امن کے دشمن کا چہرہ: Donald Trump کی ہٹ دھرمی

85

تحریر:ڈاکٹر ضمیر اخترخان
موجودہ عالمی حالات میں اگر کسی ایک شخصیت کا طرزِ عمل عالمی فضا کو شدید اضطراب میں مبتلا کیے ہوئے ہے تو وہ Donald Trump ہیں۔ ایران امریکہ مذاکرات کے تناظر میں ان کا رویہ نہ صرف غیر سنجیدہ بلکہ کھلی جارحیت اور بداعتمادی کی علامت بن چکا ہے۔ ان کی مسلسل ہٹ دھرمی، جارحانہ پالیسی اور بچکانہ ضد نے اس حقیقت کو واضح کر دیا ہے کہ مسئلہ صرف اختلاف کا نہیں بلکہ طرزِ عمل کا ہے—اور یہی طرزِ عمل پوری انسانیت کے لیے خطرہ بنتا جا رہا ہے۔یہ پہلا موقع نہیں کہ انہوں نے عالمی امن کو داؤ پر لگایا ہو۔ 2018ء میں انہوں نے یکطرفہ طور پر Joint Comprehensive Plan of Action (ایران جوہری معاہدہ) سے امریکہ کو نکال لیا—ایک ایسا معاہدہ جسے عالمی سطح پر امن کی ضمانت سمجھا جا رہا تھا۔ اس فیصلے نے نہ صرف خطے میں کشیدگی کو بڑھایا بلکہ امریکہ کی سفارتی ساکھ کو بھی شدید نقصان پہنچایا۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ فیصلہ عالمی مفاد میں تھا یا محض ذاتی انا کی تسکین؟

پھر حالیہ مہینوں میں، جب ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی نئی راہیں کھل رہی تھیں، عین اسی وقت Donald Trump کی جانب سے اچانک سخت بیانات، اقتصادی دباؤ اور فوجی اقدامات نے اس عمل کو سبوتاژ کر دیا۔ ایک طرف مذاکرات کی میز سجائی جاتی ہے، دوسری طرف میزائلوں کی زبان بولی جاتی ہےیہ دوہرا معیار دنیا کو کس طرف لے جا رہا ہے؟مزید برآں، اسرائیلی قیادت، خصوصاً Benjamin Netanyahu کے ساتھ غیر معمولی ہم آہنگی بھی کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔ ماضی میں جب دیگر امریکی صدور نے جنگی راستے کو مسترد کیا، وہاں Donald Trump نے جارحیت کو ترجیح دی۔ کیا یہ عالمی امن کی خدمت ہے یا کسی اور ایجنڈے کی تکمیل؟

دنیا پہلے ہی تیل کے بحران، معاشی دباؤ اور تجارتی بے یقینی کا شکار ہے۔ ایسے میں ایک سپر پاور کے سربراہ کا غیر ذمہ دارانہ رویہ جلتی پر تیل ڈالنے کے مترادف ہے۔ ان کے ایک بیان سے عالمی منڈیاں لرز اٹھتی ہیں، تیل کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگتی ہیں، اور کروڑوں انسانوں کی زندگیاں عدم استحکام کا شکار ہو جاتی ہیں۔ یہ محض سیاست نہیں—یہ انسانیت کے مستقبل سے کھیلنا ہے۔
کیا ایک لیڈر کا کام آگ بھڑکانا ہے یا اسے بجھانا؟ کیا طاقت کا مطلب انسانوں کو خوف میں مبتلا کرنا ہے یا انہیں امن دینا؟ تاریخ گواہ ہے کہ وہی رہنما کامیاب ہوتے ہیں جو جنگ کے دہانے سے قوموں کو واپس لاتے ہیں، نہ کہ انہیں دھکیلتے ہیں۔لہٰذا یہ وقت ہے کہ Donald Trump اپنی پالیسیوں پر فوری نظرثانی کریں۔ ہٹ دھرمی، دھمکیوں اور جارحیت کا راستہ ترک کر کے سنجیدہ اور مستقل مزاج سفارت کاری کو اپنائیں۔ کیونکہ طاقت کا حقیقی امتحان جنگ نہیں بلکہ امن قائم کرنا ہوتا ہے۔

یہ حقیقت نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ جب بھی سفارتی دروازے کھلنے لگتے ہیں، جب بھی امید کی کوئی کرن نمودار ہوتی ہے، عین اسی لمحے مسٹر ٹرمپ کی طرف سے ایسے اقدامات سامنے آتے ہیں جو مذاکرات کو سبوتاژ کر دیتے ہیں۔ ایک طرف بات چیت کا اعلان، دوسری طرف اچانک جارحانہ کارروائیاں یہ تضاد صرف سیاسی حکمت عملی نہیں بلکہ عالمی امن کے ساتھ کھلواڑ ہے۔دنیا پہلے ہی معاشی دباؤ، تیل کے بحران اور تجارتی بے یقینی کا شکار ہے۔ ایسے میں ایک عالمی طاقت کے سربراہ کا یہ رویہ نہ صرف غیر ذمہ دارانہ ہے بلکہ اخلاقی طور پر بھی قابلِ مذمت ہے۔ کیا ایک لیڈر کا کام آگ بھڑکانا ہے یا اسے بجھانا؟ کیا طاقت کا مطلب انسانیت کو یرغمال بنانا ہے یا اسے تحفظ دینا؟

مسٹر ٹرمپ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ان کے فیصلے صرف امریکہ تک محدود نہیں رہتے۔ ان کے ایک حکم سے تیل کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگتی ہیں، عالمی منڈیاں ہل کر رہ جاتی ہیں، اور کروڑوں انسانوں کی زندگیاں متاثر ہوتی ہیں۔ یہ محض سیاست نہیں یہ انسانوں کے مستقبل کا سوال ہے۔مزید افسوسناک پہلو یہ ہے کہ جب سفارتی حل ممکن ہو، جب ماضی میں مذاکرات کامیاب ہو چکے ہوں، تب جنگی ماحول پیدا کرنا نہ صرف دانشمندی کے خلاف ہے بلکہ بدنیتی کا تاثر بھی دیتا ہے۔ اگر واقعی امن مطلوب ہے تو راستہ مذاکرات ہی سے نکلتا ہے، نہ کہ دھمکیوں اور پابندیوں سے۔لہٰذا یہ ایک واضح اور دوٹوک پیغام ہے:مسٹر ٹرمپ کو چاہیے کہ وہ اپنی پالیسیوں پر فوری نظرثانی کریں، جارحانہ اقدامات سے باز آئیں، اور دنیا کو مزید اضطراب میں مبتلا کرنے کے بجائے امن کے قیام میں اپنا کردار ادا کریں۔ طاقت کا حقیقی امتحان جنگ نہیں بلکہ امن قائم کرنا ہوتا ہے۔اگر انہوں نے اپنی روش نہ بدلی تو تاریخ انہیں ایک ایسے رہنما کے طور پر یاد رکھے گی جس نے اپنی انا کی تسکین کے لیے پوری دنیا کو خوف، بے یقینی اور انتشار میں مبتلا رکھا۔ اور یہ وہ داغ ہے جو کسی بھی سیاسی کامیابی سے کبھی دھل نہیں سکے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں