تحریر :طاہر احمد عباسی
14 اگست 2024 کو غازیوں شہیدوں کی تاریخی دھرتی راولاکوٹ کی سرزمین پر اس سے پہلے شاید اتنے دلفریب اور پرجوش مناظر کم ہی لوگوں نے دیکھے ہوں گے. وطن عزیز کے 77 ویں جشن آذادی پاکستان کی تقریبات کو ریاستی تاریخ میں پہلی مرتبہ اتنے بڑے لیول پر منایا گیا۔چند بنیادی نکات آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں کے جس کی وجہ سے ایک عرصے سے ہمارے غیر متنازعہ ایونٹس بھی عام عوام کی عدم توجہی کا شکار ہوے۔
حکومتی نااہلی، ریاستی عوام کو بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی ، میرٹ انصاف گڈ گورننس کے فقدان سیاسی قیادتوں کے پاس مسائل کے حل کے لیے کسی جامع پروگرام کا نہ ہونا. عوام اور پولیٹیکل ایلیٹ کے معیار زندگی میں فرق اور رابطوں کا فقدان، دن بدن بڑھتی ہوئی مہنگائی اور سہولیات کی عدم دستیابی،خراب معاشی حالات، میرٹ کی پامالی اور پڑھے لکھے نوجوانوں کی تعداد میں دن بدن اضافہ اور روزگار کے مواقع کا نہ ہونا اور ریاست کے قابل ترین نوجوانوں کی بڑی تعداد جو پوسٹ گریجویٹ ایم فل پی ایچ ڈی ریاست کے سسٹم سے مایوس ہو کر اپنوں سے کوسوں دور بیرونی ممالک میں روزگار کی غرض سے چلے جانا یہ وہ چیدہ چیدہ مسائل ہیں جن کی وجہ سے عام آدمی کا سیاسی قیادتوں اور ان کے کردار پر اعتماد کم ہوا ہے.
میرے آج کی ان سطور کا بنیادی مطلب و مقصد ان حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے ان مسائل کا باوقار اور مثبت حل تلاش کرنا ہے.گزشتہ سات دھائیوں سے اس کمزور اور لاغر ریاستی ڈھانچے میں اب مزید اتنی سکت نہیں ہے کہ مسائل کے اس طوفان کے سامنے وہ مزید اپنی پوزیشن برقرار رکھ ٹوٹل 45 لاکھ ابادی والا یہ خطہ ہنر مند افراد کی بہتات اور تمام قدرتی وسائل رکھنے کے باوجود سیاسی معاشی اور سماجی طور پر کبھی بھی اس مقام پر نہیں پہنچ سکا کہ جسے یہاں بسنے والے تمام افراد کے لیے موزوں قرار دیا جا سکے. آزاد کشمیر کی اہمیت اور حساسیت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا، مجاہدوں غازیوں اور دلیر لوگوں کی دھرتی آذاد کشمیر کے وارثوں پر اندرونی اور بیرونی فکری اور نظریاتی دراندازی کا سلسلہ اپنے نقطہ عروج پر ہے ڈیجیٹل تخریب کاری منظم منصوبے کے تحت کی جارہی ہے .
بدقسمتی سے ایوان اقتدار میں بیٹھے ہمارے اکثر سیاسی زعماء شاطر و عیار دشمن کی چالوں کو سمجھنے میں ناکام رہے۔
ان حالات میں جہاں منظم منصوبہ بندی کے تحت ریاست کے سب سے قیمتی اثاثے یعنی اس کے نوجوانوں کے معصوم ذہنوں پر ہر طرح سے وار جاری ہیں ، وہیں پر کسی مستند اور عوامی حمایت و تائید والے سربراہ کا حکومت میں نہ ہونا بہت بڑی اور اجتماعی بد نصیبی ہے.سیاسی جماعتوں اور ان کی لیڈرشپ کی کمزوریوں کی وجہ سے عام سیاسی کارکنان کا باہر نکل کر عوام سے رابطہ کرنا ان کے حقوق کی بات کرنا اب محال سمجھا جاتا ہے، لیکن میں ایک محب وطن پاکستانی کی حیثیت سے سابق وزیراعظم ازاد کشمیر سردار تنویر الیاس خان کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے اتنے سخت حالات کے باوجود سرزمین راولا کوٹ پر پاکستان کی یوم ازادی کے موقع پر ایک بڑا جلسہ کر کے ریاست بھر کے تمام سیاسی جماعتوں کے کارکنان کی لاج بھی رکھ لی اور انہیں اکسیجن فراہم کی.
کشمیریوں کے پاکستان کے ساتھ اس لازوال تعلق کہ جس کے لیے لاکھوں قربان ہو چکے، لاکھوں مہاجرت کے تمغے سجائے ازاد خطے میں عارضی پناہ گاؤں میں مقیم ہیں ۔جس ازاد خطے کے ہزاروں لاکھوں بیٹے مملکت خداداد پاکستان کے چپے چپے کی حفاظت کے لیے اور چاروں صوبوں سے ماوں کے قابل فخر سپوت آذادکشمیر کے بارڈرز پر دن رات محافظ کی صورت موجود ہیں، دنیا کی کوئی طاقت ان رشتوں میں دراڑ نہیں ڈال سکتی، ان ساری قربانیوں کے اعتراف میں “ہم ہیں پاکستان “جیسے عنوان سے جلسے کا انعقاد کر کے نہ صرف پاکستان سے تجدید عہد وفا کیا بلکہ یہ کہنا زیادہ موزوں ہو گا کہ سید علی گیلانی رحمہ اللہ، غازی ملت ، اور مجاہد اول کی ساری سیاسی جدوجہد اور ان کے افکار کی لاج بھی رکھی گئی ،ان کی روحیں اپنے اس قابل فخر سپوت کی وجہ سے آج ضرور سکون محسوس کر رہی ہوں گی. راولاکوٹ کا “ہم ہیں پاکستان” جلسہ درحقیقت جہاں پاکستان کے ساتھ کشمیریوں کی لازوال محبت کا عملی مظاہرہ تھا وہاں پر یہ شہداء کی قربانیوں اور ان کی پاکستان سے محبت کا اعتراف بھی تھا.
سابق وزیر اعظم آذادکشمیر سردار تنویر الیاس نے اپنے مختصر دور حکومت میں سیاسی کارکنان کی عزت و وقار میں اضافے کے لیے پاور پالیٹکس کرنے والوں ممبران اسمبلی کے دباؤ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے بلدیاتی انتخابات کروائے ،جہاں سربراہ ریاست کے طور پر بلدیاتی انتخابات کروانا انہوں نے اپنا پہلا قدم قرار دیا وہیں ، منتخب نمائندوں کو اختیارات اور فنڈز کا آج تک نہ ملنا بعد میں آنے والی حکومتوں کی ترجیحات کا ائینہ دار بھی ہے.یہ کہنا یقینا بجا طور پر درست ہو گا کہ ہم اگر ذاتی پسند و نا پسند کے خول سے باہر نکل کر سوچیں تو آپ کو احساس ہوگا کہ ان تمام تر مسائل کے حل کے لیے اس وقت آزاد ریاست جموں کشمیر کے اندر سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس سے بہتر انتخاب کوئی نہیں ہو سکتا.
شاعر نے شائد انہی کے بارے میں کہا
نگہ بلند سخن دلنواز جاں پُرسوز
یہی ہے رخت سفر میر کارواں کے لیے
جو شخص عوامی حقوق اور سیاسی قبیل کی بقاء کے لیے اپنا اقتدار تک قربان کرنے سے دریغ نہ کرے تین دہائیوں کے بعد ناممکن کو ممکن بناتے ہوے اپنی ریاست کی پولیس کی ہی سکیورٹی میں بلدیاتی الیکشن کروا کر دکھاے، سوچیں اس سے زیادہ ریاستی عوام اور سیاسی قبیل آذاد کشمیر کے اندر کس پر اعتماد کر سکتی ہے؟؟تمام سٹیک ہولڈرز کو ایک لڑی میں پرونے کے فن سے واقف سردار تنویر الیاس ایک مضبوط اور جامع معاشی پروگرام رکھتے ہیں. ہم نے 77 سالوں میں قبائل اور علاقوں کی بنیاد پر لیڈر پیدا کیے اور مسائل کے حل کی کوشش کی لیکن صورتحال آج ہمارے سامنے ہے۔
وقت متقاضی ہے کہ اب ہم عہد کریں اس دفعہ ہم پروگرام اور ویژن کی بنیاد پر انتخاب کریں گے میں ذمہ داری سے کہتا ہوں کہ سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان کو اگر مناسب وقت ملے تو ان 45 لاکھ لوگوں کا مقدر بدل سکتا ہے اور آزاد کشمیر کو ایک ماڈل ریاست بنا سکتا ہے، یہ سب ایک کنبے کی صورت بہترین معیار زندگی حاصل کر سکتے ہیں، سیاسی کارکنان کو ان کا کھویا ہوا مقام صرف یہی شخص لوٹا سکتا ہے.
بھمبر سے تاؤ بٹ تک عوام میں یکساں مقبول یہ شخصیت ہمارے لیے موجودہ گمبھیر حالات میں اللہ کی کسی بڑی نعمت سے کم نہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ اب سیاسی قبیل کو وسعت قلبی کا مظاہرہ کرے اور اپنی آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل کا خیال زہن میں رکھتے ہوے زیرک اور سنجیدہ فیصلہ کرے۔سابق وزیراعظم چونکہ پرائیویٹ سیکٹر میں بھی اپنا ایک خصوصی مقام رکھتے ہیں مقامی اور بین الاقوامی انویسٹرز ان کے ہمہ وقت اشارے کے منتظر رہتے ہیں ریاستی معاشی ترقی اور وسائل کے مساویانہ تقسیم پر جو قابل عمل نقشہ سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس کے پاس ہے باقی لوگ شاید ابھی اس تصور سے کوسوں دور ہیں.
ہمیں درپیش چیلنجز کا ادراک کرتے ہوئے اب یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ اگر ہم واقعی محب وطن ہیں اور اس ملک کے لیے اور اپنی انے والی نسلوں کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں تو ملک کی باگ ڈور اسی شخص کے ہاتھ دینا ہوگی جو ان طوفانوں سے نبردآزما ہونے کا حوصلہ، جرات اور صلاحیت رکھتا ہے جو نظریاتی اور فکری سرطان کے تدارک اور جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے ہنر سے آشنا ہو
دنیا کی جدت پسندی اور جدید ایجادات کے دور میں اب آپ پرانے اور بوسیدہ آلات اور افکار سے نہیں جیت سکتے
باوقار، معاشی طور پر خود کفیل اور لوگوں کا معیار زندگی بلند کرنے کے لیے آپ کو ان لوگوں پر بالاخر انحصار کرنا ہوگا جو سیاسی امور پر دسترس کے ساتھ ساتھ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تصور سے آشنا ہو ، عالمی سیاسی تغیر و تبدل پر جن کی نظر ہو اور وہ دو ایٹمی قوتوں کے درمیان سلگنے والی چنگاری کے رگ و پا سے واقفیت رکھتے ہوں اور سب سے بڑھ کر منقسم ریاست کے دونوں اطراف کے عوام کے لیے قابل قبول بھی ہوں، کیونکہ ماضی کے غیر دانشمندانہ فیصلوں کی وجہ سے ہمیں جن نقصانات سے دو چار ہونا پڑا ہے کم از کم بیس کیمپ مزید کسی تجربے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔