راولاکوٹ کی جدت،ذہانت اور پہاڑی زبان

90

تحریر:محمد سعیدالرحمان خان
کالم نگار کالم کو کالم لکھنے کے بعد اکثر یاد آتا ہے ۔کہ یہ بعد رہ گئ تھی۔علم میں ترویج وقت کے ساتھ ساتھ جاری رہتی ہے ۔میں نے پہلی دفعہ یہ کالم لکھا۔لیکن بعد میں نے محسوس کیا۔کہ اس میں ان چیزوں کا اضافہ ہونا چاہیے ۔اسی اضافہ کے ساتھ یہ تحریر پہاڑی زبان ،اپنی ثقافت اور کلچرل سے پیار کرنے والوں کے نام تحریر خدمت ہے۔لوگوں میں جب اچھائی دیکھیں ۔تو اس کا پرچار کریں ۔تاکہ لوگوں کو اس سے جذبہ ملے ۔اور وہ بڑھ چڑھ کر نیکی کا کام کر سکیں ۔دوسرا جب آپ ان کے بارے میں لکھتے ہیں ۔جنہیں آپ جانتے نہیں ۔تو اس کو واقعی صدقہ جاری میں شمار کیا جائے گااگر ہم آزاد کشمیر کے اس خطہ کو دیکھیں تو سارا خطہ خوبصورت ہے ۔

چھ موسم میرپور ڈویژن انتہائی گرم اور نسبتاً کم سرد ،جبکہ مظفرآباد اور پونچھ ڈویژن میں سردی زیادہ نمایاں ہوتی ہے۔اس خطے کے لوگ گوجری،کشمیری،اردو اور پہاڑی بولتے ہیں۔گو کہ یہ لہجوں میں پہاڑی بولتے ہیں۔ ۔اور پہاڑی لہجہ ہر ڈویژن ،ضلع اور علاقہ کا دوسرے لہجوں سے اسے ممتاز کرتا ہے۔اور ماہرین لسانیات کے مطابق زبان کا لہجہ کچھ فاصلے کے بعد تبدیل ہوتا ہے۔اس علاقے کے لوگ علم و ادب کو فروغ دینے کیلئے بھی اپنی کوشش جاری رکھے ہوئے ہیں۔اور دیگر لوکل زبانوں کی طرح پہاڑی زبان میں بھی بہت کام ہورہا ہے۔۔اور پہاڑی زبان میں گزشتہ چند سالوں سے سیمینارز اور دوسرے پروگراموں میں ابھر کر سامنے آرہی ہے۔مجھے بھی اس بات کی خوشی ہیکہ میں بھی اپنی مادری زبان کے حوالے سے کچھ لکھ رہا ہوں ۔جو میرے لئے میرا فرض عین ہے اور اس دھرتی کا قرض ہے۔

پہاڑی زبان اب ترویج کی منازل کیطرف جاری ہے۔اور اب لکھنے کا کام بھی اس زبان میں شروع ہو گیا ہے ۔جو خوش آئیند بات ہے ۔ویسے پہاڑی زبان دنیا کے ہر ملک میں بولی جاتی ہے ۔کیونکہ ہر خطہ میں پہاڑی بولنے والے کسی نہ کسی طرح موجود ہیں۔خواہ وہ روزگار کا سلسلہ ہو یا کوئی اور سلسلہ ہو۔اور اب ضرورت اس امر کی ہیکہ ہمارے لوکل پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو بھی اس کی طرف توجہ دینا ہو گئ۔آج کی کہانی میری ذہن میں اس وقت آئی ۔جب صبح پہاڑی زبان کا مضمون روزنامہ تلافی کے سرورق سے میری نظر سے گزرا۔اخبار “روزنامہ تلافی”نے پہاڑی زبان کی ترویج کیلئے احسن اقدام اٹھایا ہے۔اس پر مسعود حنیف صاحب چیف ایڈیٹر “روزنامہ تلافی” اور ان کی ٹیم بھی بڑے احسن انداز سے پہاڑی زبان کی ترویج کیلئے اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔

جس پر وہ مبارک باد کے مستحق تھے۔ہم انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔خطہ راولاکوٹ آزاد کشمیر کے دوسرے اضلاع سے مختلف ہے۔میرا تعلق باغ سے ہے۔اور مظفرآباد سے بھی۔لیکن سچ یہ ہیکہ ہر نئی چیز( Innovation)راولاکوٹ سے شروع ہوئی۔آپ ایف ۔ایم ریڈیو کو دیکھیں۔سوشل میڈیا پر ماسیرازم کی جدت کو دیکھیں۔بہت سی مثالیں ہیں۔اپنے ان بھائیوں کی سچی تعریف کرنے کی۔پچھلی دنوں ڈاکٹر صغیر صاحب جو پہاڑی شاعر ہیں.ان سے ملاقات ہوئی۔وہ بھی اسی خطہ سے تعلق رکھنے ہیں۔پہاڑی زبان کے حوالے سے اہم خدمات سر انجام دے رہے ہیں ۔یقینا مبارکباد کے مستحق ہیں ۔وہ بہت سی کتابوں کے مصنف ہیں ۔اور پہاڑی زبان کو انہوں نے جان دی۔لیکن اگر پہاڑی بولنے والے اپنا وقار بلند کرنا چاہتے ہیں ۔

تو ہمیں ڈاکٹر صغیر اور مسعود حنیف جیسے لوگوں کی ضرورت ہے ۔محترم مسعود حنیف کی طرف سے یہ آفر ہیکہ ہم پہاڑی میں لکھنے والوں کی سرپرستی کریں گے ۔اور روزنامہ تلافی” ان کیلئے حاضر ہے۔بات ہورہی تھی ۔پہاڑی ادب اور شاعری کے فروع کیلئے معروف پہاڑی شاعرمحمد حمیدکامران بہت اہم کردار ادا کررہے ہیں۔اور آزاد کشمیر کے اندر پہاڑی کچر اور زبان کو زندہ رکھنے کیلئے ایک مثالی کردار ادا کر رہے ہیں۔کھیل اور سکاؤٹنگ کی دنیا نیشنل لیول کے کوچ اور ہاکی پلیئر (ر) فزیکل ایجوکیشن ٹیچر محمد زبیر خان فرام دریک راولاکوٹ سے تعلق ہے۔اور حال ہی میں ریٹائرڈ ہوئے ہیں۔لیکن اس کے باوجود بھی وہ کھیل اور سکاؤٹنگ کیلئے اپنا اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔راولاکوٹ میں یونیورسٹی آف پونچھ تعلیم کے شعبے میں ایک اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ڈاکٹر عبدالرؤف رجسٹرار یونیورسٹی آف پونچھ اور پروفیسر میڈم ڈاکٹرنگہت یونس صاحبہ یونیورسٹی آف پونچھ تعلیم کے شعبے اور اس کے ساتھ ساتھ خدمت خلق میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

خواتین کی تعلیم اور سکاؤٹنگ میں محترمہ ریحانہ شاہ ڈویژنل ڈائریکٹر ایجوکیشن سکولز پونچھ کا کردار ہمیشہ سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔خطہ راولاکوٹ کی سرزمین زندگی کے ہر شعبہ میں کردار ادا کررہی ہے۔بانی صدر سردار ابراہیم خان،معروف سفارت کار سردار مسعود،تسنیم اختر،فوج میں جنرل عبدالعزیز،مذہبی سکالرز میں مولانا سعید یوسف ،خدمت خلق میں محترمہ نجمہ شکور,علم دوست شخصیت ڈاکٹر خواجہ ظفر اقبال اور ان کے بھائی خواجہ مظہر اقبال، ادب کی دنیا میں شکیلہ تبسم شاعرہ،افسانہ نگار اور کالم نگارہیں۔اور اس کے علاؤہ پاکستان اور آزاد کشمیر کی بیوروکریسی،ادب اور دیگر شعبوں میں ان گنت شخصیات ہیں۔تحریک آزادی کشمیر میں بھی اس خطہ راولاکوٹ کا اہم کردار ہے۔پونچھ کا جو اصل خوبصورتی کا محور ہے ۔وہ اب انڈیا کے پاس ہے۔تحریک آزادی کشمیر کے حوالے کلیم اختر اپنی تصنیف( شیر کشمیر)میں لکھتے ہیں ۔

اس طرح پونچھ میں تحریک کو جاری کرنے کےلئے کوششیں شروع کردی گئیں۔وہاں پر پہلے ہی اس کارخیر کو چند باہمت نوجوان ،جس میں صوبیدار خان محمد خان،مولانا غلام حیدر جنڈالوی،فتح محمد کریلوی اور ان کے رفقاء قابل زکر ہیں،سرانجام دے رہے تھے اگر ہم سوشل میڈیا پر دیکھیں۔ تو سیاحت کے حوالے سے سوشل ایکٹوسٹ اپنے سوشل پیچ”ثوبیہ عمران “سے خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔جموں وکشمیر ٹی ۔وی(خواجہ کبیر) سے پہاڑی پروگرام ہوں ،خدمت خلق ہو یا بیرونی ممالک سے مسئلہ کشمیر کی آواز.اس خطے کے لوگوں کا نام ہمیشہ سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔خدمت خلق میں اس سرزمین کے سپوت سردار طاہر رفیق بانی پیپلز انٹرنیشنل جو بیرون ملک کنیڈا میں ہوتے ہیں۔ایک بہت بڑا نام ہے۔میڈم شاہین کنول (راولاکوٹ)جو ایک سیاسی اور سماجی رہنماء ہیں۔انہوں نے سیاست اور سماجی خدمات کے پلیٹ فارم سے خواتین کے اندر شعور اور آگاہی کے حوالے سے کام کیا ہے اور ابھی تک کررہی ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ وہ بچوں اور بچیوں ماڈرن ایجوکیشن کے حوالے سے بھی اہم کام کررہی ییں۔راقم نے بھی سیاحت اور پہاڑی زبان پر زبان ٹی وی انٹرنیشنل یوایس اے کے پلیٹ فارم پر جب کام کرنا شروع کیا تھا ۔تو زیادہ تر ترغیب راولاکوٹ کے دوستوں اور سی ۔ای۔او زمان ٹی وی یوایس اے انٹرنیشنل خورشید الزمان عباسی صاحب سے ہی ملی ۔بات ہو تحریک آزادی کی،حقوق کیلئے ہڑتال کی ۔تو یہ حظہ ہمیشہ سب سے آگے رہا ہے۔اور مجھے امید ہیکہ جس طرح راولاکوٹ میں پہاڑی زبان کی ترویج کیلئے کام ہورہا ہے۔اس کے اثرات دوسرے اضلاع میں منتقل ہوں گے اور کچھ ہورہے ہیں ۔ہم سب پر یہ زمہ داری عائد ہوتی ہے ۔کہ ہم اس زبان کی ترویج کیلئے اپنا کردار ادا کریں ۔جزاک اللہ خیرا کثیرا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں