امریکہ اسرائیل کا ہاتھ روکے۔ سردار طاہر تبسم

98

اسلام آباد(سٹیٹ ویوز) عالمی امن اور انسانی حقوق کی متحرک تنظیم انسٹی ٹیوٹ آف پیس اینڈ ڈیویلپمنٹ انسپاڈ کے صدر اور سفیر امن ڈاکٹر سردار محمد طاہر تبسم نے کہا ہے کہ امریکہ نے اسرائیل کے ہاتھوں فلسطینی عوام کا قتل عام نہ روکوایا تو امریکہ کی اپنی حیثیت ختم ہو جائے گی۔ غزہ میں فوری سیز فائر اشد ضروری ہے۔ فلسطینی عوام کو مسلمان ہونے کی اتنی کڑی سزا نہ دی جائے۔ اس وقت اقوام متحدہ اور مسلم ممالک کے بیانات یا پریس کانفرنسز کی نہیں بلکہ فوری طور پر غزہ میں سیز فائر کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔

ایک بیان میں سردار طاہر تبسم نے کہا ہے کہ اگر بڑی طاقتوں نے اسرائیل کو قتل عام کی کھلی چھٹی دہئے رکھی تو مسلم ممالک بھی جان لیں کہ وہ بھی کل محفوظ نہیں رھیں گے۔ اقوام متحدہ اور امریکہ کا کردار مشکوک ہو رہا ہے ان پر آئندہ کوئی اعتماد نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہااگر اسرائیل کسی کی نہیں سنتا تو اس پر سخت ترین پابندیاں کیوں عائد نہیں ہو رہئی۔ او آئی سی ممبر ممالک اسرائیل کا مکمل بائیکاٹ کرکے اپنی غیرت ایمانی کا ثبوت دیں۔

انسپاڈ کے صدر نے کہا کہ فلسطینیوں کو اس وقت محض بیانات اور وعدوں کی نہیں بلکہ اسلامی ممالک کی عملی مدد کی ضرورت ہے اس سے زیادہ مشکل وقت کیا ہو گا کہ امریکہ اور اسرائیل پوری دنیا کی بات نہیں مان رئے اور مظلوم عوام کا قتل عام کر رئے ہیں جو 78 سال سے ظلم کی چکی میں پس رئیے ہیں اور انہیں عالمی فورم پر حق خود ارادیت کی یقین دہانی کرائی گی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر غزہ میں سیز فائر نہ کرایا گیا تو اس جنگ کے پھیلنے کو روکنا مشکل ہو جائے گا۔ اور کئی ممالک اس کی زد میں آئیں گے۔

سلامتی کونسل میں سیز فائر کی قرارداد منظور ہونے کے باوجود اسرائیل کا غزہ پر زمینی، ہوائی اور سمندری حملے انسانیت کی تذلیل، دھشت گردی اور عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔غزہ میں سات ہزار سات سو افراد کی شھادت اور سب بڑی عمارتوں کی تباہی مسلم ممالک کے منہ پر طمانچہ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں