جسٹس سردار محمد نواز خان کشمیر کی ہمہ جہت شخصیت

112

تحریر:سردار محمد طاہرتبسم
سابق چیف جسٹس ازادکشمیر ہائی کورٹ سردار محمد نواز خان مرحوم کی پانچویں برسی کے موقع پر انکے فرزند سردار بلال نواز خان کی طرف سے دعوت نامہ موصول ہوا تو بہت ساری یادیں دل اور دماغ میں امڈ نے لگی ہیں مرحوم کی وجہ شہرت ایک جرات مند، بہادر اور بے لوث پرخلوص اور تجربہ کار کہنہ مشق وکیل کی حیثیت سے ہوئی وہ جو کیس بھی اپنے ذمہ لیتے تو اس کی ایسی تیاری کرتے کہ ججز بھی انصاف دینے پر مجبور ہو جاتے تھے.

یوں بھی راولاکوٹ میں چند ہی وکلا نے اپنے شعبہ میں علم و تحقیق اور تجربے کی بنیاد پر ماضی میں بڑی شہرت سمیٹی ان میں معروف سردارمحمد نواز خان، سردار خان، راجہ شیر محمد خان قابل ذکر رہے ہیں۔سردار نواز خان ہائی کورٹ کے جج اور پھر چیف جسٹس بنے لیکن ایک سیاستدان بھی ان کے وجدان میں ہمیشہ رہا وہ عوامی و انسانی خدمت کا بے پناہ جذبہ رکھتے تھے غازی ملت بانی صدر ازادکشمیر سردار محمد ابراہیم خان کے قابل اعتماد اور جان نثار ساتھی بھی تھے اور سردار خالد ابراہیم نے انہیں جے کے پی پی کی صدارت کے لئے نامزد کیا اور وہ بھاری اکثریت کے ساتھ صدر منتخب ہوئے۔

بطو وکیل، جج اور سیاستدان ان کا مثالی کردار انتہائی اجلا اور شفاف رہا ہے جس کی وجہ سے معاشرے کے ہر شعبہ زندگی میں ان کا کام اور نام بڑی عزت و تکریم سے لیا جاتا ہے جس پر اہل راولاکوٹ کو ہمیشہ فخر رہے گا۔ سردار نواز خان جیسی ہمہ جہت شخصیات صدیوں میں پیدا ہوتی ہیں۔ جو سوسائٹی میں ایسے انمول نقوش چھوڑ جاتی ہیں جو مثالی اور ناقابل فراموش ہوتے ہیں انہوں نے کشمیر کی آزادی اور نظریہ الحاق پاکستان کے لئے ہمیشہ جدوجہد کی اور اس مشن کو اپنی زندگی میں شامل رکھا۔

وہ میرے پڑوسی اور اچھے دوست تھے ان کی محفل میں بیٹھنے سے ہمیشہ بہت سارے اصول اور ضوابط سیکھنے کو ملے جو میری زندگی کا قیمتی اثاثہ اور سرمایہ ہیں۔ ان کے فرزندگان سردار بلال نواز خان، بیرسٹر ہمایوں نوازخان، بیرسٹر عدنان نوازخان اور خالہ زاد بھائی سردار جاوید شریف ایڈووکیٹ چیئرمین ڈسٹرکٹ کونسل پونچھ اپنے اپنے شعبہ میں بے حد مقبول و معزز ہیں۔ اللہ کریم چیف جسٹس سردار نواز خان کو اپنے جواررحمت میں جگہ دے اور ان کے خاندان کو مزید کامیابیاں اور خوشیاں نصیب فرمائے آمین۔

ا ن کی برسی کا اہتمام انتیس اپریل کو ہر سال پورے اہتمام کے ساتھ ان کی رہائش گاہ واقع پوٹھی مکوالاں راولاکوٹ میں ہوتی ہے جو ایک مثالی اجتماع ہوتا ہے جس میں تمام مکاتب فکر کی نمایاں شخصیات ان کی خدمات اور کردار پر انہیں خراج عقیدت پیش کرتی ہیں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں