مظفرآباد(نامہ نگار) انوار حکومت کا اخباری صنعت پر بھی حملہ ،اخبار کی انڈسٹری سے منسلک ہاکرز اور نیوز ایجنٹس کے روزگار پر ایک اور وار کر دیا، وزیر خزانہ کی انوکھی منطق، وزراء کو ملنے والا درینہ اخباری بجٹ مزید کم کر دیا، اخبارات کے لیے ماہانہ 30 ہزار کی جگہ بجٹ میں چار ہزار کی کٹوتی کر دی گئی،
قبل ازیں انوار حکومت نے ریاست کے درجن بھر اخبارات پر کئی ماہ پہلے سے پابندی عائد کرتے ہوئے ان کو اشتہارات جاری کرنے پر پابندی عائد کر رکھی ہے. میڈیا رپورٹ کے مطابق وزیر خزانہ کرنل ریٹائرڈ وقار نور نے وزرا کو ملنے والے اخباری بجٹ جو گزشتہ تقریبا” 20 سال سے 30 ہزار روپے تھا کو اچانک ختم کرتے ہوئے 26 ہزار کر دیا ہے، 20 سال قبل اخبارات کی قیمت پانچ روپے تھی اور آج اخبار کی قیمت 20 سے 30 روپے ہے، وزرا کے اخباری بجٹ میں اضافہ کے بجائے کمی اور وہ بھی ایسے وقت میں جب مہنگائی عروج پر ہے اخباری صنعت کو تباہ کرنے کے مترادف ہے،
وزرا کو دی جانے والی اخبارات کے فنڈز میں اضافہ کے بجائے کٹوتی کرنا اخباری صنعت کے ساتھ دشمنی کے مترادف ہے، وزیر خزانہ نے اسی طرح دیگر مدعات میں بھی بلا جواز کٹوتیاں کرتے ہوئے اپنے کارکردگی حکومت کے سامنے عیاں کرنے کی کوشش کی ہے جس پر اخباری صنعت سمیت دیگر اخبارات سے وابستہ لوگوں نے سر جوڑ لیے ہیں جلد اپنے آئندہ کے لاٸحمہ عمل کا اعلان کیا جائے گا، نیوز ایجنسیز کی جانب سے وزراء کو بجھوائے گئے بلات میں بھی یک مشت کٹوتی کے علاوہ بلات پر اعتراضات لگاتے ہوئے بلات کو منظور کرنے سے بھی یکسر انکاری ہیں.