مظفرآباد (عبدالواجدخان )سابق چیرمین احتساب بیورو سردار نعیم شیراز اپنے عہدے سے فراغت کے باوجود تمام تر سرکاری مراعات استعمال کرنے لگے۔ جاتے جاتے ایکٹ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے چئیرمین کا چارج ڈائریکٹر لیگل میڈم پروین کے سپرد کردیا، قانونی ماہرین نے اسے خلاف آئین وقانون قرار دیدیا ، نعیم شیراز چیرمین احتساب بیورو جو کہ عرصہ تین سال بعد اپنی مدت ملازمت 18 اگست کو پوری کرنے کے بعد فارغ ھو چکے تھے تاحال تمام سابقہ سرکاری مراعات کا بے دریغ استعمال جاری رکھے ھوئے ھیں۔
احتساب کے نام پر قائم اس ادارہ کی ساکھ پہلے ہی بہت متاثر ہے جس کی کارکردگی مایوس کن ہے ، دوسروں کا احتساب کرنے کے لئے تعینات سابق چیئرمین کے زیر استعمال سرکاری گاڑی اس وقت تک ان کے استعمال میں ھے ایکٹ کے مطابق فراغت کے روز ہی دفتری اوقات ختم ہونے پر گاڑی جمع کروانا اور اس سے قبل ہی سرکاری رہائش چھوڑنا لازمی ہے مگر سرکاری رھائش گاہ ان کے بیٹے کے زیر استعمال ھے جہاں پر چیئرمین احتساب بیورو کے بیٹے سمیت چند غیر متعلقہ نوجوانوں نے اس سرکاری رھائش گاہ کو اپنی عیاشیوں کا اڈا بنایا ھوا ھے.
جن کی خدمت کے لیے ایک سرکاری باورچی اور ایک نائب قاصد بھی اپنی خدمات دے رھے ھیں چیرمین کے عرصہ قیام کے دوران بھی نئی گاڑی مکمل طور پر چیرمین کے بیٹے کے زیرِ استعمال رھی ھے چئیرمین نے خلاف استحقاق گاڑی،بنگلہ ،ماتحت ملازمین، ڈیزل و مراعات جاری رکھنے کی خاطر بیورو کی خاتون آفیسر کو چارج دلوایا ہے، بطور سیکرٹری حکومت نعیم شیراز دیانت داری کی وجہ سے مشہور تھے مگر چیرمین احتساب بیورو بننے کے بعد انکی دیانت داری پر سوالات کھڑے ہوئے جس طرح کے خلاف قانون کام انھوں نے اپنے دور میں کئے اور جس طرح وسائل کا بے دریغ استعمال جاری رکھا اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی ۔ سرکاری وسائل کے بے دریغ استعمال پر عوامی حلقوں میں تشویش پائی جارہی ہے ۔ عوامی حلقوں نے صدر ریاست ، وزیر اعظم آزادکشمیر اور چیف سیکریٹری سے فوری طور پر نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ھے۔