تلخ حقیقت /ماہرین کی کاریگری

54

تحریر:سید افراز گردیزی
عید یا کسی تہوار کی چھٹیاں ہوں تو تھانیدار یہ خبر چلواتے ہیں کہ قیمتی سامان خالی گھروں میں مت رکھیں اور ایمرجنسی کے لیے رابطہ نمبر کسی پڑوسی کو ضرور دیں اس سے مراد یہ نہیں ہوتی کہ پولیس اپنا کام چھوڑ رہی ہے بلکہ وہ عوامی سطح پر احساس ذمہ داری اور شعور کے لیے ایسا کرتے ہیں. مون سون کے سیزن میں غیر معمولی بارشوں کی وجہ سے زیریں علاقوں میں رہنے والے شدید پریشانی کا شکار رہتے ہیں اور یہ سلسلہ عرصہ دراز سے جاری ہے. مربوط میکانزم نہ ہونے کی وجہ سے ہونے والے نقصانات کا ازالہ بھی نہیں ہو پاتا اور متاثرین ایک عرصے تک کڑی آزمائش سے گزرتے ہیں.

باغ میں تعمیر نو کے مرحلے میں 55کلومیٹر کا سیوریج اورریوور ٹریینگ کے منصوبے زیر غور آئے لیکن بوجہ کسی پر بھی کام نہیں ہو سکا. چند کلو میٹر کے بننے والے سیوریج میں نو انچ قطر کا پائپ جب ڈالا جانے لگا تو تب کے سٹی ڈویلپمنٹ کے ذمہ داران کے سامنے یہ سوال اٹھائے گئے لیکن یہ کہہ کر مٹی ڈال دی گئی کہ ماہرین سے رائے لے لی گئی ہے. وہ ماہرین کون تھے اور رائے کس قیمت پر دی آج تک کسی کو معلوم نہیں.

ماہرین کی مہارت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ سترہ سال بعد پانی کی نکاسی درست کرنے کے لیے جب حیدری چوک میں سڑک اکھاڑی گئی تو شٹرنگ اسی طرح موجود تھی تب کے کام کی نگرانی اداروں سے لیکر سیاسی قیادت تک سب کر رہے تھے اور یہ کام رات کے اندھیروں میں نہیں دن کے اجالے میں اور ہزاروں آنکھوں کے سامنے ہوا.
پانی کی قدرتی راستوں کو سکیڑ کر رکھ دیا گیا. وقتی سہولت کے لیے بغیر کسی منصوبہ بندی کے, کسیوں, کو تنگ کر کے سڑکیں اور کمرشل تعمیرات ہوئیں اور یہ سب بھی یقیناً کسی کی اجازت, ایما اور مرضی سے ہی ہوا ہو گا.

ماہرین کی پیشہ وارانہ مہارت کا عالم یہ ہے کہ ان, کسیوں, کو ذاتی مفاد کے لیے استعمال کرنے والوں نے یہ خیال تک نہیں کیا کہ طغیانی کے دنوں میں جہاں جانور گر جایا کرتے تھے کیا ان راستوں کو کنکریٹ سے مسددود کر کے ہم مستقبل کے لیے نسلوں کے لیے کیسا عذاب کھڑا کرنے جا رہے ہیں. ان کی صفائی کے لیے جگہ تک نہیں چھوڑی گئی جہاں مشینری کام کر سکے. بے ہنگم تعمیرات اور قدرتی راستوں کی بندش کے مضمرات ہر آنے والے دن بڑھتے جا رہے ہیں.

وزیراعظم آزاد کشمیر نے اسی صورتحال کو بھانپتے ہوئے دارلحکومت میں ایسی تجاوزات کے خلاف بلا تخصیص آپریشن کے احکامات دیے ہیں لیکن اس کے ساتھ ان اداروں اور ذمہ داران کو بھی گرفت میں لانے کی ضرورت ہے جو اس میں ملوث ہیں. نالوں, کسیوں اور بند سیوریج کے چینلز کی بحالی شہری حکومتوں کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے کیونکہ اگر باغ کی بات کی جائے تو سیوریج نیٹ ورک کا نقشہ تک دستیاب نہیں ہے جس سے مدد لے کر عارضی طور پر ہی سہی اس نظام فعال اور بحال کیا جا سکے.

شہری آبادی کو اس عذاب سے بچانے کے لیے ان ذمہ دار اداروں اور اشخاص کا تعین ضروری ہے جو غفلت کے مرتکب ہوئے. منتخب عوامی نمائندوں کی کوشش سے مسائل نہ صرف اجاگر ہو رہے بلکہ ان کے حل کے لیے دستیاب وسائل میں سنجیدہ کاوشیں بھی ہو رہی ہیں. ہر وہ شخص اور آبادی خبردار بھی رہے جو زیادہ متاثر ہو سکتی ہے. سب سے ایم بات یہ ہے کہ ماضی کے ان, ماہرین, اور اداروں کا تعین ضرور کریں جو اس ساری, کاریگری, کا حصہ بنے اور آج لوگوں کو, عذاب, میں مبتلا کر رکھا ہے. ہم ترقیاتی کام نہ بھی کرتے پانی کی قدرتی گزر گاہوں کے راستے مسدود ہی نہ کرتے تو یہ حالات ہی پیدا نہ ہوتے. اب پولیس کی طرح یہ رائے تو نہیں دی جا سکتی کہ اپنے گھر منتقل کریں ہاں یہ ہم سب مل کر کر سکتے ہیں کہ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوں اور مون سون کے اس موسم میں منظم ہو کر ہر اس شخص یا علاقے کے ساتھ کھڑے رہیں جو, کسی, ماہر, کی, کاریگری, کا شکار ہوا.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں