تحریر:محمد لطیف لون
پاکستان اللہ کی کتنی بڑی اور انمول نعمت ہے اور اس کا حصول کتنا کٹھن تھا اس کا اندازہ صرف وہ لگا سکتے ہیں جن کے پورے کے پورے خاندان، املاک، جائیدادیں حتی کے ان کی نسلیں بھی صحفہ ہستی سے مٹا دیں گئیں یا اس نعمت خداوندی کا اندازہ ان کشمیریوں کو ہے جنھوں نے نہتے ہونے کے باوجود ایک طویل لڑائی انڈین آرمی کی بد ترین ریاستی دہشتگردی کے باوجود لڑی، ہزاروں لاکھوں آج بھی اپنی قیمتی ترین جانوں اور خاندانی جائیدادوں کی قربانی دینے کے بعد آذاد خطے میں اس آس اور امید پر زندگی کے دن گزار رہے ہیں کہ کبھی تو اس طویل کالی اور ہولناک شب کی سحر ہو گی اور کشمیری اپنی آذادی اور تکمیل پاکستان کے اس عظیم خواب کو اپنی آنکھوں سے شرمندہ تعبیر ہوتے دیکھیں گے.
14 اگست 2024 یوم پاکستان کے یوم آذادی کی مناسبت سے سابق وزیر اعظم سردار تنویر الیاس خان صاحب کی کال پر “ہم ہیں پاکستان” کے نام سے بہادروں، غازیوں و شہیدوں کی سر زمیں ضلع پونچھ راولاکوٹ میں ایک شاندار جلسے کا انعقاد کیا گیا ۔جلسے میں دوسرے اضلاع سے کثیر تعداد میں لوگ شریک ہوئے ۔جن میں مہاجرین جموں کشمیر کی تعداد نمایاں تھی۔ میں اتنے بڑے اور عظیم الشان جلسے کے سٹیج پر بیٹھا ماضی کے دکھوں اور مستقبل کے سہانے خوابوں کے تصور میں محو تھا، آج مجھے یہ اعتراف بھی کرنے دیں کہ ریاست کے وزیراعظم کی حیثیت سے اور وزارت عظمی کے بعد بھی اس درویش منش شخصیت قائد کشمیر سردار تنویر الیاس خان نے جس اپنائیت، خلوص، ہمدردی اور عمدہ برتاو کا مظاہرہ مہاجرین جموں کشمیر کے ساتھ کیا اس کی دوسری مثال دینے سے میں قاصر ہوں.
ہماری کمیونٹی کی فلاح و بہبود اور ان کے معیار زندگی کو بہتر کرنے کے لیے قائد کشمیر کے عملی اقدامات نے ہماری سوسائٹی میں انہیں وہ مقام عطا کیا ہے جو شاید کسی اور کو نصیب نہیں ہو سکا۔ سابق وزیراعظم نے جب تحریک آذادی کشمیر میں قربانیاں دینے والوں کا ذکر کیا اور پار کے کشمیریوں کو یہ نوید سنائی کہ انشا اللہ ہم سب جلد آزاد ہو کر پاکستان کا حصہ ہوں گے تو بے ساختہ دل نےان کی زبان سے نکلنے والے کلمات کی صداقت کی گواہی دی ۔ پروگرام کے انعقاد کے بعد یہ بات عیاں ہوئی کہ حالات جیسے بھی ہوں ریاست جموں کشمیر کے دونوں اطراف کے لوگ پاکسان سے والہانہ عقیدت رکھتے ہیں ۔
یوں تو آذاد کشمیر کا بچہ بچہ سابق وزیر اعظم سردار تنویر الیاس خان کا دیوانہ ہے ۔لیکن مہاجرین جموں و کشمیر کی اکثریت اپنے محسن سردار تنویر الیاس خان صاحب کی عقیدت میں گرفتار ہے یہی وجہ ہے کہ مہاجرین کی بہت بڑی تعداد اپنے محسن کے حکم پر راولاکوٹ کے جلسے میں خصوصی طور پر شریک ہوئی ۔۔یہ جلسہ جہاں پار کے کشمیریوں کے لیے امید اور حوصلے کا باعث بنا وہیں پر منقسم ریاست کے دونوں اطراف کے کشمیریوں کا تجدید عہد بھی تھا جس میں پاکستان کے ساتھ خصوصی محبت، گہری وابستگی اورپاکستان کو اپنی حتمی منزل قرار دیا گیا۔
سردار تنویر الیاس خان نے ثابت کیا کہ وہ اس وقت واحد سیاسی رہنما ہیں جو موجودہ سیاسی افرا تفری کے حالات میں پاکستان اور کشمیری عوام کے درمیان ایک بہترین پل کا کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔۔مہاجرین جموں و کشمیر اپنے محسن کی ہر کال پر لبیک کہنے کے لئے ہمہ وقت تیار ہیں ۔۔مہاجرین جموں و کشمیر کی اکثریت نے ان کے پروگرام میں شریک ہو کر یہ واضع پیغام دیا کہ مہاجرین جموں و کشمیر اپنے محسنوں کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑے ہونے والے لوگ ہیں ۔۔مہاجرین جموں و کشمیر کی اکثریت مہاجر اتحاد فورم کی قیادت میں جلسہ میں شریک ہوئی ۔
کشمیری پاکستان سے بے پناہ عقیدت رکھتے ہیں ۔کشمیری تکمیل پاکستان کی خاطر 77 سالوں سے جانوں کا نذرانہ پیش کرتے آئے ہیں جو کہ ہنوز جاری و ساری ہے ۔اور انشا اللہ تعالی ایک دن کشمیر آذاد ہو کر پاکستان کا حصہ ضرور بنے گا ۔اس پروگرام میں سردار تنویر الیاس خان نے مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کے جذبات کی بہترین انداز میں ترجمانی کی ۔ میں بحیثیت چئیرمین جموں و کشمیر مہاجرین اتحاد فورم پروگرام کے جملہ منتظمین کو مبارک باد پیش کرتا ہوں ۔سردار تنویر الیاس خان اور مہاجرین جموں کشمیر کے درمیان قائم اس رشتہ کو مزید مستحکم کرنے پر میں سردار تنویر الیاس خان کے ریاست بھر میں ہزاروں کارکنوں اور انتظامیہ کمیٹی کو اور بلخصوص باغ کی نوجوان ٹیم کو مبارک باد پیش کرتا ہوں اور ان کا خصوصی شکریہ ادا کرتا ہوں ۔ اللہ تعالی ملک پاکستان کو سلامت رکھے ، مظلوم کشمیری مسلمانوں کو آذادی کی نعمت سے سرفراز فرمائے ۔
پاکستان زندہ باد ۔تحریک آزادی جموں و کشمیر پائندہ باد ۔