باغ، صحافت، سیاست اور لوکل کیمیونٹی

57

آتالیق: باسط علی
پونچھ ڈویژن کا ضلع باغ کشمیر کا ایک تاریخی مقام ہے۔ جس نے بے شمار سیاسی و سماجی شخصیات پیدا کی ہیں۔ مزاحمت کار ہوں، آزادی کشمیر کے سرخیل مسلح و غیر مسلح مجاہدین ہوں یا ادبی و علمی کردار ہوں باغ کی سرزمین ایسے شاہکاروں کی پیداوار میں کافی زرخیز رہی ہے. قریباً ساڑھے چار لاکھ سے زائد آبادی پہ مشتمل یہ ضلع، خوب صورت سیاحتی مقامات، پر فضاگھنے جنگلات اور بے شمار چھوٹے بڑے ندی نالوں سے مزین ہے۔ دور حاضر میں سیاسی اور صحافتی حلقوں میں شدید بحران سے زرخیز زمین بنجر دکھائی دے رہی ہے۔ صحافت پہ تنقید سے کچھ دوست شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہیں لیکن اس گستاخی کا آزالہ کرنے کے لئے ہر الزام کےدلائل اور ثبوت پیش کرنے کی کوشش کروں گا۔ یوں تو باغ میں خودساختہ بے شمار اہل قلم ہیں جن کے پاس صحافت کا لائنسس بھی ہے۔ نام کے ساتھ فخریہ انداز میں جرنلسٹ بھی رقم کرتے ہیں اور جانی پہچانی شخصیات سے خود کو تشبیع دینا بھی فرض عین سمجھتے ہیں لیکن مجال ہے کہ ان صحافتی سرگرمیاں خوشامدی کےخصار سے راہ فرار اختیار کرنےکی جسارت کرسکیں۔ بیکریوں میڈیکل، اسٹوروں، کریانہ کی کمرشلائزیشن کروانی ہو تو یہ کردار آپ کو پیش پیش دکھائی دیں گے۔ نئے آنے والے ڈی سی، اے سی، ڈی ایس پی، پٹواری،ایم ایل اے، وزیر مشیر ان کے چپڑاسی وغیرہ کے آنے پہ مبارکباد،جی آیاں نوں، ویلکم اور جانے پہ خداحافظ،گڈ باۓ کی پوسٹس اور اخباری سرخیاں چھاپنا نہ صرف ان کا پسندیدہ مشغلہ ہے بلکہ فرض عین ہے۔ جس کی قضا کرنا گناہ کبیرہ کرنے کے مترادف ہے۔

لیکن جب معاشرتی برائیوں، نا انصافیوں، بدعنوانیوں، عوامی مسائل سے پردہ اٹھانے کا وقت آتا ہے تو یہی سچ کے حامی، قلم کار، اہل علم و دانش، قلم کے ذریعے معاشرتی برائیوں کی عکاسی کرنے والے اور مصلحَ معاشرہ یا تو کوما میں چلے جاتے ہیں یا دنیا فانی سے کنارہ کش ہو کر تنہائی میں گوشہ نشین ہو جاتے ہیں۔ ایک عوامی مرکز میں عوام کو سہولتیں نہ ملنے پہ سویلین سراپاۓ احتجاج تھے۔ دوسری طرف ایک جانے مانے صحافی بھائی اسی ادارے کے سربراہ کے قصیدہ خوانی میں محو تھے۔ حسن اتفاق دیکھۓ دونوں پوسٹس جو ادارے کے خلاف تھی اسی کے کچھ دیر بعد اس اہل قلم کی قلمی صفائی ملزم کے دفاع کے لۓ برسرپیکار نظر آئی۔ یہی نہیں دوسال سے عوام آٹے سے محرومی کا رونا رو رہے ہیں۔ اس بدعنوانی کی تحقیقات کو منظر عام پہ لانے کی جسارت تاحال کسی بھائی سے سرذد نہ ہوسکی۔
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کے باوجود ٹرانسپورٹرز نے کرایہ کم نہ کیا۔ دیگراضلاع اور باغ کے فی کلومیٹر کرایوں کاموازنہ کیا جاۓ تو ایک بڑا واضح فرق نظر آۓ گا۔ لیکن ضلع ہذا کی انتظامیہ نے فی الوقت اس تردد سے گریز کیا۔ کل دھیرکوٹ میں ایک بچہ اچانک طبعیت خراب ہونے کے باعث وفات پاگیا۔ بعد میں تحقیقات سے پتا چلا کہ بچے کو بازار سے کھلا دودھ خرید کے پلایا گیا تھا۔ پتا نہیں کب سے زہر ملا دودھ شہر میں فروخت ہو رہا ہے۔ فوڈ اتھارٹی اس موت کے کاروبار کو نہ روک پائی۔

سکولوں کالجز کا ذرا دورہ کر کے دیکھیں آپ کو لوکل زہر آلو پاپڑوں سمیت بے شمار ممنوعہ کیمیکلز اور فوڈ اڈیٹیو ملی بچوں کی مصنوعات ملیں گی۔ لیکن ان بیماریوں کے سوداگروں کو کون لگام ڈالے گا؟بجلی کی لوڈشیڈنگ نے کاروبار اور روزمرہ زندگی کو بہت متاثر کیا اس پہ کوئی بازگشت سنائی نہ دی۔ 2021 میں برسر اقتدار آنے والے امیدوار باغ کو سیلیکون ویلی بنانے کا منشور لے کر آۓ تھے لیکن دو سالہ سیاسی رسہ کشی سے ہی فرصت نہ مل سکی۔ بل آخر اقتدار کی مسند سے ہاتھ دھونے کے بعد آئندہ باری کے انتظار کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب کھلاڑی کپتان سے وعدہ وفا نہ کر سکے۔ لیکن ترقیاتی کاموں پہ بھی ذرا بھر پیش رفت نہ ہو سکی۔ لگتا ہے ادھر بھی عوام کو اگلے پانچ سال کا لارا ہی لگایا جاۓ گا۔ نئے نئے وزیر بننے والے نوجوان سے عوام الناس کی کافی امیدیں وابستہ ہیں۔ اپنےسیاسی مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوۓ عوامی فلاح کے لئے کام کرنا ان کے لئے ناگزیر ہے۔ ضلع بھر میں منشیات کا دھندہ بام عروج پہ ہے۔جس کے اثرات عدم برداشت اور بڑھتے ہوۓ جرائم کی صورت میں سامنے آرہے ہیں۔ اس کے انسداد کے لئے لوکل کیمیونٹی اور انتظامیہ کو مل کر کام کرنا ہو گا۔ باغ، کے عمران ریاض خان، اقرارالحسن، حامد میر وغیرہ کو بھی خوشامدی کے بجائے مزاحمتی کردار اپنانا ہو گا۔ معاشرتی برائیوں، بدعنوانیوں، ریشوت، سفارش اور ناانصافی کو اجاگر کرنا اہل قلم و اہل دانش کا اولین فریضہ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں