تحریر: صائمہ ممتاز
تحقیق ہو یا تنقید دونوں اپنے تئیں کٹھن عمل ہیں۔ کسی چیز کی کھوج لگانا بھی آسان نہیں اور کھرے کھوٹے کی پہچان بھی انتہائی جاں گسل کام ہے۔ ادب میں تحقیق اور تنقید دو الگ الگ شعبے ہیں مگر ایک دوسرے کے لیے جزوی لا ینفیک کی حیثیت رکھتے ہیں۔ عہد حاضر میں سچے اور کھرے ناقدین اور محققین کا قحط ہے ۔ برق رفتاری سے کام تو ہو رہے ہیں لیکن معیار گھٹتا جا رہا ہے۔ یہ ہمارا ادبی المیہ بھی ہے اور لمحہ فکریہ بھی۔ لیکن پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں جہاں محض ستائش کی تمنا والے لوگ موجود ہیں وہاں کل وقتی کھرے ادیب بھی موجود ہیں جو دنیائے ادب میں علم و دانش کے چراغ فروزاں کیے ہوئے ہیں۔ ان میں ایک نام جمیل احمد عدیل صاحب کا بھی ہے ۔جمیل احمد عدیل کل وقتی نثار و ادیب ہیں آپ بیک وقت شاعر، افسانہ نگار ،کالم نگار، خاکہ نگار، انشائیہ نگار ،سفرنامہ نگار، تنقید نگار ،محقق، مؤلف، مدیر، معلم اور خوبصورت و خوب سیرت انسان ہیں۔ آپ کی تاحال 34 کتب زیور طبع سے آراستہ ہو کر ارباب علم و فن سے داد و تحسین پا چکی ہیں۔ ان کی تازہ کتاب” تفکیر” 23 تنقیدی مضامین پر مشتمل ہے ۔زیر نظر کتاب اکتوبر 2023ء میں دھنک مطبوعات کے زیر اہتمام شائع ہوئی اس کا انتساب عہد حاضر کے ممتاز ادیب و شاعر جناب اکرم کنجاہی کے نام کیا گیا ہے۔
جبکہ محمد حمید شاہد اور ڈاکٹر وحید الرحمن خان نے اس کتاب میں ف فلیپ رقم کیے ہیں۔ موضوع کے اعتبار سے اس کتاب کو دو حصوں میں منقسم کیا جا سکتا ہے۔ اول حصہ میں اجتماعی نوعیت کے وہ مضامین شامل ہیں جن میں کسی ادبی شخصیت کی فکر و فن اور ان کی متنوع تخلیقات کو موضوع بنایا گیا ہے۔ جبکہ حصہ دوم میں انفرادی نوعیت کی وہ مضامین شامل ہیں جن میں کسی مصنف کی کسی ایک تخلیق، تحریر، کتاب یا فن پارے کو موضوع بنایا گیا ہے ۔اول الذکر نوعیت کے مضامین کے زمرے میں مذکورہ کتاب میں شامل مضامین” نصیر احمد ناصر کا سخن زار ۔طائرانہ نظر”،” عاشق تکلیم ۔قیوم صبا” اور “شفیق ایک عمیق شاعر” دیکھے جا سکتے ہیں جبکہ باقی مضامین موخر الذکر نوعیت کے ہیں۔ جن میں” ن ۔م۔راشد کی نظم :دریچے کے قریب ۔ایک جائزہ “،”یہ قصہ کیا ہے معنی کا۔ تعارفی تحریر”،” اردو ادب: ماحولیاتی تناظر ۔فکر افروز تصنیف “،”فکشن اور معاصر اردو فکشن: چند نظری اشارے”،” نئے نقاد کے نام خطوط ازڈاکٹر ناصر عباس نیر “اور دیگر شامل ہیں ۔زیر مطالعہ کتاب میں بعض کتب پر تفصیلی گفتگو کی گئی ہے جبکہ بعض کتب پر مختصر تبصرے شامل اشاعت ہیں۔
علاوہ ازیں کتاب کے آخر میں خاصہ طویل مصاحبہ بھی شامل ہے جس میں گلزار جاوید سے جمیل احمد عدیل کی پرمغز گفتگو قاری کے ذہنی افق پر جمیل احمد عدیل کے نظریات اور فکر کی گہری چھاپ چھوڑ دیتی ہے ۔ پیش نظر کتاب کا اولین مضمون” ن۔م۔ راشد کی نظم :دریچے کے قریب ۔ایک جائزہ” کے عنوان سے ہے۔ عنوان سے ہی ظاہر ہے کہ اس کا موضوع نذر محمد راشد کی ایک نظم کا تنقیدی و اجمالی جائزہ ہے ۔مذکورہ نظم کو جمیل احمد عدیل نے نہ صرف عملی تنقید کی کسوٹی پر پرکھا ہے بلکہ راشد کے ہاں نظام معنی اور جہان معنی کا سراغ بھی لگایا ہے ۔مذکورہ مضمون میں راشد کی شاعری کے موضوعات اور نظموں میں مرقوم اہم مباحث، تصورات و نظریات پر روشنی ڈالی گئی ہے جس سے قارئین کے لیے نہ صرف راشد کے فن اور شخصیت کو سمجھنے میں آسانی پیدا ہو گئی ہے بلکہ جمیل احمد عدیل کا تنقیدی نکتہ نظر بھی واضح ہو گیا ہے۔ پیش نظر کتاب کا مضمون “یہ قصہ کیا ہے معنی کا :تعارف تحریر” اس لیے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ اس کا موضوع عہد حاضر کے معتبر نقاد ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی تصنیف “یہ قصہ کیا ہے معنی کا “ہے ۔جمیل احمد عدیل نے اس کتاب پر سیر حاصل گفتگو کی ہے ۔ان کے مطابق یہ کتاب دو حصوں عملی اور نظری تنقید پر مشتمل ہے۔ مذکورہ کتاب کے موضوعات پر تبصرہ کرتے ہوئے موصوف رقم طراز ہیں ۔
“اس کتاب کے تاحال مطالعے تک ان کا ایک مضمون بھی ایسا نہیں ملا جو فکری جہات سے تہی ہو اور رسمی و متداول اظہار کا ترجمان ہو ۔ڈاکٹر صاحب کا طغرائے امتیاز ہی متن کو مختلف بصارت سے دیکھ کر نئی بصیرت کو فروغ دینا ہے ۔ مصنف نے موضوعاتی ندرت، فکری جدت اور دروبست کی لطافت کو پیہم رکھتے ہوئے قاری کی نظر شوق کو ان تینوں” تالوں” پر ہر لحظہ مرکوز رہنے کے لیے پابند کر لیا ہے ۔”
المختصر! مذکورہ کتاب کا ہر ایک مضمون اپنے اندر معلومات کا خزینہ لیے ہوئے ہے ۔ کسی بھی موضوع پر لکھتے ہوئے جمیل احمد عدیل کا قلم رواں اور اسلوب شستہ ہو جاتا ہے۔اعلی طرز بیان کے تمام رموز سے واقفیت رکھتے ہیں۔کسی فن پارے یا موضوع پر خامہ فرسائی کرنے سے پیشتر اس کے متعلق مکمل آگاہی حاصل کرلیتے ہیں۔ انتہائی سوچ بچار،ژرف نگاہی،وسیع مطالعہ اور تنقیدی بصیرت کو بروئے کار لا کر اعلیٰ تحریر صفحہ قرطاس پر منتقل کر دیتے ہیں۔ جمیل احمد عدیل صاحب اسلوب نثر نگار اور اسم با مسمی شخصیت ہیں ۔نام کی طرح شخصیت بھی جمیل ہے اور اسلوب بھی جمیل۔ مجھے قوی امید ہے کہ ان کی دیگر کتب کی طرح یہ کتاب بھی ادبی دنیا میں ممتاز اور منفرد مقام حاصل کرے گی۔