عنوان استاد کی حرمت اور ریاستی حکومت

62

تحریر: سید مستنصر خورشید
شروع اللّٰہ کے نام سے جس نے لکھنے کی طاقت دی لکھوں کڑوروں درود و سلام محسن کائنات آقا دو جہاں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر .میں اس عظیم ہستی کا شکر گزار ہوں جس نے مجھے یہ بتایا “ا” سے اللّٰہ جن مجھے سکھایا”ا” سے سے استاد بنتا ہے۔ جس نے مجھے پہچان دی جس نے مجھے انسانیت کا درس دیا۔ میں صرف اپنی بات نہیں کر رہا بلکہ زمین پر بسنے والے ہر انسان کی بات کر رہا ہوں۔ ہر انسان کا کوئی نہ کوئی معلم ہوتا ہے۔ اس وجہ سے لفظ استاد کی حرمت بہت بڑی ہے۔
اگر اس عظیم الشان پیشے سے جوڑے لوگوں کے متعلق قلم نہ استعمال کروں میں اپنے آپکو مجرم کی طرح دیکھوں گا کیوں مجھے جن لوگوں نے یہ طاقت بخشی ان کے اوپر کوئی ظلم ہو تو اس قلم کا کیا فایدہ جن لوگوں نے ان کو استعمال کرنا سکھایا ان کے متعلق استعمال نہ کر سکوں۔ بہت سے استادوں کی محنت کا نتیجہ ہے جس کی بدولت دنیا میں میرے جیسے لوگوں کو تیار کیا۔ استاد ایک ایسی ہستی ہے جو ایک جگہ رکا رہتا ہے لیکن اس کا لگایا گیا پودا اتنا مضبوط درخت بن جاتا ہے وہ اپنے اساتذہ پر حکمرانی بھی کرتا ہے۔

لفظ حکمرانی سے بات کا آغاز کروں تو قارئین اکرام آپ بخوبی واقف ہوں گے گزشتہ ایک ماہ سے آزاد کشمیر کے اساتذہ کچھ مطالبات لے کر حکمرانوں سے اپنا حق لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس بات کا فیصلہ ہم نہیں کرتے ان کے مطالبات جائز ہیں یہ نہیں کیونکہ یہ ایک الگ بحث ہے لیکن جو ان کے ساتھ ظلم و جبر ہوا اس پر لازمی بات کروں گا۔ کیوں کہ ایک طالب علم کی حیثیت سے میں یہ ظلم اپنے محسنوں کے ساتھ برداشت نہیں کر سکتا۔ مجھے یہ کام یزید کے دور سے منسلک ہوتے نظر آ رہا ہے۔ گو کہ یزید کے سامنے حق اور سچ کے علمبردار آقا دو جہاں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا خوبصورت گھرانہ تھا۔ لیکن کام یزید کے بھی یہی تھے جس کے بعد دنیا آج تک یزید کو لعنتی کے طور پر یاد کر رہی ہے اس نے بھی اپنے محسنین کو ہاتھ ڈالنے کی ناکام کوشش کی تھی۔ جس کی بدولت آج بھی کوئی کھول کر یزید کے حق میں نہیں بول سکتا بیشک ان کا ایک عظیم مقصد تھا۔ ان نے استادوں کے استاد کی استادی کی جنگ لڑی تھی یہ ہمارے معلمین اکرام کی ذاتی جنگ ہے لیکن کام یزید نے بھی استاد کی بے حرمتی سے شروع کیا تھا۔ کہنے کا مقصد یہ ہے محسنوں کے خلاف جانے والے کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے.

کل سے جس طرح پورے آزاد کشمیر میں اساتذہ قائدین کی گرفتاری عمل میں لائی جا رہی ہیں یہ انتہائی تشویشناک صورتحال ہے۔ لوگ پہلے سےاضطراب کا شکار ہیں اس حکومت کے بارے میں عوام کی پہلے سے کوئی بہتر رائے نہیں تھی لیکن اس طرح کے ہتھکنڈے استعمال کر کے اپنے آپکو مزید خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دوسرا اس طرح کی تحریکوں کو انتظامی مذمت مضبوط اور منظم کرتی ہے۔ استاتذہ اکرام مزید مضبوط ہوں گے۔ خیر جیتنی مذمت کی جائے کم ہے میں اپنے قلم کو اس لیے کبھی نہیں استعمال کر سکتا ہوں کے استاد حق پر نہیں ہیں کیونکہ ان کے صدقے سے میں قلم استعمال کرنے جیسے ہتھیار سے واقف ہوا ہوں۔ اور میرے نزدیک ریاست کے تمام ملازمین کو برابر حقوق دینے چاہیے لیکن استاد کا معیار اور مقام دیگر شعبوں میں کام کرنے والوں سے بلند ہونا چاہیے۔

اگر بات حقوق اور اختیار کی جائے تو استاد جن لوگوں کو اس مقام پر لے جاتے ہیں جو استاد پر حکمرانی کرتے ہیں اور ایک الگ زندگی انجوائے کرتے ہیں لیکن استاد کے اختیار کی بات کروں تو ایک سادہ زندگی میں پوری عمر گزار دیتے ہیں۔ پوری زندگی کی کمائی ان کے پاس صرف عزت ہوتی ہے ریاستی مذمت ان کی عزتوں کو پامال کر رہی ہے اگر آپ ان کے وقار میں اضافہ نہیں کر سکتے تو کم از کم ان کے وقار کو ٹھیس تو نہ پہنچائیں۔ یہ عظیم الشان لوگ ہیں اور عظیم الشان پیشے سے وابستہ ہیں ان کے مطالبات کو سنجیدہ لیا جائے جو وعدے ان کے ساتھ کیے ہیں ان کو پورا کریں یہ لوگ بدمعاش نہیں ہیں جس طرح کے کام آپ کر رہے ہیں اس طرح کے کام محسنوں کے ساتھ نہیں کیے جاتے محسن کش قوم ترقی نہیں کر سکتی اور ہمارے ملک کی بدحالی کا سبب بھی یہی ہے ہم نے اپنے محسنین کی عزت نہیں کی ہم ان کو وہ مقام نہیں دیا جس کی وہ حقدار تھے۔ اساتذہ اکرام سے بھی یہی گزارش ہے اپنے آپکو اس گند سے جلدازجلد پاک کریں آپ کے لگائے ہوئے چراغ اس ریاست میں آپ کے لیے دعاگو ہیں اللّٰہ پاک ہماری ریاست کی خیر فرمائے آمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں