۔ جنگلات، جو اس خطے کا فخر تھے، آج بدعنوانی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ درخت کاٹ دیے گئے، زمینیں بانٹ دی گئیں، اور وسائل کو بے دردی سے استعمال کیا گیا۔ یہ صرف موجودہ نسل کا نقصان نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے مستقبل پر بھی ایک سوالیہ نشان ہےاور پھر بات آتی ہے ٹیکنالوجی کی۔ ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں .
جہاں انٹرنیٹ صرف ایک سہولت نہیں بلکہ ایک ضرورت بن چکا ہے۔ مگر آزاد کشمیر کے کئی علاقوں میں آج بھی لوگ اس بنیادی سہولت سے محروم ہیں۔ یہ محرومی صرف معلومات تک رسائی کو محدود نہیں کرتی بلکہ معاشی ترقی کے دروازے بھی بند کر دیتی ہے۔ ایک نوجوان، جو آن لائن دنیا میں اپنی جگہ بنا سکتا تھا، وہ اس دوڑ سے باہر رہ جاتا ہے۔یہ سب دیکھ کر ایک سوال ذہن میں ابھرتا ہے: کیا واقعی ہم تبدیلی چاہتے ہیں؟ یا ہم صرف تبدیلی کا نعرہ لگانا چاہتے ہیں؟ کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ تبدیلی صرف حکومتیں بدلنے سے نہیں آتی، بلکہ سوچ بدلنے سے آتی ہے۔الیکشن 2026 ہمارے لیے ایک امتحان ہے۔ یہ ایک موقع ہے کہ ہم ماضی کی غلطیوں سے سیکھیں اور ایک بہتر فیصلہ کریں۔ لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم جذبات کے بجائے عقل کا استعمال کریں۔ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ کون واقعی ہمارے مسائل کو سمجھتا ہے اور کون صرف وعدوں کا سہارا لے رہا ہے۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ ووٹ صرف ایک حق نہیں بلکہ ایک ذمہ داری ہے۔ اگر ہم نے اس ذمہ داری کو سنجیدگی سے نہ لیا تو پھر ہمیں شکایت کا حق بھی نہیں ہوگا۔“قومیں اپنے فیصلوں سے بنتی ہیں، اور اپنے فیصلوں سے ہی بگڑتی ہیں۔” یہ بات آج آزاد کشمیر کے تناظر میں بالکل درست لگتی ہے۔ اگر ہم نے اس بار بھی وہی پرانے چہرے، وہی پرانی سوچ اور وہی پرانا نظام منتخب کیا تو پھر ہمیں اپنے حالات پر حیران نہیں ہونا چاہیے۔وقت آ چکا ہے کہ ہم خود سے سوال کریں۔ کیا ہم واقعی ایک بہتر مستقبل چاہتے ہیں؟ کیا ہم اپنے بچوں کے لیے ایک روشن کل چاہتے ہیں؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو پھر ہمیں اپنے فیصلوں میں بھی اس کا عکس دکھانا ہوگا۔الیکشن 2026 کو صرف ایک انتخاب نہ سمجھیں، بلکہ اسے ایک موقع سمجھیں—اپنی تقدیر بدلنے کا، اپنے نظام کو درست کرنے کا، اور ایک نئی شروعات کرنے کا۔ کیونکہ اگر ہم نے اس بار بھی آنکھیں بند رکھیں تو شاید اگلی بار ہمیں دیکھنے کے لیے کچھ باقی ہی نہ رہے۔