مجھے اس جہنم سے نکالو

56

تحریر :محمد عمران
یہ جملہ میری سماعت پہ بار بار دستک دے رہا ہے اور جب سے میں نے اسے سنا ہے میرا دل پھٹا سا جا رہا۔یہ جملہ اس بہادر لڑکی نے 24 سال کے بعد اپنی پہلی ملاقات میں بارہا مرتبہ دہرایا۔میرا ضمیر اس بات پہ مجھے ملامت کر رہا ہے کہ میں یہ اقرار کروں کہ “ہم خطا کار ہیں”۔کل قیامت کے دن جن لوگوں کو اللہ تعالی کے حضور مظلوم پر ہونے والے ظلم کی پاداش میں پیش ہونا پڑے گا ان کرداروں میں کہیں تیرا میرا نام بھی ہو گا۔ہماری بدقسمتی سمجھ لیں کہ ہم نے 75 سالوں میں ظالموں کے ظلم ،دہشتگردوں کی دہشتگردی اور جابروں کے جبر کو ملی نغموں،ترانوں اور نظموں کے ذریعے ہی روکنے کی کوشش کرتے رہے بجائے اس کے کہ ہم کسی انٹرنیشنل فورم پہ آواز بلند کرتے۔ایک ایسی ہی نظم جو کہ میں بچپن سے سنتا آیا ہوں
ظلم تجھ پر بڑا ظالموں نے کیا
استقامت کو تیری سلام عافیہ
قید میں غیر کے اپنی عزت رہے
قوم کی ہوتی پامال حرمت رہے
شرم والوں کا سر شرم سے جھک گیا
استقامت کو تیری سلام عافیہ

میں جب ان نظموں،ملی نغموں اور ترانوں کو سنتا ہوں تو مجھے ایسا لگتا ہے کہ ہم نے ان نظموں،ملی نغموں اور ترانوں کے علاوہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی اور کشمیر کے لیے کیا کیا ہے؟ہم کیسے بے حس لوگ اور قوم ہیں ؟کل قیامت کے دن اللہ تعالی کی بارگاہ میں کیا منہ لیکر جائیں گے؟میرے سمیت ہم سب اس سوال کے بارے میں بڑے متجسس ہیں کہ قیامت کب آئے گی؟ماسوائے اللہ تعالی کی ذات کے کوئی نہیں جانتا ۔مگر مجھے لگتا ہے یہ جملہ جس جس پل میں ادا ہوا وہ قیامت کے منظر سے کم نہ تھا۔یہ جملہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے اپنی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی سے اپنی حالیہ ہونے والی ملاقات میں بارہا دہرایا ۔یہ ملاقات 24 سال بعد پہلی اور گھر کے کسی بھی فرد سے ہونے والی واحد ملاقات تھی۔ڈاکٹر عافیہ صدیقی جو کہ امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر فرورتھ کی جیل ایف ایم سی کارس ول میں قید ہیں۔ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے لاغر،کمزور و ناتواں،سامنے کے دانت گر چکے ہیں اور سر میں ظلم و ستم سے چوٹ کھانے کے عوض قوت سماعت بہت کم رہ گئی۔اس مسلم بیٹی پہ وہ ملک ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھائے ہوئے ہے جو ملک خود کوانسانی حقوق کا سب سے بڑا علمبردار کہتا ہے۔یہ سارے قانون،اصول اور ضابطے انہوں نے کسی اور دنیا کے لیے بنا رکھے ہیں خود ان پہ یہ لاگو نہیں ہوتے۔یہ سب اصول اور ضابطے انہوں نے ان لوگوں کے لیے بنائے ہیں جو انکے ذہنی غلام ہیں۔

ڈاکٹر عافیہ!ہم آپ سے یہ وعدہ کرتے ہیں کہ آواز اٹھائیں گے،احتجاج کریں گے،پوسٹر اٹھائے ہوئےسٹرکوں پرنکلیں گے،لانگ مارچ بھی کریں گے،انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی کچھ دن سرگرم ہونگیں،ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ سب سے بڑا جنازہ بھی آپ کا ہو گا،ہم جو ابھی تک زندہ ہیں ہم وعدہ کرتے ہیں کہ ہم سے ہو سکا تو ہم آپ کا مزار بھی بنا دیں گے اور سالانہ عرس بھی منعقد کروائیں گے مگر ابھی نہیںابھی ہم لوگ مریم نواز،آصفہ بھٹو اور بشریٰ بی بی کی خاطر حالتِ جنگ میں ہیں۔ہم فی الحال اپنی سیاسی اناؤں کو پروان چڑھا کر اپنے لوگوں کو یہ بتانے میں مصروف ہیں کہ کیسے مریم نواز نے فرائنگ پین سے جیل میں کپڑے استری کیے۔۔۔۔ہم یہ بتا رہے ہیں کہ سلیمان شاہ کی بیٹی گرفتار ہو گئی ہے.ہمیں یہ غم بھی کھائے جا رہا کہ کہیں بشریٰ بی بی کا تقدس پامال نہ ہو جائے۔اس لیے ہم ان مصروفیات کی وجہ سے کسی بھی فورم پر آپکے لیے آواز اٹھانے سے قاصر ہیں۔

جن تک تم زندہ ہو اپنا مقدمہ خود لڑو،تمہارا خاندان لڑے یا چند مخلصین جو آپ کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔ہم اس انتظار میں ہیں کہ کب سسک سسک کر تمہاری جان نکلے اور پھر ہم آواز بلند کریں احتجاج ریکارڈ کروائیں،لانگ مارچ کریں تاکہ ہماری سیاست چمک سکے۔آپ کا مزار بنائیں گے وہ بھی اس شرط پر کہ تمہاری باقیات وطن پہنچ گئیں۔۔۔ڈاکٹر عافیہ کا یہ بیان انسانیت ہونے کے ناطے انسان کے رونگھٹے کھڑے کر دیتا ہے کہ”میری ماں! اگر میری موت واقع ہو جائے تو میرے لیے نہ رونا،قیامت کے دن میں نبی مہربان کے قدموں میں بیٹھ کر ان کی خدمت میں ان پاکستانیوں کے خلاف مقدمہ درج کروں گی کہ جو بہن فروش اور دختر فروش تھے۔”

ہماری سیاسی جماعتیں اپنی سیاسی اناؤں کی وجہ سے ملک کو اس نہج پہ لے جا چکی ہیں کہ کسی بیرونی دشمن کو کسی سازش کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔خدا راہ میری سب سے اپیل ہے کہ ملک و قوم کی اس بیٹی کے لیے ہر جگہ ہر انٹرنیشنل فورم پہ آواز اٹھائیں،ہو سکے تو دارالخلافہ تھوڑی سی حرکت کرے تو یہ کام مشکل نہیں ہے۔اللہ سوہنا ڈاکٹر عافیہ صدیقی پر اپنے خاص رحم و کرم کریں کیونکہ فقط اسی ذات کے رحم و کرم کی اشد ضرورت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں