شاہ غلام قادر کا راستہ روکنے کے اسباب

66

تحریر راجہ عبد الرؤف خان
چند روز قبل ڈسٹرکٹ کونسل مسلم لیگ کی قیادت میں صدر مسلم لیگ آزاد کشمیر جناب شاہ غلام قادر صاحب کا نیلہ بٹ جاتے ہوئے راستہ روکا گیا اور ان کیساتھ انتہائی بدتمیزی کا مظاھرہ گیا گیا یوں تلخ انداز میں روڈ کے اوپر مسلم لیگ کی قیادت کیساتھ گفتگو کرنا نہ تو سیاسی روایات کا حصہ رہا ہےاور نہ ہیعلاقائی روایات کو مدنظر رکھا گیا جسکی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں ان حرکات سے ایک تو مسلم لیگ میں نئے شامل ہونے والوں کا راستہ رک گیا بلکہ مسلم لیگ میں موجود لوگوں کو بھی مجبور کیا گیا کہ وہ دوسری جماعتوں کا رخ کریں . سیاست بڑی اعتدال پسندی کا نام ہےجو اخلاقیات اور میانہ روی کا درس دیتی ہےشدت کے رویوں نے پی ٹی آئی کو کہاں پہنچا دیا یہ ساری دنیا نے کھلی آنکھوں سے دیکھا .

شاہ صاحب کے نیلہ بٹ آمد پر مسلم لیگ کے سارے سیاسی کارکن نے مذمت کی اورہم۔ نے بھی مذمت کی لیکن یوں چوک چوراھوں پر قیادت کی تذلیل کس کی ایماء پر ھوئی اور کس لیے ہوئ اس کی اصل تفصیل عوام کا جاننا ضروری ھے اگر مقصود جماعت کا مضبوط کرنے کا تھا تو اس کیلئے جماعت کا فورم موجودہے ان ھاؤس یہ ساری کوششیں کی جاسکتی تھیں یوں عوام کو مسلم لیگ کی قیادت کے خلاف بھڑکانے کے کچھ مقاصد تھے جن کی نشاندھی آگے چل کر اپنی تحریر میں کرونگا 2016 کے الیکشن میں جب راجہ فاروق حیدر صاحب 2011 کی طرح مسلم لیگ کا ٹکٹ روک کر میجر لطیف صاحب کو جاری کروانا چاھتے تھے تاکہ سردار عتیق صاحب کو فری سپیس دیا جائے جس پر مسلم لیگ کے تمام کارکنوں نے شدید ری ایکشن دیا اور وفود نے کرمانی صاحب کو اپروچ کیا جس کے نتیجے میں مسلم لیگ کا ٹکٹ راجہ افتخار ایوب کو الیکشن سے کچھ دن پہلے جاری ھوگیا.

جس کا تمام کارکنوں کو بخوبی علم ھے اس پر مرکزی اور ازاد کشمیر کی قیادت نے کیا کیا یہ ایک لمبی درد بھری داستان ہےجس کو پھر کسی ٹائم تفصیل سے آپ کے سامنے رکھوں گا الیکشن میں افتخار ایوب صاحب نے سولہ ھزار کا مینڈیٹ لیا ھونا تو یہ چائیےتھا کہ مسلم لیگ کی گورنمنٹ بننے کے بعد ٹکٹ ھولڈر کے مینڈیٹ کو تسلیم کرتے ہوئے جملہ کام کاج کی زمہ داری ان پر ڈال کر تمام سیاسی کارکن انکی قیادت پر آگے بڑھتے اور لوگوں کے کام کاج کراتےلیکن چند ماہ بعد ہیایک گروپ کھڑا کردیا گیا جس میں موصوف بھی شامل ھوگئے اور افتخار صاحب کیخلاف اس وقت کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر صاحب کے وفد کیصورت میں شکایات کا انبار لگا دیا جس پر کچھ مخلص کارکنوں نے اس گروپ کو بارہا سمجھایا کہ خدارا میڈیٹ کو تسلیم کرو اور لوگوں کے کام کاج ہونے دو لیکن یہ گروپ اوچھی حرکات سے باز نہ ایا .

نتیجتاً وزیراعظم صاحب کے پاس راجہ افتخار ایوب صاحب کی قیادت میں جو وفد بھی منصوبہ جات کے حوالہ سے جاتا اسکو ڈانٹ کر واپس بھیج دیا جاتا کہ پہلے أپس میں اتفاق پیدا کرو پھر میرے پاس آؤ یہ اختلافات کا یہ سلسلہ پانچ سال چلتا رھا اس دورانیہ میں وزیراعظم انفراسٹرکچر پروگرام کی سکیمز تو سارے حلقوں کی طرح غربی باغ میں بھی آئیں لیکن کوئی بھی میگا پروجیکٹ گروپنگ کی وجہ سے مسلم لیگ نغربی باغ میں لانے میں کامیاب نہ ھوسکی جس کی وجہ سے عوام کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا جس کا زمہ دار یہی گروپ ہےبات یہاں پر ہی نہیں رکی بلکہ جب تنظیم سازی دوبارہ ھوئی تو اس کیلئے کارکنوں کی خواہش تھی کہ راجہ اشراف صاحب جو گذشتہ بارہ سال سے جماعت کی مضبوطی میں بہت بڑا کردار ادا کررہے ہیںاور اس جماعت کیلئے لاکھوں روپے اپنی جیب سے خرچ کر چکے ہیں لہذا ان کی پرفارمنس کو دیکھتے ھوئے اور مستقبل میں جماعت کی مذید مضبوطی کیلئے ان کو صدر بنایا جائے لیکن چھ ماہ تک اسی گروپ نے رگڑا لگائے رکھا اب جبکہ تحصیل بھر کے عہدیداران کی رائے سے راجہ اشراف کو صدر بنا دیا تو انھوں نے منور پلازہ میں ایک دفتر مسلم لیگ کا کھول لیا اور پیرلل باڈی بنانے کیلئے کوششیں کی لیکن اس میں بری طرح ناکام ہوئے .

اب اتے ہیں اس اصل کہانی کی طرف جس پر شاہ صاحب کی تذلیل کی گئی وہ ھیڈن ایجنڈا کیا ھےایک بات عرض کرتا چلوں کہ احتجاج ھر سیاسی کارکن کا حق ھے لیکن اگر جماعتی کی مضبوطی کیلئے کیا جائے تولیکن جس طریقے سے یہ عمل کیا گیا اس میں جماعت کی مضبوطی کے بجائے ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہےاگر موصوف یا ان کا گروپ جماعت کو مضبوط ہیکرنا چاھتے تھے تو انھوں نے اس حوالہ سے کتنی بار گروپوں کو جوڑنے کی بات کی تو جواب نفی میں آئیگا بلکہ اگر حقائق دیکھا جائے تو موصوف بھی مذید گروپنگ کا باعٹ بنے اور اگر غازی اباد سے تعلق پر احتجاج تھا تو راجہ فاروق حیدر صاحب اپنے دور حکومت میں کتنی بار غازی اباد مزار پر گئے ،مجاھد منزل گئے اور ہرسال نیلہ بٹ جاتے رہےبلکہ اعلانیہ باغ کنونشن عتیق صاحب کیساتھ اتحاد کی ضروری قرار دیا تھا کئی بار ایسا بھی ہوا کہ فاروق حیدر صاحب دھیرکوٹ تشریف لائے اور کسی کارکن یا لیڈر کو اطلاع تک نہیں دی گئی بلکہ یہ واقعات بھی ہوئے ان کیلئے چائے اور روٹی کا بندوبست کیا گیا کارکن انتظار میں رہے اور راجہ صاحب کوھالہ کراس کرگئے.

ان کے دور اقتدار میں دھیرکوٹ کے کارکنوں کیلئے پی ایم ھاؤس کے دروازے بالکل بند تھے اور اگر کوئی زاتی تعلق استعمال کرتے ہوئے دو تین کی تذلیل کے بعد مل بھی لیتا تو اس کیساتھ جو رویہ اختیار کرتے وہ یہاں لکھنے کے قابل نہیں ہے اس کا علم سارے کارکنوں کو بخوبی ھے اور یہ سارے معاملات فاروق حیدر صاحب عتیق صاحب کی محبت میں کرتے تھے اور عتیق صاحب کے سارے مطالبات پر من و عن عمل ھوتا لیکن یہ گروپ اور موصوف اس ساری صورتحال میں ایک بار بھی احتجاج نہ کرسکا .بلکہ اصل کہانی اور ھیڈن ایجنڈا یہ ہے کہ گذشتہ دنوں موصوف نے ساجد عباسی کا ھنس چوکی میں پروگرام کروایا جس میں اس نے ساجد عباسی کے الیکشن لڑنے کی صورت میں حمائت کا اعلان کیا جسکی ویڈیو موجود ہےحالانکہ ساجد عباسی کسی بھی جماعت سے الیکشن لڑ سکتا ھے اور ازاد امیدوار بھی اسکتا ہے اور پھر رنگلہ کے پروگرام میں کیسے ساجد عباسی کی گاڑی سے پلمبتے ھوئے جارھا ہےجس سے مسلم لیگ کے عہدے اور ڈسٹرکٹ کونسل کے مینڈیٹ کی توہین ہوئی ہے.

ھمیں ساجد عباسی سے اختلاف نہیں الیکشن اس کا حق ہےویلفیئر کے کاموں پر اس کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں لیکن جماعتی عہدوں کے ھوتے ہوئےپارٹی ڈسپلن کی توہین ناقابل برداشت ہےاگر موصوف کو ساجد عباسی کیساتھ اتنا لگاؤ ھے تو جماعتی مینڈیٹ اور عہدے چھوڑ کر اس کے ساتھ شامل ھوجاؤ اپکو کون روک سکتا ہےاور کل کا عمل بھی اسی وجہ سے کیا کہ لوگوں کو مسلم لیگ سے متنفر کرکے جہالہ پہنچایا جائے
لہذا اس ساری صورتحال میں مسلم لیگ کے کارکن قیادت سے یہ اپیل کرتے ہیں کہ ایسے کرداروں کیخلاف جماعت سختی سے ایکشن لے اور موصوف کو ڈسٹرکٹ کے عہدے سے ڈی سیٹ کیا جائے ایسے دو رنگی کھیلنے والے عوام میں جلد بے نقاب ھونگے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں