سوہاوہ سے سلاؤ تک

106

خامہ صبح،اُسامہ امتیاز عباسی
اِس دُنیا میں آئے ہوئے چوبیس سال ہوگئے ہیں، لیکن جب سے مجھے شعوری آنکھ سے دیکھنے کا اتفاق ہوا پاکستان اور آزادکشمیر میں سیاسی درجہ حرارت میں ہمیشہ ماضی کی نسبت “حال” میں اضافہ ہی دیکھنے میں آیا۔ اِس دوران بہت سے سیاستدانوں کا اُتار چڑاؤ دیکھا، بہت سے سیاستدان طلوع ہوتے دیکھائی دئیے اور بہت سے سیاست میں غروب ہوتے دیکھائی دئیے۔ آزادکشمیر میں سیاست کا تمام زاویہ برادری کے گرد گھومتا ہے۔ آپ کے متعلقہ حلقے یا علاقے میں آپکی برادری کی کیا صورتحال ہے، بڑی برادری سیاست میں اکثر بڑا کام کرجاتی ہے۔ بڑی سے مراد “ہجوم” میں بڑی نہ کہ اخلاق اور کردار میں ہمارا معاشرہ ویسے بھی ہجوم کو ترجیح دیتا ہے۔ اگر کوئی برادری کے حساب سے کمزور ہے اور معاشی لحاظ سے بہتر ہے۔ وہ پھر بھی بازی لے جاتا ہے۔ اگر ہم اِس کے برعکس یورپ کے سیاسی نظام یا یورپین سیاست کا مطالعہ کریں وہاں برادرزم طرز کی سیاست کی گنجائش نہیں اور نہ ہی وہاں کے لوگ اِس طرزسیاست کو پسند کرتے ہیں۔ وہ ممالک(یورپین) معاشرے کے کسی بھی شعبے میں ہمیشہ باصلاحیت لوگوں کو جگہ دیتے ہیں اور اُنھیں آگے لاتے ہیں، شاہد یہی اُنکی کامیابی کا راز ہے۔

اِن باصلاحیت اور قابل لوگوں کی ایک داستان آزادکشمیر کی تحصیل دھیرکوٹ کے نواحی گاؤں “سوہاوہ شریف” سے سامنے آئی۔ جہاں سے ایک نوجوان “امجد عباسی” اپنے معاشی مسائل کو دور کرنے اور ایک اچھے مستقبل کیلئے یہاں سے ہجرت کرکے برطانیہ چلاگیا۔ یہ نوجوان بے پناہ خوبیوں کا مالک اور باصلاحیت اور محنتی شخص ہے۔ اِس نوجوان نے زندگی میں ہار نہ ماننے کا فیصلہ کیا، اپنے بل بوتے پر وہ مقام حاصل کیا جو شاہد ہی کسی کے حصے میں آتا ہے۔ سردار امجد عباسی نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گاؤں سوہاوہ شریف کے ایک تعلیمی ادارے سے حاصل کی، بعدازں وہ اپنے والد صاحب کے ساتھ کراچی چلے گئے۔ جہاں اُن کے والد روزگار کے سلسلے میں مقیم تھے۔ اِن کے والد نے انکی تعلیم کا سلسلہ وہاں کراچی میں ہی اپنی زیر سرپرستی جاری رکھا۔ اور اُنھیں وہاں اچھے تعلیمی ادارے میں داخل کروادیا۔ سردار امجد عباسی کراچی سے اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد 2007 میں کراچی سے برطانیہ چلے گئے۔ اِس تمام سفری انتظام کے سلسلے میں اُنھیں کئی معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بالآخر تمام مصائب کا سامنا کرنے کے بعد برطانیہ پہنچے۔ امجد عباسی بتاتے ہیں کہ “میں جب برطانیہ کےہتھرو ائرپورٹ پر اُترا تو میرے لئے رہنے کو کوئی جگہ نہیں تھی۔ اور نہ ہی کسی سے کوئی شناسائی تھی تاہم ایک دوست سے رابطہ ممکن ہوا اور وقتی اُس کہ ہاں چلا گیا۔”

آج سے سولہ سال قبل برطانیہ میں قدم رکھنے والا امجد عباسی آج برطانیہ کے ایک ٹاؤن “سلاؤ” کا مئیر بن چُکا ہے۔ سردار امجد عباسی نے “سلاؤ کونسل” کے الیکشن میں حصہ لیا۔ یہ لیبرل ڈیموکریٹ پارٹی(لِب ڈِم) کی طرف سے سلاؤ کی وارڈ “ایلیمن” سے کونسلر کے اُمیدوار تھے۔ انھوں نے پہلی بار الیکشن میں حصہ لیا اور پہلی بار ہی کونسلر منتخب ہوگئے۔ اِن انتخابات کے بعد دیگر اہم عہدوں کا مراحلہ شروع ہوئے۔ اِس بار بھی قسمت انہی پر مہربان ہوئی اور ایک دوسری سیاسی جماعت سے اتحاد کی صورت میں یہ سلاؤ کے مئیر منتخب ہوگئے۔ آج تک برطانیہ کی تاریخ میں یہ اعزاز کسی اُور کے حصے میں نہیں آیا کہ کوئی پہلی بار کونسلر کیلئے لڑے اور پہلی بار جیت جائے اور پھر پہلی بار ہی متعلقہ علاقے،شہر یا ٹاؤن کا مئیر منتخب ہوجائے۔ امجد عباسی جس وارڈ یعنی “ایلیمن” سے لیبرل ڈیموکریٹ کے اُمیدوار تھے۔ ایک سروے کے مطابق اِس وارڈ کی آبادی 10,498 افراد پر مشتمل ہے۔ جس میں 5,262 مرد اور 5,246 خواتین شامل ہیں، اور یہاں تقریباٙٙ چار ہزار سے زاہد مسلمان آباد ہیں۔ اِس وارڈ سے کامیابی کے بعد “سلاؤ” ٹاؤن کے مئیر منتخب ہوئے۔ سلاؤ کی آبادی 2020 کے ایک سروے کے مطابق 1,64,793 افراد پر مشتمل ہے۔ اور 2021 کے سروے کے مطابق یہاں پاکستانی کمیونٹی کی تعداد تقریباٙٙ 14,400 جو سلاؤ کی آبادی کا نو فیصد بنتی ہے۔

“سوہاوہ سے سلاؤ تک” امجد عباسی کا یہ سفر اپنے اندر کئی داستان چھوڑے ہوئے ہے۔ انسان جب اپنا تعلیمی کیریئر مکمل کرتا یے تو اُس کیلئے سب بڑا چیلنج اپنے آپ کو معاشی مستحکم کرنا ہوتا ہے۔ جو کہ موجودہ دور کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ امجد عباسی برطانیہ جیسے مصروف شہر میں جاکر اپنے آپ کو معاشی مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ سیاسی و سماجی سرگرمیوں کیلئے وقت نکالتے رہے۔ انھوں نے اپنی سوسائٹی اور اردگرد رہنے والے لوگوں کے ساتھ ملنے ملانے کا سلسلہ جاری رکھا۔ جس کا صِلہ انھیں اِس صورت میں ملا کہ آج وہ سلاؤ ٹاؤن کے “مئیر” ہیں۔

سردار امجد عباسی نے “سلاؤ” ٹاؤن کا مئیر منتخب ہونے کے بعد جب پہلی بار اپنے گاؤں کا رُخ کیا تو سوہاوہ کی مقامی کمیونٹی اِن کے استقبال کیلئے اسلام آباد ائرپورٹ پر پہنچی وہاں سے اِنھیں ایک قافلہ کی صورت میں لایا گیا۔ آزادکشمیر کے انٹری پوئنٹ کوہالہ میں چڑالہ کے لوگوں نے اِنکا استقبال کیا۔ اور ایک بڑے قافلے کی صورت میں آبائی گاؤں “سوہاوہ شریف” لایا گیا۔ اِنھیں اپنے گاؤں پہنچنے ہر گاؤں کے بچے، نوجوان، بزرگ اور خواتین سب نے اِن کی حوصلہ افزائی کی اِن کی رہائش گاہ پہنچے۔ اِن کے گاؤں کے معززین نے انکے لئے ایک بڑی استقبالیہ تقریب کا انقعاد کیا جہاں ہر شعبے سے وابستہ لوگوں، اور تمام سیاسی جماعتوں کی نمائندگی موجود تھی۔ اِس استقبالیہ تقریب میں خصوصی طور پر سابق وزیراعظم آزادکشمیر سردار عتیق احمد خان نے شرکت کی، اور ضلع باغ کے اِس نوجوان “امجد عباسی” کی خوب حوصلہ افزائی کی۔

امجد عباسی کی یہ کامیابی اللّٰہ پاک کی کرم نوازی، اِن کی محنت جدوجہد، لگن اور والدین کی دعاؤں کا نتیجہ ہے۔ جس کا وہ خود عموماً اپنی تقاریر میں بھی ذکر کرتے ہیں۔ امجد عباسی یہاں سے برطانیہ روزگار کے سلسلہ میں گئے لیکن سیاست سے جو اِنکا لگاؤ، دلچسپی اور معاشرے میں کچھ کرنے کا جو جذبہ تھا وہ کبھی مانند نہیں پڑا۔ جس کی بدولت آج وہ اِس مقام پر پہنچے ہیں۔ یہ مقام اِنھیں سیاسی پلیٹ فارم نے ہی عطا کیا ہے۔ اور کسی سیاسی کارکن یا ورکر کیلئے یہ بڑی اعزاز کی بات ہے۔ بلکل ایسی طرح امجد عباسی کیلئے بھی یہ بڑا اعزاز ہے جس نے سیاسی سفر کی ابتدا کارکن کی صورت میں کی اور آج وہ “سوہاوہ” سے “سلاؤ” تک جاپہنچا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں